عید قربان اور فکری منڈی۔۔۔ محمد حسنین اشرف

کسی بھی مذہبی تہوار کے قریب آتے ہی مذہبی و غیر مذہبی لوگوں کی فکری منڈی لگ جاتی ہے جہاں بھانت بھانت کی بولیاں سنائی دیتی ہیں اور بیچ بیچ میں گالم گلوچ بھی سماعتوں سے ٹکرا جاتی ہے۔ عید قربان کے قریب کئی قسم کے دلائل قربانی کے حق میں اور اسکے مخالف سننے کو ملتے ہیں۔ میری نگارشات کا محرک بھی اصل میں اسی قسم کا ایک اعتراض یا دلیل ہے۔

احباب فرماتے ہیں “قربانی کے جن پیسوں سے آپ جانور خریدیں، اسی سے آپ کسی کو کاروبار کردیجئے”۔ اور اسکا جواب دینے والے قربانی کو اصل میں غریبوں کو گوشت کھلانے کا بندوبست کرنے والا تہوار مانتے ہیں۔ اسے رحم و شفقت کا ایک استعارہ مانتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت اسکے برعکس ہے۔ اس سے پہلے ہم آگے بڑھیں، قربانی کی شرعی حیثیت پر نظر ڈالتے چلیں۔ قربانی اسلام میں فرض نہیں ہے۔ یہ ایک نفل عبادت ہے، احناف کے ہاں اسے واجبات میں داخل کیاجاتا ہے لیکن خصوصاََ شوافع کے واجب کوئی وجود نہیں  ہے۔ میں ذاتی طور پر بھی اسے نفل ہی مانتا ہوں۔ تو قربانی کا نہ تو کوئی نصاب ہے اور نہ حساب، یہ تو ایک تہوار ہے جس میں رب کریم کے چاہنے والوں کی یاد تازہ کرنے کا بندوبست کیا جاتا ہے۔ اس میں اگر آپ استطاعت اور خواہش رکھتے ہیں تو ضرور بہ ضرور اس کار خیر میں حصہ لیجئے کیونکہ نوافل میں جتنا اضافہ ہوگا اتنا قرب زیادہ ہوگا کیونکہ نوافل فرض سے بڑھ کر ایک مشقت ہیں جو قربت والے لوگ ہی برداشت کرتے ہیں۔ یہ محبت والوں کا ہی نصیب ہوا کرتا ہے۔

وہ تمام احباب جن کے ہاں عید قربان کے قریب آ کر قربانی کی بجائے صدقات کو خیرات کو بڑھانے کا داعیہ جنم لینا شروع ہوجاتا ہے اور انسانیت دو گنا جاگ جاتی ہے۔ ان احباب کی خدمت میں عرض ہے کہ اعتدال کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیا کیجئے۔ ایک مذہبی شخص کی زندگی کے دو پہلو ہیں، ایک اسکی ذاتی زندگی ہے اور ایک معاشرتی، مذہب ذاتی معاملہ ہے، اور خیرات و صدقات معاشرتی معاملہ ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے ماں باپ کی خدمت کرنا ذاتی معاملہ ہے اور غرباء اور مساکین کا خیال رکھنا معاشرتی معاملہ ہے۔ اب آپ اسے نصیحت کیجئے کہ ماں باپ کی خدمت کو گھٹا کر غرباء اور مساکین کاخیال رکھے یا غرباء اور مساکین کے وقت کو کم کرکے ماں باپ کے قریب ہوجا۔ تو یہ ایک عامیانہ نصیحت ہوگی۔

میرے رب سے میرا معاملہ ذاتی نوعیت کا ہے اور غرباء اور مساکین کی ذمہ داری معاشرتی نوعیت کی ہے اور اس معاشرتی نوعیت میں مذہب بھی مجھ پر ذمہ داری عائد کرتا ہے، لیکن وہ چاہتا ہے کہ جیسے میں اپنی ماں کے لئے وقت نکالتا ہوں اور مال و زر کا بندوبست رکھتا ہوں اور اسکے ساتھ ساتھ معاشرتی فرائض بھی بجا لاتا ہوں۔ اسی طرح رب العالمین کے لئے بھی کچھ وقت نکالوں اور اسکی راہ میں بھی قیمتی چیز قربان کروں۔ آج سے ہزار سال قبل بھی اور آج سے ہزار سال بعد بھی انسان کی قیمتی چیز مال ہی تھی اور مال ہی ہے۔

محمد حسنین اشرف
محمد حسنین اشرف
ایک طالب علم کا تعارف کیا ہوسکتا ہے؟

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *