جسم فروشی کی جدلیات۔۔۔۔کامریڈ فاروق بلوچ

بروکٹن امریکہ کا شہر ہے جہاں امریکی سینٹ کے لیے خاتون امیدوار الزبتھ وارن نے الیکشن کی مہم جاری کی تھی۔الیزبتھ وارن وہاں سے کامیاب ہو کر سینٹ کی رکن بھی بن گئی تھیں، وہ معیشت کی پروفیسر بھی ہیں اور مضبوط استدلال کی لکھاری و مقرر بھی ہیں۔وہ امریکی معیشت کے بحرانوں اور اُس میں موجود تضادات کی بڑی ناقد بھی ہیں، بروکٹن میں انتخابی مہم کے جلسے میں ایک شخص نے اُنہیں گالیاں دیں اور “سوشلسٹ طوائف” بھی کہا۔

آج جب میں نے یہ واقعہ کہیں پڑھا تو اِس موضوع پہ لکھنے کی تحریک ملی کہ کارل مارکس طوائفوں کے بارے میں کیا سوچتا تھا؟ کارل مارکس جسم فروشی کے خلاف تھے اور وہ طوائفوں کو سرمایہ دارانہ نظام کا نشانہ بننے والا مجبور طبقہ سمجھتے تھے. مارکس نے “1844ء کے اقتصادی اور فلسفیانہ مسودات” میں جسم فروشی کو مزدوری کا مخصوص اظہار کہا تھا.

الزبتھ وارن

مارکس کی نظر میں سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے کا ایک ضروری حصہ جسم فروشی کا  خاتمہ بھی شامل ہے۔ کمیونسٹ مینی فیسٹو میں سوشلسٹ استادوں نے جسم فروشی کو بورژوازی نظام کا ایک جزو کہا اور اِن دونوں کے خاتمے کی پیشن گوئی کی تھی۔

فریڈرک اینگلز نے بھی جسم فروشی کو غیرانسانی قرار دیا، وہ سمجھتے تھے کہ اِس عمل کے دوران طوائف اور اُس کو استعمال کرنے والا مرد، دونوں انسانی مقام و مرتبہ سے گر جاتے ہیں۔اینگلز کے ادراک مطابق سرمایہ دارانہ نظام میں شادی بھی جسم فروشی سے کم نہیں ہے۔ “خاندان، ذاتی ملکیت اور ریاست کے آغاز” میں اینگلز نے لکھا کہ “ایک طبقاتی سماج میں، خصوصاً خواتین کے لیے، شادی بھی عصمت فروشی کا روپ دھار لیتی ہے”۔

کامریڈ ولادیمیر لینن جنسی عمل کو انسانی فطرت کا جزو تسلیم کرتے ہیں مگر اُن کی منطق میں جسم فروشی اِس فطری عمل کو بدمزہ کر دیتی ہے۔ کئی کمیونسٹ انقلابات کے دوران جسم فروشی پر فوری طور پر اور بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کیے گئے.، روس میں زار کے عہد میں طوائفوں کو باقاعدہ قانونی طور رجسٹر کیا جاتا تھا  لیکن بالشویک انقلاب نے جسم فروشی کے خلاف کارروائی کا باقاعدہ آغاز کیا تھا جس کے نتیجے میں خوراک، رہائش، سامانِ حیات اور سماجی تحفظ کے بدلے عورتوں نے عصمت فروشی ترک کر دی تھی، اِسی طرح کیوبا کے انقلاب کے بعد تقریباً مکمل طور پر عصمت فروشی کا خاتمہ ممکن ہو گیا تھا۔

سوویت یونین کے انہدام کے بعد وہاں پھر سے عصمت فروشی شروع ہو چکی ہے، اِسی طرح کیوبا میں بھی مرد و عورت جسم فروش نظر آتے ہیں، بزنس انسائیڈر کی 14 دسمبر 2015ء کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں سوا چار کروڑ جسم فروش افراد موجود ہیں، دنیا بھر بےگھری جیسے مسئلے میں اضافے اور جنگوں سے براہِ راست متاثرین کی تعداد میں اضافہ کے بعد جسم فروشی میں اضافہ ہو چکا ہے۔

آخر یہ کیا معاملہ و ماجرا ہے کہ لوگ اپنے جسم کو اَن چاہے لوگوں کے سپرد کرنے پہ مجبور ہو جاتے ہیں۔ بھارت ہی کی مثال لے لیں۔ سی این این کی 11 مئی 2009ء کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت میں تیس لاکھ جسم فروش انسان رہتے ہیں جن میں بارہ لاکھ نابالغ بچے شامل ہیں۔ اِس کی صرف ایک وجہ ہے کہ دنیا میں غربت کا سب سے زیادہ ارتکاز ہندوستان میں ہے۔ تیس سال پہلے ہندوستان میں دنیا کی غربت کا پانچواں حصہ موجود تھا جب کہ آج دنیا کی ایک تہائی سے زیادہ غربت یہاں موجود ہے۔ سرکاری طور پر ہندوستان کی آبادی کا 29.8 فیصد حصہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہا ہے لیکن سرکاری اعداد و شمار پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے.۔غربت کی اِس تعریف میں وہ لوگ آتے ہیں جن کی روزانہ کی آمدنی 28.65 روپے سے کم ہو جب کہ دیہات میں یہ رقم 22.42 روپے ہے۔

جہاں بھوک، لاعلمی، بیماریاں، بےگھری اور غربت دندناتی پھرتی ہو وہاں لوگ مجبور ہو کر بھیک، جرائم، خودکشی اور عصمت فروشی کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔ غربت اور محرومی جہاں جہاں پنپتی ہے انسانیت، اخلاقیات اور مثبت رویے وہاں وہاں دم توڑ دیتے ہیں۔ سارے فلسفے ہیچ نظر آتے ہیں۔ بھوک کی وجہ سے مجبور عوام قانون، مذاہب، احکام اور ضابطوں کو پامال کرتے ہوئے وہاں نکل جاتی ہے جہاں اُس کا کسی کو یارا ہوتا ہے یا پتہ معلوم ہوتا ہے۔

بنگلہ دیش کی مثال دی جا سکتی ہے جہاں “زرعی ترقی کے لیے بین الاقوامی فنڈ” (IFAD) کے مطابق ساڑھے چار کروڑ افراد یعنی تقریباً ایک تہائی آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے۔ جب کہ اِن ساڑھے چار کروڑ لوگوں کی اکثریت انتہائی غربت کا شکار ہے۔ نتیجتاً بنگلہ دیش کے قحبہ خانے دنیا کے چند بڑے قحبہ خانوں میں شمار ہوتے ہیں۔ بنگلہ دیش میں کم سن اور نابالغ بچوں کی عصمت فروشی بھی ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے. سی این این اور بی بی سی کے 2010ء کی رپورٹوں میں بنگلہ دیش کے حوالے سے ایک انسانیت سوز حقیقت کو آشکار کیا گیا کہ کم سن اور نابالغ جسم فروش بچوں کو ڈیکسامیتھاسون کے انجیکشن لگائے جاتے تاکہ وہ صحت مند اور فربہ دکھائی دیں۔ یہ وہ دوا ہے جو گوشت کے لیے پالے جانے والے جانوروں کو لگائی جاتی ہے.

بزنس انسائیڈر کی 4 جنوری 2016ء کی رپورٹ کے مطابق امریکہ میں دس لاکھ جسم فروش افراد رہتے ہیں۔ امریکہ میں جسم فروشی کے کاروبار کا سالانہ 14 ارب ڈالر حجم بنتا ہے۔ امریکہ میں جسم فروشی غیرقانونی ہونے کے باوجود دس لاکھ لوگ جسم فروشی میں ملوث ہیں۔ لیکن ایک حیران کن حقیقت یہ ہے کہ امریکی ریاست نیواڈا میں جسم فروشی غیرقانونی نہیں ہے اور “اقتصادی تحقیق کے امریکی نیشنل بیورو” کے مطابق نیواڈا کے ہر چار میں سے ایک بچہ خطِ غربت سے نیچے والے خاندان  سے تعلق رکھتا ہے۔

اِسی طرح لیڈز یونیورسٹی کی مارچ 2015ء کی ایک ریسرچ کے مطابق برطانیہ کی 38 فیصد یونیورسٹی کی طالبات اپنے تعلیمی اخراجات کی تکمیل کے لیے جسم فروشی پہ مجبور ہو گئی تھیں۔

مندرجہ بالا اعدادوشمار واضح کرتے ہیں کہ جسم فروشی کا براہِ راست تعلق غربت اور دولت کی غیر منصفانہ تقسیم سے ہے۔دنیا میں انسانی آبادی کی ایک اقلیت کے پاس دولت کے ارتکاز کی وجہ سے دنیا کی اکثریت مجبوروں کی طرز کی زندگی گزار رہی ہے. جسم فروشی واقعتاً سرمایہ دارانہ نظام کی وجہ سے ہے۔

ایک منصوبہ بند معیشت ہی تمام انسانوں کو خوراک، علاج، تعلیم اور رہائش جیسے مسائل کی جانب سے بےفکر کر سکتی ہے۔ یقیناً سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے اور سوشلسٹ سماج کی تعمیر کے بغیر جسم فروشی کا خاتمہ دیوانے کا ایک خواب ہے۔

فاروق بلوچ
فاروق بلوچ
مارکسی کیمونسٹ، سوشلسٹ انقلاب کا داعی اور سیاسی کارکن. پیشہ کے اعتبار سے کاشتکار.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *