• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • دوسری شادی چھپانے پہ عامر لیاقت کی نااہلی یقینی ۔۔۔۔سید عارف مصطفٰی

دوسری شادی چھپانے پہ عامر لیاقت کی نااہلی یقینی ۔۔۔۔سید عارف مصطفٰی

 مشتاق یوسفی لکھ گئے ہیں کہ پاکستان کی افواہوں کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ سچ نکلتی ہیں۔لہذا پھر عامرلیاقت کی دوسری شادی کی افواہیں خبروں میں کیوں نہ ڈھلتیں اور سچ کیوں نہ ثابت ہوتیں ۔۔۔ چند ہی روز کے غلغلے کے بعد انہوں نے اس خبر کو درست تسلیم کرلیا ہے اور یوں انکے اس سفید جھوٹ کا بھانڈا میڈیا کے چوراہے پہ پھوٹ گیا ہے جو انکے کاغذات نامزدگی میں بولا گیا تھا اور جس کی رو سے انہوں  نے اپنی صرف ایک ہی شادی ظاہر کی تھی اور اس کا سہرا ایک  معاصر  ویب سائٹ  کے سر ہے ،ویسے اس بارے میں خاصا یقین تو اس وقت ہی آگیا تھا کہ  جب چند روز قبل اس کی افواہیں سامنے آئی تھیں اور حیرت انگیز طور پہ عامر لیاقت نے اس پہ فوری ردعمل دینے کے بجائے خاموشی اختیار کرلی تھی کیونکہ موصوف دائم ٹھرکی تو پہلے سے مشہور چلے آرہے ہیں لہٰذا ان کی دوسری شادی والی یہ خبر ایسی کوئی حیران کن ہرگز نہیں البتہ یوں کہا جاسکتا ہے کہ چیلے نے اپنے گرو جی کا گیان گھول کے پی لیا ہے ۔۔۔

عمران خان بھی پہلی شادی کے بعد ہر شادی کی خبر پہ پہلے کافی دن خاموش ہی رہے ہیں   لیکن عامر لیاقت نے زیادہ دیر لگادی اور گزشتہ برس جولائی میں ہونے والی اس عروسی واردات کو وہ اب چارو ناچار    تسلیم کرنے پہ مجبور ہوگئے ہیں  – تاہم انکے گرو کو تیسری شادی تک آتے آتے تو چھیاسٹھواں برس آن لگا اوریہ چیلا انکی عمر کو پہنچنے تک اگلے 19 برسوں میں نجانے کیا کچھ نہ کر دکھائے گا- جہاں تک بات ہے دوسری شادی کی تو ہماری دانست میں یہ ہرگز کوئی گناہ نہیں لیکن اگر یہ راز میں رکھی جائے تو پھر ایسی خفیہ شادیاں کبھی نہ کبھی شوقین نوشے میاں کو پھنسوا دیتی ہیں اور اگر پہلے سے اجازت نہ لے رکھی ہو تو بہت ذلیل و خوار کرواتی ہیں اور اب کی بار  عامر لیاقت حسین بھی اس کا شکار ہوتے نظر آتے ہیں ۔۔

ویسے اس شادی سے ہٹ کر بھی اگر دیکھا جائے تو بلاشبہ عامر لیاقت کی شخصیت رنگینیء مزاج اور سنگینیءگفتار کا مرقع ہے اور پاکستانی میڈیا میں بیک وقت علامہ بننے اور پلے بوائے نظر آنے کی کوشش عامر لیاقت اور ساحر لودھی کے سوا اور کسی اینکر نے نہیں کی ۔۔۔ تاہم ساحر لودھی اس رستے پہ دو ہی قدم چل کے منہ کے بل گرگئے کیونکہ وہ نہ تو  عالم کی دستار فضیلت ہی اپنے سر پہ سجاسکے اور نہ ہی شیخ الاسلام کی اونچی کرسی پہ بیٹھ کے بلبلاتی دعاؤں کی نوبت لاسکے ۔۔۔ دوسری طرف عامر لیاقت تو اب ایسی رقت آمیز پرفارمنس کے کم نگ پترفارمر کہلانے کے مقام تک جاپہنچے اور اب تو مقدس راتوں میں انکی لائیو نشر ہوتی تڑپتی دعاؤں میں کمرشل گڑگڑاہٹ کی مقدار انکے معاوضے کے چیک میں بھری گئی رقم سے راست متناسب ہی ہوا کرتی ہے ۔۔۔

لیکن جہاں تک پلے بوائے والے امیج کا تعلق ہے تو اس شعبے میں بھی انہوں نے بڑا نام کمایا ہے اور مختلف پروگراموں میں فلمی و غیرفلمی پریوں سے انکے بیتابانہ معانقے اور مصافحے کسی سے پوشیدہ نہیں ۔ جہاں تک معاملہ ہےانکی اس دوسری مبینہ بیوی کا ، تو لیاقت آباد یوسی تھری کی یہ خوبرو و طرار موصوفہ کافی عرصے سے عامر لیاقت کی ٹیم کا حصہ ہیں اور انکی خاص دوست ہونے کی شہرت کی حامل ہیں اور وہ بھی اس حد تک کہ پروگرام کی ریکارڈنگ مکمل ہونے کے  بعد عامر لیا قت جیسے بدمزاج نے انہیں متعدد بار  اپنی گاڑی میں بٹھا کے خود انکے گھر ڈراپ کیا ہے جو کسی بھی دوسرے ساتھی فرد کے مقابلے میں ایک واضح امتیازی رویہ تھا۔۔۔ ان موصوفہ سے قبل بھی رنگین مزاج عامرلیاقت کئی خواتین پہ ڈورے ڈالتے پائے گئے ہیں جن میں انکی ٹیم کا حصہ رہی ایک ڈاکٹر کا نام بھی سامنے آتا رہا ہے کہ جو انکے ساتھ شریک اینکر بھی رہی ہیں اور جن سے عامر نے لائیو ریکارڈنگ میں کئی بار بہت  بے تکلف ہونے بلکہ عشق جھاڑنےکی بھی شدید کوششیں کی لیکن اس سیانی و دلکش ڈاکٹرنی نے عامر لیاقت کی ویسی خاطر خواہ جوابی حوصلہ افزائی نہیں کی تو وہ جلد ہی ان سے مایوس بھی ہوگئے تھے-

بات ہو رہی تھی عامر لیاقت کی دوسری شادی کی تو اس ضمن میں بالکل واضح ہے کہ  اس خبر کے اثرات ویسے تو ان سے جڑے ہر معاملے پہ مرتب ہوں گے لیکن ان کا فوری اثر ان کے انتخابی مستقبل پہ بھی پڑے گا کیونکہ انہوں نے اپنے کاغذات نامزدگی میں اس دوسری مبینہ بیوی کا کوئی تذکرہ نہیں کیا ہےاور ابھی چند روز پیشتر پی پی   سندھ کے صدر اور سابق صوبائی وزیر نثار کھوڑو کوایسےہی جرم کی پاداش میں اپنے کاغذات نامزدگی کے استرداد کی سزا مل چکی ہے اور وہ تیسرا نکاح نامہ بغل میں دبائے فریادیں کرتے پھر رہے ہیں-

دلچسپ بات یہ ہے کہ اب جبکہ  مجبور ہوکے عامر لیاقت نے اپنی دوسری شادی کو مان لیا ہے تو وہ اسے اپنے کاغذات نامزدگی میں ظاہر نہ کرنے کی فریب کاری کی تاویل یہ دیتے  پھر رہے ہیں کہ  انہوں نے ایسا جان بوجھ کے کیا ہے کیونکہ انکی دوسری اہلیہ اپنے والد کے گھر ہی میں مقیم ہیں اور انکی کفالت میں نہیں ہیں چنانچہ انہوں نے اس بابت بتانا ضروری نہیں سمجھا ۔۔۔ حالانکہ انتخابی ادارے کی نیت بالکل واضح ہے کہ وہ امیدوار کی ازدواجی معاملات میں شماریاتی حقائق جاننے کا خواہاں ہے نہ کہ  اسے یہ تحقیق کرنی ہے کہ کسی کی اہلیہ کس کے کنستر کے آٹے پہ انحصار کرتی ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ  اب الیکشن کمیشن کے لیے  یہ ہرگز ممکن نہیں کہ  عامر لیاقت کی دوسری شادی سے متعلق مسلمہ حقائق سامنے آ جانے کے بعد وہ ان سے صرف نظر کرسکے اور کاغذات نامزدگی میں کی گئی صریح غلط بیانی کو یونہی جانے دے، اسے تو اب بہرصورت اس مد میں حسب ضابطہ قانونی کارروائی عمل میں لانا ہی ہوگی اور موصوف کو اس فریب کاری کا مزہ چکھانا ہی ہوگا ورنہ تو اسکی غیرجانبداری پہ ایک بہت بڑا سوالیہ نشان لگ جائے اور الیکشن سے قبل ہی اسکی ساکھ معرض خطر میں پڑجائے گی ۔۔۔

لیکن دیکھنا یہ ہے کہ اسکے اس تادیبی قدم سے پہلے ہی پی ٹی آئی کی قیادت پہل کاری کرتی ہے یا نہیں اور از خود اس بارے میں تلافی کا قدم اٹھا کر عامرلیاقت کی جگہ کسی سے دوسرے فرد کو انکی جگہ دیتی ہے یا نہیں یا عامرلیاقت کی غلط تاویل کے الجھاوے میں پھنس کر کسی خوش فہمی میں مبتلاء رہتی ہے یہاں تک کہ  عامر لیاقت کو الیکشن لڑنے  کے لیے  نااہل قرار دینے کی نوبت آجائے اور پھر یہاں سے پی ٹی آئی کے ہاتھ کچھ نہ آئے کیونکہ پھر بڑی دیر ہوچکی ہوگی- ایک اہم پہلو عامر لیاقت کی پہلی اہلیہ بشریٰ کے ممکنہ رویئے کا بھی ہے کے جن سے زوردار معاشقے کے بعد انکی شادی ہوئی تھی ۔۔۔ انکی دوسری شادی کے  ضمن میں بشریٰ بی بی کا ردعمل کیا ہوگا وہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن وہ خوشگوار تو ہرگز نہیں ہوسکتا کیونکہ بشریٰ سے عامر کے ازدواجی حالات متعدد وجوہات کی بناء پہ بہت عرصے سے ناخوشگوار چلے آرہے بتائے جاتے ہیں اور وہ ان سے کافی عرصے سے بچوں سمیت الگ رہ رہی ہیں اور اب قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اسی شعبے میں کچھ کردکھانے کی آرزومند ہیں- انکے اس طرز عمل کی بڑی وجہ عامر لیاقت کے شدید نرگسیت پہ مبنی نفسیاتی پن کے علاوہ یہ بھی بیان کی جاتی ہے کے عامر لیاقت کی اصلیت جان لینے اور پیار کا بخار اترنے کے بعد بشریٰ بہت ڈپریشن کا شکار ہوگئی تھیں اور مبینہ طور پہ واپس شوبزنس میں جانے کی متمنی تھیں لیکن عامر لیاقت نے انہیں اسکی اجازت نہ دی تھی جبکہ شادی سے قبل وہ شو بز  میں قدم رکھ چکی تھیں اور 90 کی دہائی کے مقبول آئیٹم سونگ ‘ تو ہولے ہولے رکھنا قدم او صنم ‘ میں بطور گلیمر گرل ، وہ بھرپور رقص آمیز پرفارمنس دے چکی ہیں جوکہ  آج بھی نیٹ پہ دستیاب ہے ۔۔ لیکن ان دنوں وہ وکالت کی تعلیم مکمل کرکے قانونی پریکٹس  کررہی ہیں ۔۔۔

گزشتہ دنوں بشریٰ عامر کے حوالے سے یہ خبر بھی سامنے آئی تھی کہ انہوں نے چیئرمین پیمرا کا انٹرویودیا تھا اور اس میں جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ اگر انہیں اس منصب پہ کام کرنے کا موقع مل جائے تو وہ بھلا کیسے دوسرے چینلوں کے ساتھ متوازن اور منصفانہ برتاؤ کرسکیں گی جبکہ خود انکے شوہر ایک چینل کا حصہ ہیں تو وہاں مبینہ طور پہ انہوں نے یہ بتایا تھا کہ انکی عامر لیاقت سے علیحدگی ہوچکی ہے۔۔۔ اگر ایسا ہے تب بھی جب تک قانونی طور پہ باضابطہ طور پہ عامر لیاقت کی اپنی اہلیہ سے  علیحٰدگی نہیں ہوجاتی تب تک عامر کو دوسری شادی کے لیے  ازروئے قانون ( فیملی لاز آرڈیننس 1981 ) بشریٰ سے اجازت لینے کے پابند تھے اور اگر انہوں نے اسکا اہتمام ضروری نہیں سمجھا تو اب بشریٰ بی بی انہیں حسب قانون جیل بھجوا سکتی ہیں۔۔ بہرحال اب گرو ہو یا چیلا ، دونوں کی زندگی میں انکی اپنی اپنی بشراؤں کا کردار نہایت اہم موڑ لینے والا ہے اور یہ مرحلہ اب کوئی زیادہ دور بھی نہیں رہ گیا ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *