بے حس معاشرے کی ایک جھلک۔۔۔عامر عثمان عادل

سواریوں سے کھچا کھچ بھری بس کوٹلہ کی جانب گامزن تھی بسم اللہ موڑ سے میرے ساتھ کچھ اور لوگ بھی سوار ہوئے جن میں کچھ پٹھان بھی تھے بائے پاس سے ہوتے ہوئے جونہی چک کمال کے پاس پہنچے تو کنڈیکٹر ایک بزرگ سے کرائے پر الجھنے لگا سفید داڑھی والے بابا جی کی عمر 70 برس کے لگ بھگ ہو گی محض چار روپے پر ہونے والی تکرار بڑھی تو بات تو تکار تک آن پہنچی, کنڈیکٹر روائتی بدتمیزی پر اتر آیا. بڑھاپے میں یوں بھی قوت برداشت جواب دے جاتی ہے بابا جی بھی ترکی بہ ترکی جواب دینے لگے کنڈیکٹر کا پارہ چڑھا آ ؤ  دیکھا نہ تاؤ   رکھ کے ایک زناٹے دار تھپڑ بزرگوں کے چہرے پر جڑ دیا مجھے لگا یہ تھپڑ میرے گال پر لگا ہو۔۔

کمزور ضعیف لاچار بابا جو مارنے والے کا ہاتھ روکنے پر قادر تھا نہ تھپڑ کا جواب تھپڑ سے دینے کی قوت رکھتا تھا۔۔ بے بسی کے عالم میں اس کی آنکھوں سے گرنے والا موٹا سا آنسو اسکی سفید داڑھی کو تر کر گیا ،ہاتھ سے تو کچھ کر نہیں سکتا تھا رنج خجالت کو مٹانے کی خاطر بابا جی نے ہٹے کٹے کنڈیکٹر کو ایک موٹی سی گالی دے ڈالی جس پر وہ ایسا سیخ پا ہوا کہ سیٹ تلے سے لوہے کا راڈ نکال کر بابے پر جھپٹ پڑا، اب مجھ سے برداشت نہ ہوا فورا ً لپک کر اس بد بخت کا ہاتھ روکا ،راڈ چھینا اور خوب سنائیں کہ کچھ اور نہیں تو مقابل کی داڑھی کے سفید بالوں کا کچھ پاس کر لو کیا تمہارا اسکا جوڑ بنتا ہے آس بھری نظروں سے اردگرد دیکھا کہ کوئی  میرا ہم نوا بن کر بابا جی کی مدد کو آئے گا مگر بھری بس میں سواریاں کہاں تھیں یہ تو بے حس زندہ لاشیں تھیں جن کے ضمیر کب کے مر چکے مجال ہے جو کسی نے آواز تک نہ نکالی ہو۔

اسی وقت ترجمان ڈیرہ کوٹلہ ابرار چودھری کو فون کر کے احتجاج ریکارڈ کرایا فوری ایکشن لیتے ہوئے ابرار نے کہا اس بس کو گلیانہ روک لیتے ہیں جواب دیا مسافروں کو دقت ہو گی اسے کوٹلہ پہنچنے دیجیے  پھر اس سے بات کریں ،کنڈیکٹر کو معاملے کی سنگینی کا احساس ہو چکا تھا جونہی بس صبور چوک میں پہنچی وہ اتر کر غائب ہو گیا۔
میں سکول پہنچ کر مصروف کار ہو گیا کچھ ہی دیر بعد گاڑی کا مالک کنڈیکٹر کو لئے میرے دفتر آن پہنچا کہ غلطی ہو گئی ہے یہ لڑکا اس علاقے کا نہیں اسے معافی دے دیجئے میں نے کہا پہلی تو بات ہے جس علاقے سے یہ ہے کیا وہاں بزرگوں کا احترام نہیں کیا جاتا؟ اور رہی معافی تو مجھ سے یہ کس بات پر معافی کا خواستگار ہے  اس نے میرا کیا بگاڑا ہے۔۔ ہاں اگر اسے اپنے کئے پر ذرا سی بھی ندامت ہے تو اس بوڑھے کو تلاش کرے اور اسکے پاؤں  پڑ جائے جو اس کے دادا کی عمر کا ہو گا جس کے سفید بالوں کا کچھ خیال اسے آیا نہ جھریوں بھرے باریش چہرے کا اگر اس کے اندر کا انسان بیدار ہو گیا ہے تو یہ وعدہ کرے کہ زندگی بھر کسی بزرگ کے ساتھ ایسا سلوک نہیں دہرائے گا۔

معاشرے کے اندر پائی  جانے والی بے حسی اب تو بے غیرتی کی حدوں کو چھونے لگی ہے ہماری آنکھوں کے سامنے کیا کچھ نہیں ہوتا ہم تماشہ دیکھتے ہیں یا شان بے نیازی سے کندھے اچکا کر نکل جاتے ہیں۔ہاتھ سے روکنا تو اول درجے پر ہے ہم تو برائی  کو دل سے برا سمجھنے سے بھی گئے۔ترقی یافتہ ممالک میں عمر رسیدہ شہریوں کو بے پناہ سہولیات میسر ہیں کرایوں میں کمی خصوصی پاس مفت علاج معالجہ تیمار داری کی خاطر الگ سے اٹینڈنٹ۔

ارے صاحب یورپ اور متمول ممالک کی تو رہنے دیجئے آئیے دربار رسالت میں بزرگوں بڑے بوڑھوں کا پروٹوکول تو ملاحظہ فرمائیے
حضرت انس رض سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں کچھ عمر رسیدہ لوگ آئے ہم نے انہیں راستہ دینے یا نشست دینے میں کوتاہی برتی تو محسن انسانیت نے اس پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا
لیس منا من لم یرحم صغیرنا و یوقر کبیرنا
جس نے ہمارے چھوٹوں پر شفقت اور بڑوں کی عزت نہ کی وہ ہم میں سے نہیں

میرے آقا جی نے ایک اور موقع پر فرمایا
بزرگوں کی تعظیم اللہ کی تعظیم کا ایک حصہ ہے
اور ہمیں جو خیر و برکت حاصل ہے وہ بزرگوں کے وجود کی مرہون منت ہے

ابھی ہم بارہ ربیع الاول منا کے فارغ ہوئے ہیں اس ماہ مبارک میں کسی کو فراغت ملی کہ مجھے یا اس کنڈکٹر کو رحمت اللعالمین کے ان فرمودات سے آگاہ کر دیتا
ہمارے گھروں میں چوک چوراہوں پر گلیوں بازاروں میں آس پاس نجانے کتنے بزرگ ایسے ناروا سلوک کا نشانہ بنتے ہیں کاش کسی واعظ شیریں بیاں کو اتنی فراغت میسر آ جائے کہ ہمیں بزرگوں کا احترام سکھلا دے۔۔

پیارے  قارئین۔۔۔
کسی بزرگ سے اونچی آواز میں بات کرتے ہوئے حبیب خدا حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ودیعت مت بھولنا
جس نے ہمارے چھوٹوں پر شفقت اور بڑوں کی عزت نہ کی وہ ہم میں سے نہیں!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *