فاٹا، منظور پشتین تحریک، پاک فوج۔۔خان احسان اللہ

اس میں کوئی شک نہیں کہ فاٹا وزیرستان ترقی و ٹیکنالوجی صحت اور تعلیم کی بنیادی سہولتوں میں سب سے پیچھے ہے، نظام تعلیم، سڑکیں، ہسپتال ناپید ہیں، زچگی کے دوران اموات سب سے زیادہ انہی  علاقوں میں سہولیات کے نہ ہونے کی وجہ سے ہوتی ہیں،

پورا پاکستان معترف ہے ،فاٹا کی عوام نے سب سے زیادہ گھربار اور اپنے عزیزوں کو کھو دینے کی صورت میں دہشتگردی کے خلاف ،اور امن قائم کرنے کے لیے قربانیاں دی ہیں، یہ امن عوام کے تعاون اور پاک فوج کی کوششوں سے ہی ممکن ہوا جس کے نتیجے میں خود پاک فوج کے کئی  جوان شہید زخمی و معذور ہوئے، اگر عوام کا تعاون نہ ہوتا تو اکیلے پاک فوج  کو بھی قیام امن میں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ۔

اب آتے ہیں فاٹا کے بنیادی مسائل کی طرف، تو یہ مسائل سیاسی ہیں  اس کے لیے سیاسی جدوجہد ہی حل طلب ہے، یہ منتخب حکومت کی ذمہ داری ہے، ان کے مسائل کو بہت پہلے حل ہوجانا چاہیے تھا لیکن جس نے بھی فاٹا کا مقدمہ لڑا کمزور لڑا چاہے وہ مذہبی سیاسی پارٹی کے سرخیل ہوں یا قوم پرست ہوں یا آزاد ممبران لہذا فاٹا کی عوام کو واقعی کسی نئی تحریک کی اشد ضرورت تھی جو ا ن کی اصل ترجمانی بلا کسی خوف و خطر اور  لالچ کرتی، حکومتی ایوانوں میں موجودہ سیاسی جماعتوں کی طرف سے فاٹا کو بیک پر رکھنا ہی اہل علاقہ کو منظور پشتین جیسے جذباتی جوان سے امید بندھواتا ہے۔

منظور پشتین کو اہل علاقہ کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنے مسائل پر احتجاج کا حق ہے، چاہے وہ گمشدہ افراد کا ہو ،چیک پوسٹوں پر چیکنگ کے طریقہ کار پر شکایت ہو یا وہاں پر فوج کی  موجودگی سے علاقے کو درپیش مسائل پر ہو، کیونکہ سوفیصد بہرکیف سب کچھ ٹھیک نہیں ہوتا سجدوں کا محور کعبہ ہونا چاہیے، جی ایچ کیو بیشک نہیں، لوگوں کو تو خدا سے بھی شکایتیں ہوتی ہیں  لہذا اپنے ادارے کے کسی طرز عمل پر بھی شکایت ہوسکتی ہے، لیکن سارا ملبہ ہی فوج پر ڈالنا سب کیے  دھرے کو پورے  کا پورا  فوج کے کھاتے میں ڈالنا اور باقاعدہ ایک کمپین چلانا مخصوص نعرے لگوانا وہ بھی اس فوج کے خلاف جو اپنے بجٹ کا ایک حصہ ان علاقوں کو سکیور بنانے کے لیے لگا رہی ہے جس نے اپنے جوانوں کے نذ رانے پیش کیے، سراسر نا انصافی ہے،

ملک میں دہشتگردی کی آگ بہرحال بُجھ  چکی ہے راکھ کے ڈھیر میں ایک  آدھ چنگاری اگر اپنی  آخری سانسیں لے رہی  ہے،منظور پشتین کا دفاعی ادارے کے خلاف اس طرح جارحانہ انداز اپنانا اور آزادی یابغاوت کے اشارے دینا اس چنگاری کو پھونکیں مار کر آگ بھڑکانے کے مترادف ہوگا، کیونکہ انڈیا جس کی  پشت پر امریکہ اور سہولت کاری افغانستان دے رہا ہے اسی تاک میں بیٹھا ہے کہ کب ہم اندر سے کمزور اور کھوکھلے ہوں اور یہ ہم پر حملہ آور ہوں، امریکہ کے بس میں ہوتا تو  کب کا پاکستان کو عراق بنادیتا مگر  فوج  نے ایسا کچھ سوچنا بھی ناممکنات میں سے بنا دیا۔

منظور پشتین کو اگر اپنے علاقے اور لوگوں کا حقیقی لیڈر بننا ہے تاریخ میں زندہ رہنا ہے تو اپنے انداز پر نظرثانی کرنی ہوگی، فاٹا اور کوئٹہ میں اگر بڑے جلسے کرسکتا ہے تو سیاسی جدوجہد کا آغاز کیوں نہیں کرسکتا؟ اور اگر فضل اللہ بننا ہے تو شوق پورا کرلیں نام رہے گا نہ نشان باقی!

احسان اللہ خان
احسان اللہ خان
عام شہری ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *