• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • کیا وباء کے دوران مساجد کو بند کردینا خلاف شریعت ہے ؟۔۔ یوسف خان

کیا وباء کے دوران مساجد کو بند کردینا خلاف شریعت ہے ؟۔۔ یوسف خان

ایمان اور دنیاوی مسائل کی وجوہات کے درمیان توازن برقرار رکھنا سنت نبوی ﷺ ہے۔
ہم مسلمانوں کی یہ عادت بن گئی ہے کہ ہم ایمان عقیدے اور روز مرہ پیش آمدہ مسائل اور ان کی وجوہات کے درمیان توازن نہیں کرپاتے۔ ہم میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو ایمان کا پلڑا بھاری کرکے اپنے مسائل کی وجوہات کو سمجھنا تک گناہ تصور کرلیتے ہیں تو کچھ مسائل کی وجوہات کی بناء پر خدا کی ذات پر ہی شکوک و شبہات کا شکار ہوجاتے ہیں۔

اب ذرا ایک منٹ کے لیے  تصور کیجیے کہ اگر بالفرض آج کرونا وائرس کی وباء کے دوران جناب نبی کریم ﷺ اس دنیا میں موجود ہوتے تو آپ ﷺ امت کو کیا حکم جاری فرماتے ؟

اللہ کے نبی ﷺ نے ہمیں ہمیشہ اللہ کی ذات پر یقین کے ساتھ دنیاوی اسباب کو تلاش کرنے اور بہتر سے بہتر زندگی بنانے / گزارنے کی ترغیب دی ہے۔ اگر صرف وبائی امراض کے حوالے سے بات کی جائے تو اس حوالے سے بھی واضح ارشادات موجود ہیں۔

ترمذی شریف کی حدیث ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا (مفہوم ) جب تم دیکھو کہ کسی جگہ میں وباء آگئی ہے تو تم اس جگہ میں داخل نہ ہو اور اگر وباءتمہاری جگہ میں آجائے تو تم اپنا مسکن نہ چھوڑو، اسی ترمذی شریف میں یہ احکامات موجود ہیں کہ وباء زدہ شخص خود کو صحت مند لوگوں سے الگ کرلے اور صحت مند لوگ خود کو وباء کے شکار مریض سے دور کرلیں۔
یہ دوری وہی ہے جسے قرنطینہ کا نام دیا گیا ہے۔

اب آپ بتائیں کہ جب حدیث میں اس قدر احتیاط کی تاکید ہے تو ایسا ملک جہاں روزانہ کی بنیاد پر وباء کا شکار ہونے والوں کی تعداد بڑھتی ہی جارہی ہو وہاں مساجد ، شاپنگ مالز ۔ پارکس اور ہجوم والی جگہوں کو بند کرنا کیوں کر شریعت کے خلاف ہوسکتا ہے؟

شریعت مطہرہ میں کسی بھی بیماری کے لئے باقاعدہ علاج اور احتیاط اپنانے کی بار بار تاکید کی گئی ہے۔
ایک دن جناب نبی کریم ﷺ نے دیکھا کہ ایک بدو نے اپنا اونٹ بغیر باندھے چھوڑ دیا ہے۔ آقا ﷺ نے پوچھا کہ تم نے اپنا اونٹ کیوں نہیں باندھا؟
اس بدو نے جواب دیا آقا ﷺ میں نے اللہ کے بھروسے پر اس کو کھلا چھوڑا ہے۔جناب نبی کریم ﷺ نے اسے فرمایا جاؤ پہلے اسے باندھ کر آؤ پھر اللہ پر توکل کرو کہ اللہ اب اس کی حفاظت تیرے سپرد ہے۔

توکل یا ایمان اس چیز کا نام نہیں کہ آپ بیماری میں پیش آنے والی کمزوری کو ایمان کی کمزوری سمجھ لیں،کرونا وائرس سے بچنے کی احتیاطی تدابیر میں اب تک جو باتیں بتائی گئی وہ سب شریعت کے مطابق ہیں۔

صفائی نصف ایمان ہے یہ ہماری شریعت ہے،
کھانے کھانے سے پہلے ہاتھ دھونے کی سنت ہمارے آقا ﷺ کی سنت ہے،
صبح جاگ کر پہلے ہاتھ دھونے کی تاکید حدیث مبارک میں ہے،
متعدد مرض کی شکار سے دور رہنا حدیث مبارکہ میں موجود ہے

بالکل اسی طرح وباء کی صورت میں صحت مند لوگوں کو وباء سے بچانے کے اقدامات بھی شریعت کا حکم ہیں اس کے لئے اگر مساجد ، مدارس ، شاپنگ مالز پارکس ، عوامی مقامات بند کرنے بھی پڑیں تو کوئی حرج نہیں ہونی چاہیے۔

علامہ محمد بن صالح العثیمان بخاری شریف کی شرح میں کتاب الحج باب اغلاق البیت میں بخاری حدیث نمبر 1598 کی تشریح میں لکھتے ہیں کہ اس حدیث سے امام بخاری یہ ثابت کرنا چاہ رہے ہیں کہ ضرورت کے وقت مساجد اور حتی کہ کعبة اللہ کو بھی بند کیا جا سکتا ہے، اور فرمایا کہ بخاری کی اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی اہم ضرورت کے وقت مساجد کو بند کرنا یا بیت اللہ شریف کو بند کرنا حکم قرآنی کے قطعا ً خلاف نہیں ہے۔

جو علماء اس عمل کی مخالفت کررہے ہیں وہ سوچیں کہ وہ شریعت کا مسئلہ بیان کررہے ہیں یا محض عوامی جذبات کی رو میں بہتے چلے جا رہے ہیں وباء کے دوران اگر آپ احتیاطی تدابیر پر عمل کررہے ہیں تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آپ اپنے آپ کو بچا رہے ہیں بلکہ آپ کی تدابیر آپ کی احتیاط دوسروں کو اس مرض سے بچنے کا سبب بن رہی ہے اور ایک انسان کی جان بچانا کُل انسانیت کو بچانا ہے، یہ میرے رب کا فرمان ہے

Avatar
یوسف خان
یوسف خان، ڈیفنڈر جمعیت علماء اسلام پاکستان

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *