چمکا اک ستارہ تھا ۔۔۔ عشاء نعیم

وہ ایک ماڈرن لیکن شرمیلا لڑکا تھا۔ لیکن گائیکی کا شوق تھا۔ آواز اچھی تھی اور دنیائے موسیقی میں نام کمانا چاہتا تھا۔ والد ائیر فورس میں تھے۔ اس کی قسمت میں کچھ اور تھا۔ اس نے کچھ دن کے لیے تو ایئر فورس جوائن کی لیکن موسیقی اس کا جنون تھا سو وہ سب چھوڑ چھاڑ اس دنیا میں آ گیا۔

اس نے کم عمری میں ہی شہرت کی بلندیوں کو چھو لیا تھا۔

اس کے پہلے البم نے ہی ایسی دھوم مچائی کہ پھر وہ ساری دنیا میں جانا جانے لگا۔

tripako tours pakistan

دل دل پا کستان ،جان جان پاکستان ملی ترانہ اس قدر مقبول ہوا کہ کبھی اس ترانے کی مقبولیت میں کمی نہ آ سکی حتی کہ آج بھی پوری دنیا میں سنا جاتا ہے۔

وہ نوجوان لڑکوں کا آئیڈیل تھا۔ اس کے ہیئر سٹائل سے لے کر ڈریس ہر چیز میں پاکستان کے نوجوان اس کی کاپی کرنا فخر سمجھتے تھے۔

مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے تھے اس نے۔

ہر کسی کی زبان پر جنید جمشید کا نام تھا۔ ٹی وی پر تو چھا گیا تھا۔ ہرٹاک شو میں اس کو بلایا جاتا تھا۔

لیکن پھر اللہ کی رحمت جوش میں آئی اور اس کو جانے کون سی اس شخص کی ادا بھا گئی کہ جنید جمشید اچانک بدل گیا۔

جدید لباس داڑھی سے بے نیاز ماڈرنیٹی و موسیقی کے دلدادہ و سمبل نے گانا بجانا چھوڑ کر داڑھی رکھ لی شلوار قمیص پہن لی اور اپنے نبی کی نعتیں و رب کی ثنا بیان کرنا شروع کردی۔

موسیقی کو خیر باد کہا تو دنیا شوبز میں جیسے بھونچال آ گیا۔ کتنے ہی لوگ تھے جو اس کو واپس بلا رہے تھے اور اسے کہہ رہے تھے یہ بے وقوفی ہے عروج کے دنوں میں اس طرح سب چھوڑ دیا تو کوئی معاش کی فکر دلاتا۔ لیکن جنید کا ایک  ہی جواب تھا کہ ٹوکری تو اٹھا لوں گا لیکن گانا نہیں گاؤں گا۔

درمیان میں ایک بار شیطان نے بہکایا بھی لیکن پھر سکون نہیں ملا تو توبہ کی اور دین کی تبلیغ کے لئے زندگی وقف کر دی۔

تبلیغ کے میدان میں بھی بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جس سے وہ دکھی ہو جاتا لیکن پھر ارداہ مضبوط کرتا۔

لوگوں کو جب وہ دین کی باتیں بتاتا تو لوگ اسے نفرت بھری نگاہ سے دیکھتے اور گالیاں بھی دیتے کہ ایک گلوکار ہمیں دین سکھا رہا ہے۔

کئی سننے سے انکاری ہو جاتے۔لیکن اللہ نے اس کو استقامت دی اور وہ ڈٹا رہا۔

معاشی طور پہ بھی بہت آزمائش آئی لاکھوں میں کھیلنے والا اور ہزاروں روپے ہر وقت جیب میں رکھنے والے کی جیب میں کبھی سو روپے تو کبھی بالکل خالی جیب بھی ہوئی۔

لیکن اللہ کا یہ بندہ پھر اندھیروں کی اس دنیا جو بظاہر انتہائی چمکدار و روشن اور پیسے کی ریل پیل والی ہے میں نہ لوٹا۔ 

پھر اللہ کی مدد آئی اور ایک دوست سہیل کی مدد سے کپڑے کا کاروبار شروع کیا جو رب کی مدد سے چل نکلا اور معاشی استحکام حاصل ہوا۔

اب وہ ٹی وی پہ مذہبی پروگرامز میں مذہبی سکالر کے طور پر آ نے لگا۔اور آہستہ آہستہ اس دنیا میں بھی چھا گیا۔

جنید جمشید کی زندگی میں ہمارے لیے بہت سبق ہے۔ جس طرح اس نے اس رنگین دنیا میں رہ کر اپنے دامن کو پاکیزہ کیا جس طرح اس نے دین کی راہ میں سب کچھ قربان کر کے اس راہ پہ استقامت دکھائی وہ ہم سب کے لئے مشعل راہ ہے۔

اللہ نے یہاں بھی اسے شہرت و عزت دی اور وہ ایک ایسا چمکتا ستارہ بن گیا جو پھر نوجوانوں کے لئے آئیڈیل بن گیا۔ جو کتنے ہی متزلزل ارادے والوں کے ارادوں کو جلا بخش گیا ۔جو لوگوں کو بتا گیا کہ رزق، عزت، شہرت، دولت سب اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ انسان کوئی بھی راہ چن لے یہ اس کی مرضی ہے۔ چاہے تو گمراہی کی چاہے تو روشنی کی۔

وہ سنگر تھا تو بھی دولت عزت شہرت اس کے گھر کی باندی تھی جب دین دار ہوا تب بھی۔

وہ ایک شخص شیطان کو شکست دے کر کتنے ہی لوگوں کے شیطانوں کو کمزور کر گیا۔ کتنوں کو ہمتیں دے گیا۔

وہ اک مثال بن گیا۔

7 دسمبر 2016 کو اللہ کا یہ بندہ اللہ کے نام کی سربلندی کے لئے چترال کی سرزمین پر گیا۔ وہاں لوگوں کو دین کی دعوت دی۔ وہاں جا کر بہت خوش تھا اور چترال کی خوبصورتی سے بہت متاثر ہوا یہاں تک کہ ٹویٹ کی کہ

” میں زمین پہ جنت چترال میں دوستوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں ہوں”

کیا معلوم تھا کہ یہ ٹویٹ آخری ٹویٹ ہوگی اور وہ واقعی اللہ کی جنت کا مہمان بننے والا ہے ان شا اللہ۔ 

واپسی پی آئی اے کے طیارے سے تھی لیکن طیارے کا انجن پھٹ گیا اور جہاز بے قابو ہو کر حویلیاں کے پہاڑوں سے ٹکرا کر پاش پاش ہو گیا۔

اور اللہ کا یہ بندہ جام شہادت نوش کر گیا۔

جنید جمشید کا یوں چلے جانا اس کے چاہنے والوں کے لئے بہت بڑا حادثہ تھا۔ ہر کوئی زارو قطار روتا تھا۔

اللہ کا یہ بندہ کتنے ہی لوگوں کی خفیہ مدد کرتا تھا اور کسی کو کان و کان خبر نہ ہوتی تھی۔ 

وہ اس کے جانے پہ روتے تھے اور اپنے معاش کے لئے بھی فکر مند تھے۔

جن کے لئے جنید جمشید کے بھائی نے اعلان کیا کہ کوئی پریشان نہ ہو وہ میرے پاس آئیں ان کی ویسے ہی مدد کی جائے گی۔

اس کی شہادت ان شا اللہ امید ہے  اسے اصل جنت میں لے گئی ہوگی۔

جنید جمشید کے بیٹے بھی اسی کی راہ پہ ہیں جو ان شا اللہ امید ہے اس کے لئے مزید نیکیاں بڑھانے کا سبب بنیں گے۔ ان شا اللہ۔ اللہ اس کی دین کے لئے کی گئی کوششیں اور شہادت کو قبول فرمائے۔ اور جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین۔ 

Advertisements
merkit.pk
  • merkit.pk
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply