• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • 2019 میں میڈیا کے حالات پابندیاں اور 1980 کی فلم انڈسٹری۔۔۔۔۔راؤ شاہد

2019 میں میڈیا کے حالات پابندیاں اور 1980 کی فلم انڈسٹری۔۔۔۔۔راؤ شاہد

کسی بھی ترقی یافتہ ملک میں میڈیا ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے ۔ بلکہ مقننہ عدلیہ  اورانتظامیہ کے ساتھ  میڈیا کو ریاست کا چوتھا ستون بھی تصور کیا جاتا ہے۔  بہت سے ممالک کی بڑی بڑی تحریکیں خود میڈیا نے ہی چلائیں اور انقلاب برپا کیے۔ تحریک پاکستان میں میڈیا کا کردار اور کامیابی کی شکل مملکت خداداد پاکستان کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ۔ ایک ایسی تحریک جس نے اُس وقت کی بڑی طاقت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا۔ اور نتیجے میں پاکستان اور انڈیا کا وجود دنیا کے نقشے پر ابھرا- حالیہ تحریکوں کی بات کریں تو عدلیہ بحالی کی تحریک سے لے کر ملک میں جمہوریت کی بحالی تک میڈیا نے کلیدی کردار ادا کیا۔ اگر ہم پاکستان کی تحریک کا مطالعہ کریں تو مارشل لاء کے ادوار میں صحافت کو دبایا گیا اور آزادی اظہار پر قدغن لگائی گئیں ۔ اس کے برعکس جمہوری حکومتوں میں ایسا کم ہوا۔ بلکہ کافی حد تک میڈیا کو آزادی ملی۔ امریکہ پر ہونے والا دہشت گردوں کا حملہ جسے دینا 11/9 کے نام سے یاد کرتی ہے ۔ اس حملے کے بعد ہونے والی افغان جنگ نے میڈیا کے کردار کو مزید اُبھارا اور دنیا یہ کہنے پر مجبور ہو گئی کہ اب جنگیں بھی میڈیا کے ذریعے ہی لڑی جائیں گی۔ اور پھر ایسا ہی  ہوا۔ افغان جنگ میں  الجزیرہ، بی بی سی اور سی این این ابھر کر سامنے آئے۔ ہمسایہ ملک بھارت یہ بات بہت پہلے سمجھ چکا تھا کہ انٹرنیشنل سطح پر اپنے موقف کو پیش کرنے اور تائید حاصل کرنے کیلئے موثر میڈیا وقت کی ضرورت ہے۔ اس کے دو فائدے ہیں ایک تو آپ اپنی آواز موثرانداز میں پوری دنیا تک پہنچا سکتے ہیں دوسرا آپ اپنی انڈسٹری کا تشہیری بجٹ اپنے ہی ملک کے میڈیا ہاؤسز کو دلوا سکتے ہیں اور آپ کے ملک کے لاکھوں شہری بھی بہتر روزگار حاصل کر سکتے ہیں۔ اسی لیے بہت سے ممالک تو اپنے ممالک کے میڈیا ہاؤسز کو سبسڈی بھی دیتے ہیں۔ پاکستان کے عوام اور صحافیوں نے اُس وقت اظہار تشکر کیا جب ایک آرمی ڈکٹیٹر جنرل مشرف کو یہ بات سمجھ میں آئی اور اُس نے پاکستان میں نا صرف پرائیویٹ ٹی وی چینلز کو لائیسنس جاری کرنے کا فیصلہ کیا بلکہ کراس میںڈیا لائسنس بھی کھول دیے گئے جس سے پہلے سے موجود اخبارات نے بھی لائسنس حاصل کیے اور دیکھتے ہی دیکھتے پاکستان میں بھی چینلز کی تعداد 100 تک پہنچ گئی۔

ان ٹی وی چینلز میں جہاں ہزاروں پاکستانیوں کو روزگار میسر آیا وہیں پاکستان میں موجود بڑی کمپنیاں جو اپنا اشتہارات کا بجٹ پاکستان سے باہر چینلز کو دیتی تھیں پاکستانی چینلز کو دینے لگیں ۔ پاکستان کے حالات اور معیشت کو جب ٹی وی چینلز نے دکھانا شروع کیا تو دنیا بھر سے بڑی کمپنیاں کاروبار کی غرض سے پاکستان آئیں اور معیشت بہتری کی طرف گامزن ہونے لگی۔ جنرل مشرف نے ٹی وی چینلز کو لائسنس تو جاری کر دیے لیکن لائسنس جاری کرنے والی اتھارٹی پیمرا اتنا ہی طاقت ورادارہ تھا جتنا اس ملک میں با اختیار اور امیر آدمی کے سامنے پولیس کا ادارہ ہے۔ اس کا نقصان یہ ہوا کہ ادارے ریگولیرٹی اتھارٹی سے بڑے ہو گئے۔ اور ادارون میں کام کرنے والے جنرلسٹ اور ٹی وی اینکر عوام کی طرف سے پزیرائی ملنے کی وجہ سے ادارون سے بھی بڑے ہو گئے۔ پھر ان بڑے قد والے حضرات کو ادارے اور افراد اپنے اپنے مقاصد کیلئے استعمال بھی کرنے لگے۔ اور پیمرا جو ایک ہومیوپیتھک دوا کی طرح کام کر رہا تھا اختیارات سے تجاوز پر فورا ایکشن نہ لے سکا ۔ جس کا نقصان یہ ہوا کہ کچھ افراد اپنے مقصد سے ہٹ گئے اور نمبر ون کی دوڑ شروع ہو گئی۔

نمبروں کی اس دوڑ کو چیک کرنے کیلئے جو ریٹنگ سسٹم بنانا گیا اُس پر خود سپریم کورٹ سوالیہ نشان اُٹھا چکی ہے۔ پورے پاکستان میں کچھ شہروں میں چند سو میٹر لگا کر ریٹنگ اکھٹی کی جارہی ہے پھر اُس ریٹنگ کو پورے پاکستان کی نمائندہ ریٹنگ بتایا جاتا ہے۔ یہ کیسا ریٹنگ سسٹم ہے جو صرف کرائم کی خبروں اور سیاستدانوں کی لڑائی اور گالم گلوچ ہی پسند کرتا ہے۔ پیمرا یہاں بھی بے اختیار رہا۔ اور صرف تماشائی کا کردار ادا کرتا رہا۔ یہاں مجھے سیالکوٹ میں پاگل ہوئے مجمع کے ہاتھوں قتل ہونے والے دو بھائیوں کی خبر یاد آرہی ہے۔ جہاں پولیس مجمع میں موجود تماشائی کا کردار ادا کر رہی تھی – گزشتہ کئی سالوں میں پیمرا بھی بے چارہ ایسا ہی ادارہ رہا۔عدلیہ بحالی تحریک کی کامیابی اور 2008 میں جمہوریت کی بحالی کے بعد جنرل مشرف کو میڈیا اور جمہوری قوتوں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑے اور اُسے اقتدار چھوڑنا پڑا ۔ جمہوریت بحال ہو چکی تھی میڈیا آزاد تھا لیکن ریگولٹری اتھارٹی کمزور۔ 2008 کے بعد 2013 میں بھی ایک جمہوری حکومت نے اقتدار سنبھال لیا۔ میڈیا اور عوام کو لگنے لگا کہ جمہوریت تو بحال ہو چکی ہے اس کو اب مزید بہتری کی طرف لے کر جایا جائے۔ میڈیا کے کچھ اداروں اورمیڈیا میں کام کرنے والے نوجوان ورکرز نے تحریک انصاف کا انتخاب کیا اور اکتوبر 2011 میں پی ٹی آئی اور میڈیا نے دوبارہ جس جدوجہد کا آغاز کیا اُس کی کامیابی 2018 میں تحریک انصاف کی حکومت کی شکل میں سامنے آئی ۔ جس میں میڈیا کا کلیدی کردار تھا، بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ بعض صحافیوں اور اداروں نے تو باقاعدہ پارٹی بن کر پی ٹی آئی کو سپورٹ کیا تاکہ پاکستان مزید بہتری کی طرف جا سکے۔ ابھی حکومت کو آئے 6 دن بھی نہیں گزرے تھے کہ میڈیا کو نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا، پہلے سرکاری اشتہار بند کیے گئے پھر سرکاری اشتہار کا ریٹ کم کیا گیا اور پھر میڈیا کو بدنام کرنے کیلئے باقاعدہ کمپین شروع کر دی گئیں۔ موجودہ دور میں میڈیا کو گندہ کرنے کا طریقہ کار بالکل ویسا ہی ہے جس طرح 1980 کے آمر جنرل ضیاءالحق کے دور حکومت میں پاکستان کی فلم انڈسٹری کو گندہ کیا گیا تھا۔

اگر اُس دور کے اخبارات کا جائزہ لیا جائے یا جنرل ضیاء کے دور میں رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کے انٹرویو کیے جائیں  تو وہ بتائیں گے کہ اُس دور میں بھی ایسی ہی تشہیری مہمات شروع کی گئیں تھیں کہ صرف فلم انڈسٹری ہی گندی نہیں ہے بلکہ فلم انڈسٹری میں کام کرنے والے اور فلم دیکھنے والے بھی گندے لوگ ہی ہوتے ہیں۔ اُس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہماری فلم انڈسٹری جو 1970 یا 80 کی دہائی تک ہمسایہ ملک کے ساتھ مقابلے میں کہیں آگے تھی تباہ و بربادی کا شکار ہو گئی۔ سٹوڈیو ویران ہو گئے لوگ نے روزگار ہو گئے فلمیں لکھنے والے ناپید ہو گئے اور وی سی آر کلچر عام ہوگیا۔ ایک بڑانقصان یہ ہوا کہ عوام کی جس تفریح کو فُحش کہہ  کر ختم کیا گیا اس کی جگہ انڈین فلموں نے لے لی۔ اور ہم پیغام پھیلانے والے سب سے بڑے ذریعے سے محروم ہو گئے۔ آج 40 سال گزر جانے کے باوجود ہماری فلم انڈسٹری بحال نہیں ہو سکی۔ 2018 اور 19 میں بھی کچھ ادارے اور افراد لگتا ہے 1980 کی طرح کی کسی کمپین پر کام کر رہے  ہیں ۔ بائی کارٹ نیگٹیو میڈیا ہیش ٹیگ یا سوشل میڈیا پر پاکستانی ٹی وی چینلز اور میڈیا ہاؤسز کے خلاف بڑے منظم اندازمیں پروپیگنڈا چل رہا ہے۔ حالات یہاں تک آپہنچے ہیں کہ سڑک پر کھڑا رپورٹر جو اکثر اپنی جان خطرے میں ڈال کر خبریں اکھٹی کرتا ہے اگر اپنی کیمرے کے سامنے رپورٹ پیش کر رہا ہو تو ساتھ سے گررنے والا راہگیر ریمارکس پاس کرتا ہے کہ کبھی سچ بھی بول لیا کرو- میڈیا تو ہے ہی نیگٹو۔ آخر وہ کون ہے جو عوام میں غیر محسوس لیکن منظم طریقے سے میڈیا کے خلاف نفرت کو اُبھار رہا ہے۔ اُس کی پہچان ہمیں کرنا ہوگی ورنہ 40 سال پہلے اپنی فلم انڈسٹری کو برباد کرنے کا بیج بو کر جو نقصان ہم آج تک کاٹ رہے ہیں کہیں خدانخواستہ وہی نقصان ہمیں آنے والے سالوں میں میڈیا کو نقصان پہنچا کر نہ اُٹھانا پڑے۔ ہاں اگر کچھ طاقت ور ادارے یہ سمجھتے ہیں کہ میڈیا کی سمت ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے توریگولیرٹی اتھارٹی کو با اختیار کریں تاکہ وہ قوانین ہر عمل درآمد کرواسکے اور بہتر ریٹنگ سٹم متعارف کروایا جائے تاکہ مثبت پروگرام پروڈیوس کیے جا سکیں۔ نا کہ آپ اپنی ہی ریاست کے ایک ستون کو ہی گرا دیں۔۔ میڈیا انڈسٹری سے لاکھوں پاکستانیوں کا روزگار وابستہ ہے اور اس سے بڑھ کر یہ کہ موجودہ دور میں جنگیں میڈیا اور سوشل میڈیا پر ہی لڑی جا رہی ہیں ۔ اور ہر ملک میں میڈیا ایک قومی ہتھیار کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ ہم کیسے عقل مند ہیں کہ اپنے ہی ہتھیار کو نقصان پہنچانے کے در پر ہیں ۔

تمام ممالک اپنے بڑے اداروں کو سبسڈی دیتے ہیں- اگر سرکاری اشتہارات کی شکل میں میڈیا انڈسٹری کو سبسڈی دی جارہی تھی تو وہ جاری رہنی چاہیے۔ اور یہ بات ارباب اختیار کو ذہن نشین کر لینی چاہیئے کہ کسی بھی معاشرے اور ملک کی ترقی میں آزاد میڈیا کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔ جو تنقید بہتری کیلئے کرتا ہے اس کو ذاتی انا بنا کر اپنی ہی ریاست کو کمزور کرنا کہاں کی عقلمندی ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *