اتفاق سے ۔۔۔معاذ بن محمود

پیارے دوستوں، آج ہم آپ کو ایک اتفاقیہ کہانی سنائیں گے۔ اس کہانی کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں وقوع پذیر ہونے والے تمام واقعات اتفاق سے محض اتفاقیہ ہیں۔ 

کئی برس ہوئے کہ اتفاق سے ایک آمر جنرل پرویز مشرف نے اوپر فضاء میں رہتے ہوئے نیچے زمین پہ مارشل لاء قائم کر دیا۔ آمر کے نزدیک جمہوریت پہ یہ شب خون محض اتفاقیہ تھی یعنی پری پلانڈ نہ تھی۔ اتفاق سے جنرل ضیاء الدین بٹ نے آمر کی پول پٹی کھول دی۔ انہوں نے دنیا کو بتایا کہ جنرل مشرف اتفاق سے کئی ماہ پہلے سے کئی رہائش گاہوں کو جیل میں تبدیل کرنے میں مصروف تھے۔ مملکت میں محض اتفاقیہ طور پر دو تہائی اکثریت حاصل کرنے والے نواز شریف کو اٹک قلعے میں پھینکا گیا۔ اتفاق سے اس قلعے میں سانپ اور بچھو بھی پائے جانے لگے اور یوں اتفاق سے ایک منتخب وزیراعظم کو ڈرا دھمکا کر سعودیہ بھجوا دیا گیا۔ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی اتفاقیہ پھانسی کے برخلاف اس بار اتفاق سے ایک وزیراعظم اپنی جان بچانے میں کامیاب ہوگیا۔ اتفاق سے بعد ازاں جب جب کسی اتفاقیہ ڈیل کی بات ہوئی، اپنی جان بچانے کا حق بھول جانے کا اتفاق ہوا۔ 

وقت کا پہیہ گھومتا رہا اور فوج کا دوبار ڈسا نواز شریف ایک بار پھر اتفاقاً عوامی تائید حاصل کر بیٹھا۔ کیا ہی عجیب اتفاق تھا۔ ریاست کی تاریخ میں پہلی بار ایک منتخب حکومت نے اتفاقاً ایک آمر پر غداری کا مقدمہ چلانے کا فیصلہ کیا۔ مقدمے کے دوران وہ عدلیہ جو اتفاق سے کبھی اتنی طاقتور ہوا کرتی تھی کہ حاضر سروس وزیراعظم کو عدالت بلا لیا کرتی، اتفاق سے ایک ریٹائرڈ جرنیل کے سامنے بے بس اور مذاق بن کر رہ گئی۔ ایس ایس جی کمانڈر جنرل پرویز مشرف کا اتفاقیہ کمر درد ان کی گاڑی کا رخ عدالت سے فوجی ہسپتال اور بعد ازاں ملک سے فرار کا پیش خیمہ ثابت ہوا، سب محض اتفاق سے۔ 

سابق جرنیل کے احتساب کی بات شروع ہوتے ہی اتفاق سے ملک میں دھرنے شروع ہوگئے۔ دھرنوں کی پیشن گوئی اتفاق سے حامد میر کئی ماہ پہلے کر چکے تھے۔ میر صاحب اتفاق سے یہ بھی فرما گئے کہ ان دھرنوں میں خان صاحب بھی شامل ہوں گے۔ اسی اتفاقیہ پیشن گوئی کی بدولت حامد میر کو بعد ازاں نامعلوم افراد کی اتفاقیہ گولی بھی کھانی پڑی۔ گولی کھانے کے بعد اتفاق کچھ ایسا ہوا کہ حامد میر نے نامعلوم افراد کی چاکری شروع کر دی۔ آج میر صاحب عموماً اسی منتخب وزیراعظم کے خلاف باتیں کرتے پائے جاتے ہیں جن کے خلاف تحریک کی پیشن گوئی اتفاق سے خود انہوں نے کی تھی۔ 

ریاستی دارالحکومت میں دھرنے کا اتفاق بھی خوب رہا۔ دھرنا برپا کرنے والے مرد مجاہد اتفاق سے انتخابات کی شام اپنی ہار مان کر حکومت کو مبارکباد دیتے پائے گئے تھے۔ پھر یوں ہوا کہ حامد میر کی اتفاقیہ پیشن گوئی ٹھیک ثابت ہوئی اور مبارکبار دینے والے الٹا اتفاق سے انتخابات جیتنے والے کے خلاف دھرنا شروع کر بیٹھے۔ دھرنے کے دوران اتفاقاً چند فوجی جرنیلوں کی خفیہ امداد کے قصے بھی سامنے آئے مگر ایسے اتفاقات عموماً سازشی تھیوری کے نام سے جانے جاتے ہیں۔

دھرنا ختم ہونے کی کہانی بھی کافی اتفاقیہ ہے۔ اپنے بچپن سے جوانی کے جوبن اور پھر بڑھاپے تک پہنچ کر بھی دھرنا اتفاق سے حکومت گرانے میں ناکام رہا۔ عین اس وقت جب دھرنے والوں کو سبکی سے بچانے کے لیے “سیف ایگزٹ” ڈھونڈے جا رہے تھے، آرمی پبلک سکول میں اتفاق سے ایک سو بتیس بچے شہید کر دیے گئے۔ ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں دھرنا اتفاقاً باہمی اتفاق کے ساتھ ختم کر دیا گیا۔ 

اور پھر حسن اتفاق دیکھیے کہ پانامہ پیپرز کا بین الاقوامی سکینڈل سامنے آگیا۔ اتفاق اپنی جگہ مگر پانامہ پیپرز کی پاکستان شاخ کے کرتا دھرتا اتفاق سے اپنے مقامی پاکستانی صحافی ہی تھے۔ پانامہ پیپر کی آڑ میں اتفاقیہ طور پر دھرنا سیزن ٹو شروع ہوا۔ عجیب اتفاق تھا کہ اس دھرنے کے تمام کردار اور مطالبات اتفاقاً وہی پرانے تھے۔ دھرنے والوں نے اسلام آباد بلاک کرنے کا مکمل زور لگایا مگر اتفاق سے کامیاب نہ ہوسکے۔ وفاقی حکومت جیسے ہی اس دھرنے سے نمٹنے کے آخری مرحلے پر پہنچی اتفاق سے ایک جج صاحب نے دھرنے پر از خود نوٹس لے لیا۔ اتفاق کی حد دیکھیے کہ جس مقدمے کو اتفاق سے پہلی بار شنوائی کے قابل ہی نہ سمجھا گیا وہی مقدمہ دوبارہ عدالت کا اہم ترین کیس سمجھا جانے لگا۔ نصر من اللہ و فتح قریب، وہ بھی اتفاق سے۔ دوراندیشی کی اتفاقیہ حدیں تب پار ہوئیں جب ایک دور اندیش سیاستدان نے اپنے جوانوں کو اتفاقاً یوم تشکر منانے کا حکم دیا۔ اتفاق سے وہ جانتے تھے کہ آئیندہ کیا ہونے والا ہے۔ 

کپتان صاحب اتفاق سے اپنا مقدمہ واپس سپریم کورٹ لے آئے۔ یہاں اتفاق سے درخواست کنندہ کی درخواست سے چار قدم آگے بڑھ کر عدالت نے اتفاقاً پانامہ پیپرز کی مبینہ کرپشن کی بجائے تنخواہ نہ لینے پر وزیراعظم کو نااہل کر دیا دیا۔ اس مقدمے میں اثاثے کی تعریف بھی اتفاق سے ایک سیاہ لغت سے مستعار لی گئی۔ ایک عجیب اتفاق یہ بھی ہے کہ پانامہ پیپرز میں سینکڑوں پاکستانیوں کے نام شامل ہونے کے باوجود بھی مقدمہ صرف ایک خاندان پہ دائر کیا گیا۔ مزید اتفاق دیکھیے کہ اس مقدمے میں کھلی ڈھٹائی کے ساتھ آئی ایس آئی کی خدمات حاصل کی گئیں حالانکہ آئی ایس آئی اتفاق سے سیاست میں گھسنے کی اہل ہی نہیں اور کافی عرصے سے فوج و حکومت کے ساتھ چپقلش کا سبب بھی رہی۔ میاں صاحب کی پارٹی سربراہی کے مقدمے کا فیصلہ بھی اتفاق سے سینیٹ الیکشنز سے عین پہلے آیا جس کی وجہ سے سینیٹ کے انتخابات میں حکمران جماعت بغیر انتخابی نشان الیکشن لڑی۔ سینیٹ الیکشنز میں بھی اتفاق سے نامعلوم خلائی مخلوق کا کافی اثر رہا اور ایک بات پھر اتفاقاً ایک خاص سیاسی پارٹی نقصان کا سامنا کرتی رہی۔ 

میاں صاحب اس قدر اتفاقات کے خلاف جب سڑک پر اتر نے لگے تو اتفاقاً انہوں نے منہ کھولنے کی دھمکی بھی دے ڈالی۔ اگلے کچھ دن میں اتفاقاً ڈان لیکس عام کرنے والے اہم کردار صحافی سیرل المائیڈہ نے میاں صاحب کا انٹرویو لیا۔ میاں صاحب نے ممبئی حملوں کی بابت وہی بات کی جو اتفاق سے ماضی میں دیگر جرنیل اور حکومتی نمائیندے کہہ چکے تھے۔ میڈیا کی جانب سے اتفاقاً میاں صاحب پہ غداری کے کامل فتوے لگنے شروع ہوگئے۔ ابھی یہ شور و غل جاری ہی تھا کہ اتفاق سے جنرل درانی کی کتاب سامنے آگئی۔ ابھی ہم جنرل درانی کی حب الوطنی سمجھ ہی رہے تھے کہ اتفاق سے ریحام خان کی آنے والی کتاب کا ذکر شروع ہوگیا۔ اتفاق دیکھیے کہ خان صاحب اپنی نئی اہلیہ کے ساتھ پاک پتن میں بابا فرید الدین گنج شکر کے مزار پر سجدے بھی کریں تو اتفاق سے میڈیا کو وہ بوسے دکھائی دیتے ہیں۔ 

انتخابات کے بارے میں شک و شبہات کے منڈلاتے بادلوں کے باوجود اتفاق سے تاریخ آجاتی ہے۔ عجیب اتفاق ہے کہ انتخابات قریب آتے ہی بدمام زمانہ سیاسی لوٹے دھڑا دھڑ ایک ایسی جماعت میں شامل ہونا شروع ہوجاتے ہیں جنہیں اتفاق سے مشہور زمانہ محکمہ زراعت کی پشت پناہی حاصل ہے۔ مزید اتفاق یہ کہ عدلیہ پے در پے اسٹئبلشمنٹ مخالف جماعت کے امیدواروں کو نااہل کروانا شروع کر دیتی ہے۔ یہ اتفاق اس حد تک بڑھتا ہے کہ اتفاق سے سابق وزیراعظم کو ان کی اولاد کی جائداد پہ دس سال قید بھی سنا دی گئی۔ یعنی کیا ہی عجیب اتفاق کے کہ آئین کا غدار کمر درد کا بہانہ بنا کر آج بھی دبئی میں کمر تھراتا پھر رہا ہے جبکہ تین بار وزیراعظم اتفاق سے آج دس سال کے لیے سلاخوں کے پیچھے جانے کی تیاری پکڑ رہا ہے۔ 

اتفاق سے یہ کہانی جاری و ساری رہے گی لیکن محض اتفاقاً بھی اگر آپ اس کہانی کے تمام اتفاقات کو واقعتاً اتفاقات سمجھتے ہیں تو اتفاق سے آپ بھی شدید قسم کے انصافی واقع ہوئے ہیں۔ بہرحال اللہ آپ کو یونہی اتفاقاً خوشیاں عطا فرماتا رہے، ملک و قوم کا تو ویسے بھی اللہ ہی حافظ ہے۔ ہم تیاری پکڑیں کل کو آپ کے ساتھ کھڑے ہونے کی کیونکہ ہونا تو آپ کے ساتھ بھی وہی ہے جو ہوتا آیا ہے۔ دیکھنا بس اتنا ہے کہ آپ کب ناخلف بنتے ہیں۔

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *