ول یو بی مائی ویلینٹائن؟ ۔۔۔ معاذ بن محمود

میرے ہونے والے نئے جانو۔۔۔ بعد سلام، جو میں نے کیا ہی نہیں، اور کروں بھی کیوں کہ میری ادائیں اور میرے نخرے مجھے روکتے ہیں، عرض ہے، بلکہ حکم سمجھو کہ میں اپنے موجودہ بوائے فرانڈ سے اکتا چکا ہوں۔ یقیناً تم اکتانے پر چونکنے سے پہلے “بوائے فرانڈ” پر چونکے ہو گے۔ تمہاری جگہ کوئی اور ہوتا تو میں چونک جانے کو معاف کر دیتا مگر مجھے تمہاری یہ بات بالکل پسند نہیں آئی کہ تم خود ماضی میں جانے کتنوں کے بوائے فرانڈ رہے ہو۔ سیاں بات یہ کہ گرل فرانڈ بنانا ریاست کی نظریاتی اساس کے خلاف ہے۔ بھوٹان کی نظریاتی سرحدیں گرل فرانڈ بنانے والوں کو دائرہ بھوٹان سے باہر سمجھتی ہیں۔ پھر یہ مہم جوئی اپنے عروج پر پہنچ کر غیر رجسٹر شدہ آبادی بڑھانے کا مؤجب بن جائے تو باوجود سادگی کے شودے پنے اور ریاست مدینہ پرچار کے، ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ بن کر رہ جاتی ہے۔ میرے موجودہ بوائے فرانڈ کے ساتھ یہی معاملہ ہے۔ میں نے لاکھ جتن کیے کہ کسی طرح نوشتہ دیوار پر مشتہر اس کے ذاتی افعال پر نیل ڈلا چونا لگا ڈالوں مگر یہ نظریاتی سرحدوں کے متشدد سربکف مجاہدین ہیں کہ مانتے ہی نہیں۔ یہ کہتے ہیں کہ ریاست بھوٹان کو ریاست مدینہ بنا کر پیش کرنے والے کا کردار بھی حضرت عمر رض والا ہونا چاہیے۔ اب تم ہی بتاؤ جانو، اس دور میں جہاں قحط الرجال کا دور دورہ ہے، میں کہاں سے عمرِ ثانی لے کر آؤں؟ 

میں اپنے موجودہ بوائے فرانڈ کو زمیں سے اٹھا کر آسماں تک پہنچا دیا۔ نہیں، ویسے نہیں جیسے بھٹو کو پہنچایا تھا، فقط شہرت، رتبے اور مرتبے میں۔ وہ گلی کوچے ووٹ کی بھیک مانگتے ذلیل و خوار ہو رہا تھا مگر پھر میں نے اسے اپنا جانو بنانے کی ٹھانی۔ تم تو جانتے ہی ہوگے کہ میں جسے جانو بنانے کی ٹھان لوں وہ ڈی فیکٹو ریاست کا جانو بن جایا کرتا ہے۔ بس ویسے ہی، جیسے کبھی تمیں “لویے” کی فاؤنڈریوں سے اٹھا کر سیاسی افق پر نمودار کیا، اسے بھی چڑھتا سورج بنا ڈالا۔ میں سوچتا تھا کہ میرا جانو میرا ہونے کے بعد صرف اور صرف میری سنے گا، میری سمجھے گا اور میری ہی مانے گا۔ کسی حد تک وہ ایسا کر بھی رہا کے مگر پھر بھی، مجھے آج تک سچا پیار نہیں مل پایا۔ ستر سال سے زیادہ ہوا جانے کتنے جانو آزما چکا مگر نہیں۔ سچا پیار کہیں نہیں۔ میری تسلی نہیں ہوتی۔ مجھے اطمینان ہے کہ ملنے کا نام نہیں لیتا۔ بدھا کہتا ہے اصل تالیف قلب ذات کے اندر سے آتی ہے۔ میں گوتم بھیا کی اس بات سے مکمل سہمت ہوں۔ اسی لیے یہ سکون ذات میں ڈھونڈتا ہوں۔ دوسروں کی ذات میں۔ سکون ہے کہ ندارد۔ 

میرا موجودہ جانو اپنے کئی مسائل سے دوچار ہے۔ میں نے اسے ریاست بھوٹان ہدیہ کر ڈالی۔ سوچا کہ ایک اچھے گدی نشین اور والی کی طرح اب یہ احمق بھی بلڈی جاہل سویلینز کی خواہشات پوری کرے گا۔ مگر اس نے ریاست کے پارچے بنا کر بزدار، قریشی، چوہدری اور عمران اسماعیل کو تھما ڈالا۔ میرا جانو اب خود نصرت باورچی کی طرح سٹائل سے ان کے پارچوں پر نمک ڈالا کرتا ہے۔ 

میں نے اپنے موجودہ بوائے فرانڈ کے اندر ہینڈسم سوٹ بوٹ پہنا وجیہہ مرد دیکھا تھا جو جدت پسندی اور قدامت پسندی کا ایک توازن برقرار رکھتا۔ لیکن ہوا یوں کہ میرا موجودہ جانو سعودی عرب کے دوروں میں حجاز کی مقدس سرزمین پر ننگے پیر اترتا ہے۔ مانا کہ ہمیں کشکول استعمال کرنا ہے، مگر موری والی قمیض پہنے ننگے پیر کشکول سامنے رکھنا؟ یہ میری شکن فری وردی کے لیے کچھ عجیب سا ہے۔ میرا جانو چاہتا ہے کہ میں بھی اس کی طرح درویش بن کے تصاویر کھنچواؤں، لیکن آئی ایم ناٹ اے بلڈی سویلین۔ وہ یہ بات نہیں سمجھتا۔ 

میری خواہش تھی کہ میرا جانو جدید مالیات پر بین الاقوامی لیکچر دے۔ مگر یہ کیا؟ وہ تو ریاست بھوٹان کا سربراہ ہو کر دیسی انڈوں اور کٹوں کے کاروبار پر انٹرپریینیور بننا چاہتا ہے۔ تم خود ہی بتاؤ، انڈوں اور کٹوں کا سٹیو جابز بن کر کوئی کیسے میرا جانو رہ سکتا ہے؟ سنا ہے اگلے ناظم آباد ٹیڈ ٹاکس میں میرا جانو مواد ضائع کیے بغیر لکیریں کھینچنے کے مؤثر اور آزمودہ طریقوں پر تقریر کرنے والا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ یہ تقریر پرچی کے بغیر کرے گا، تقریر سامعین کو پسند بھی آئے گی مگر تم خود ہی بتاؤ کہ وہ اس تقریر میں بھی بہتر فیصد وقت کرکٹ ورلڈ گپ، اپنی سو کالڈ جدوجہد اور میرے پچھلے بوائے فرانڈز کا ذکر بھول پائے گا؟ ہرگز نہیں ہرگز نہیں۔ 

کیا کیا بتاؤں۔ اپنے دل کے کون کون سے زخم دکھاؤں۔ میں اکتا چکا ہوں۔ میں پوری طرح اکتا چکا ہوں۔ 

پس، اے میرے پرانے رفیق، میرے واقف کار، میرے سہولت کر، میرے ساتھی، میرے ہمدم۔

پس اے میاں محمد شہباز شریف۔

اب فقط اتنا بتا دو۔ 

ول یو بی مائی ویلینٹائن ٹوڈے؟؟؟؟؟

العارض

سربراہ اسٹیبلشمنٹ مملکت غیر اسلامی جمہوریہ بھوٹان

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *