تعلیم اور زندگی۔۔۔ سلمان اسلم

تین چیزوں کا تعین کاتب تقدیر نےہر انسان کے لیے پہلے سے مختص کیاہے ۔ اس پر انسان کو اختیا ر حاصل نہیں باقی اختیار کل سے نوازا گیا ہے۔ ایک زندگی اور زندگی بھی چار چیزوں کا مجموعہ ہے ( پیدائش ، عمر ، رزق اور جیون ساتھی )، علم اور موت ۔ یہ چیزیں انسان کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں۔ باقی انسان ایک حد کے اندر اپنے معاملات ، عبادات ، رسومات وغیرہ وغیرہ سب میں مکمل طور پر با اختیار ہے۔ ان تین چیزوں میں ایک علم بھی ہے جو کہ قدرت کی عطا سے نصیب ہوتا ہے۔ علم بھی رزق کی طرح اذنِ ربی سے اپنے مقررہ وقت ، مقررہ مقدار اور اپنی مقررہ جگہ پہ ملا کرتا ہے۔ یہ کبھی بیاباں صحرا میں کسی اجنبی سے ملتاہے ، کبھی چرواہے کی صورت میں بابے سے ملتا ہے، کبھی گلی کےخوانچہ فروش سے مکئی کے دانے لینے والے لفافے میں چھپا ہوتا ہے تو کبھی سڑک کنارے فٹ پاتھ پر ، پرانی اخبار کےٹکڑے میںَ چھپا ہوتا ہے۔

قدرت اسکو اپنے مقررہ ہدف تک ہر حال میں اپنے وقت پر ہی پہنچاتی ہے۔ جس طرح ایک ماں خوب جانتی ہے اپنے بچے کے بارے میں کہ کس ٹائم پہ اسکے لیے کیا مناسب ہے اور کیا نہیں ۔ کونسی چیز کب اور کتنی دینی ہے ۔ ماں کی طرح قدرت ہم سے ستر ماؤں سے زیادہ پیار فرماتی ہے تو وہ کیسے اپنے ہاتھ سے بناۓ ہوۓ بنی آدم (مخلوق) کے ساتھ نا انصافی یا ظلم کر سکتی ہے۔ اسی طرح قدرت بھی ہمیں وہی تعلیم اور اتنی ہی مقدار میں عطا کرتا ہے جتنا ہم قابل عمل بنا سکتے ہیں ۔ دراصل غنی وہ شخص ہوتاہے جو اپنے حاصل کردہ علم پر عمل کی استطاعت رکھتا ہو ۔ کیونکہ یاد رکھیں علم اگر پہاڑ جتنا بھی ہو مگر بے عمل ہو تو وہ ذہنی ناسور بن جاتا ہے۔ اسکے برعکس اگر علم چند فقروں تک ہی محدو کیوں نہ ہو لیکن بالعمل ہے تو وہ بھی آفاقی کتاب بن جاتا ہے۔ علم چاہے عصری ہی کیوں نہ ہو اگر فائدہ دے رہا ہے تو وحی کے مانند ہے اور اگر دینی علم بھی ہو مگرفائدہ نہیں دے رہا تو وبالِ جاں  ہے۔ بالکل ایسے جیسے کہ ” ”نیم حکیم خطرہ جان اور نیم ملا خطرہ ایمان” لیکن بد قسمتی سے آج کل کے دور میں اسلامی بلکہ پوری مشرقی دنیا میں علم کو بہت ہی محدود معنوں میں استعمال کیا جا رہا ہے ۔ تعلیم کو فقط کاغذی ڈگریوں کی حد تک پڑھا اور پڑھایا جانے لگا ہے ، جو کہ خوشحالی ،امن اور سکون کا ذریعہ بننے کی بجاۓ معاشرتی ، سماجی ، معاشی ناسور بنتا جا رہا ہے اور دیمک کی طرح معاشرے کے مّزین چوکٹوں کو اندر ہی اندر سے چاٹ کے کھوکھلا کر رہا ہے، اور تعلیم کے نام پہ دیے جانے والی اعلیٰ کاغدی ڈگریاں اس آگ کے لیے مرعوب ایندھن کا ساماں بنتا جارہا ہے۔ ”تعلیم وہ جو سوچ بدل دے ، کیونکہ سوچ کے بدلنےسے ہی زندگی بدلتی ہے ۔ ” لیکن یہاں پر تو گنگا الٹا بہتی ہے ۔ایک جمود ہے اور مسلسل جمود۔
اس گنگا کا پانی بدبودار بنتا جا رہا ہے۔ جس میں علم ، سوچ اور زندگی جیسی معصوم اور گراں قدر مچھلیاں آکسیجن کے مسدود ہونے کی وجہ سے سسک سسک کر زندگی کی اپنی آخری سانسیں گن رہی ہیں ۔ اور ہم سب انسانیت میں بے حسی کی اس معراج پہ پہنچے ہوۓ ہیں جو بجائےاسکے کہ ہم تڑپتی ، بلکتی ہوئی ان مچھلیوں اور ٹھہرےہوۓ اس بدبودار پانی کا کوئی سدباب اور مسیحا ڈھونڈکر پانی سمیت اسکے باسیوں کی زندگی کو بچا لے ۔ ہم لوگ اپنے ڈی پیز اور فیس بک سٹیٹس اپ ڈیٹ کر نے ، چند کھوکھلے کمنٹس اور لائیک حاصل کرنے کے لیے سلیفیز اور لائیو اپ ڈیٹس کی علت میں غرق ہوئے زندگی کو ہونٹوں کے سرے سے آخری ہچکی کی صورت میں سرکنے کا تماشہ کر رہے ہوتے ہیں ۔ وطن سے منہ زبانی محبت میں مجنونیت ہمارے رگ وپے میں سرائیت کرچکی ہے ۔ دنیا کے کسی بھی دور میں جھانک کر دیکھیں توترقی یوں چٹکی بجانے سے نہیں آئی بلکہ یہ باقاعدہ اپنے ارتقائی مراحل سے گزر کے آئی ہے اوراس کا اہم جز تعلیم ہی رہا ہے۔ جاپان کو ہی دیکھیں آج جاپان دنیا میں اس مقام پہ کیسے اور کیوں ہے اس کے بادشاہ کی عرضداشت پہ غور تو کریں کہ جب امریکہ نے جاپان کے ہیروشیما اور ناگا ساکی پر ایٹمی بم گراۓ تو جاپان قوم کا وجود ہر طرح سے ریزہ ریزہ ہوگیا ۔ جاپان کے دونوں شہر پوری طرح سے شمشان گھاٹ میں بدل چکے تھے ۔جاپان کے بادشاہ کو امریکی جنرل کے سامنے پیش کرنے کے لیے لایا گیا ۔ جنرل نے کہا سرینڈر کر دو ، ہار مان لو۔ یاد رکھیں جاپان کے لوگ اپنے بادشاہ کو خدا کی طرح پوجتے ہیں ۔اگر یوں کہوں کہ وہ بادشاہ کو اپنا خدا مانتے ہیں تو غلط نہ ہوگا۔ جاپان کے بادشاہ نے ہاتھ اپنے اوپر کرلیے اور امریکی جنرل سے کہا کہ میں ہار مانتا ہوں اور سرینڈر کرتا ہوں ۔آپ جو چاہو میرے ملک کے ساتھ کر لو فوج ختم کر لواسلحہ ،معاشیات ، صنعت سب کچھ تباہ کر دو لیکن بس میری اک گزارش قبول کر لو۔ جنرل نے پوچھا کیا؟ بادشاہ نے عرض کیا بس ایک تعلیم مجھے دے دو اسکو میرے پاس رہنے دو ۔ جنرل آخر جنرل تھا بندوق کے مگیزین اور بلٹ چلانے والے کی ذہنیت کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں۔ جنرل نے مانتے ہوۓ کہا ٹھیک ہے تعلیم تمہاری ہوگئی۔

بادشاہ باہر نکلا اور کہا کہ اب ہم جیت کے دکھائینگے۔ جاپان نے بغیر ہتھیار ، بغیر کسی فوجی یا جنگی سامان کے امریکہ کو مات دی۔ اور آج جاپان جس مقام پر ہے اسمیں اسکی علمی کاوش کا بہت بڑا ہاتھ ہے ۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تعلیم آخر کونسی تعلیم ؟ کیایونیورسٹیوں، کالجوں اور گلی گلی میں سکولوں کے بھونچال میں دی جانے والی سطحی تعلیم؟ کیا کاغذی ڈگریوں کے گونگےاور اعلٰی معیار کے رٹو طوطنے والی تعلیم  ؟ یاد رکھیں تعلیمی میدان میں ترقی کا تعلق اداروں کی بہتات سے نہیں بلکہ علم کامعیار بڑھانےسے آتی ہے۔ آئیے آج اس بات کا ادراک کر لیں کہ تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے زریں اصول کیا ہوتے ہیں ؟۔ اور کسی بھی ادارے یا ملک میں تعلیمی معیار کو پرکھنے کے لئے کونسی پانچ چیزوں کا مشاہدہ کرنا لازمی سمجھا جاتا ہے ۔ اگر کسی بھی ادارے یا ملک میں دی جانے والی تعلیم مطلوبہ پانچ نتائج دے رہی ہو تو وہ تعلیم ، تعلیم کہلانے اور وہ ادارہ تعلیمی درسگاہ کہلانے کا حق رکھتاہے۔ آئیے ان نتائج پر اک نظر ڈالیں۔

☆ 1) کسی بھی ادارے میں دی جانے والی تعلیم اپنے پڑھنے والےطلباء میں ڈیویلپمنٹ اور گرومنگ کی صلاحیت پیدا کر تی ہو ۔

☆ 2) تعلیم وسائل کو مینج کرنا سکھاتی ہے۔ وسائل سے مراد وقت، دولت اور انرجی (توانائی) وغیرہ کا صحیح استعمال کرنا۔

☆ 3) تعلیم وژن دیتی ہے ۔ یعنی مستقبل میں جھانکنے کی صلاحیت پیدا کرتی ہے۔

☆ 4) تعلیم کردارساز ہوتی ہے۔ وہ اچھے اور اعلٰی اخلاق کی ضامن ہوتی ہے۔

۔ ☆ 5) اور تعلیم progression یعنی زندگی میں آگے بڑھنے کا جذبہ اور صلاحیت پیدا کرتی ہے ۔

کسی بھی ادارے میں دی جانے والی تعلیم اگر درجہ بالا پانچ نتائج نہیں دے رہی ہو تو وہ تعلیم، تعلیم نہیں کہلاتی ۔ اور نہ وہ ادارہ تعلیمی درسگاہ کہلانے کا حق رکھتا ہے۔ لیکن بد قسمتی سے وطن عزیز میں اس معیار کی تعلیمی درسگاہیں آٹےمیں نمک کے برابر بھی نہیں ۔ یہاں تو دو ہی چیزیں ملتی ہیں، اک تعلیمی اداروں کے مالکان کو اقتصادی امارت جو دن بدن امیر سے امیر ترہوتے جا رہے ہیں اور دوسری طرف طلباء تعلیمی ، اخلاقی ، سماجی اور اقتصادی لحاظ سے غربت کے لکیر پہ رول رہے ہیں ۔ جب کسی بھی ملک میں درجہ بالا معیار کی تعلیمی قلت پیدا ہوجاۓ اس سے انفرادی اور اجتماعی دونوں زندگیوں پہ درج ذیل نتائج مرتب ہوتے ہیں جو کسی بھی معاشرے کی معاشرتی زندگی کے لیے وبال جاں بن جاتی ہے ۔

☆ ڈگری یافتہ اور رٹو یافتہ پڑھے لکھے جہلا کی فوج پیدا ہوتی ہے۔ جو نہ تو کسی کام کے ہوتے ہیں اور نہ کاج کے بس دشمن صرف اناج کے ہوتے ہیں ۔
☆خواندگی کا گراف بڑھتا ہے لیکن بے روزگاری کا گراف تیزی سے نیچے گرتا ہے جو بد ترین غربت کے لیے بہترین بیج کا کام دیتی ہے۔۔
☆ جب کسی زمیں پہ امن کے کھلیان اجڑ جائیں تو پھر وہ جگہ جانوروں اور زہریلےجانداروں کی آماجگاہ بن جاتی ہے۔

کتنی نسلوں کی قربانی دینے کے بعد کہیں جا کے ان کے چڑھاوں کو قبولیت کا شرف نصیب ہوتا ہے۔ آج بھی کچھ نہیں بگڑا ، ابھی اتنی دیر نہیں ہوئی۔ واپسی کے راستے ابھی بھی کھلے ہیں ۔ آئیے مل کے فیصلہ کر تے ہیں اور یہ طے کر لیں کہ ماضی کا شکستہ یافتہ ہیروشیما بننا ہے یا پھر آج کا ترقی یافتہ ہیروشیما بننا ہے۔ یہ سب ہمیں خود ہی کرنا پڑے گا اسکے لیے آسماں سے کوئی فرشتے نازل نہیں ہونگے ۔ اسکا واحد حل یہی ہے کہ تعلیم کے معیار کو بہتر بنایا جائے نہ کہ تعداد پہ زور دیا جائے ۔ بات کبھی کوانٹٹی پہ نہیں بلکہ کوالٹی سے بنے گی ۔ ہمیں اپنے اداروں کو تعلیی نظام کو نمبروں ، جی پی ایز اور پرسنٹیج کی قید سے آزاد کرانا ہوگا۔ ہمیں اپنے تعلیمی نصاب اور امتحانی ڈھانچوں کی نیلام گری کے رواج  کو تاراج کرنا پڑے گا۔ ورنہ ہم ہر سال نیلام گھروں سے سٹے باز ماہر افرادی قوت پیدا کرتے جائیں گے جو کہ عملی زندگی کو قسمت کے پتے کے انتظار میں کاہلی اور سستی کا سٹہ لگاتے رہیں گے، پر کبھی کارہائے نمایاں انجام دے نہیں پائیں گے ۔ ہمیں آج یہ عزم کرنا ہوگا کہ ہیروشیما کے مثل اپنے اس اجڑے دیار کو پھر سے آباد کرنے کے لیے علم کے نئے تازہ بیچ بونے ہونگے، ورنہ دوسری صورت میں ہم دوسروں کی تفریح طبع کا ساماں بنتے رہیں گے ۔
اللہ کرے یہ باتیں ہماری سمجھ میں آجائیں ۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین۔

Avatar
سلمان اسلم
طالب علم