میرے ہم وطنو سنو۔۔۔۔عارف خٹک

اگر میں اپنی بات کروں تو میرے بچے کیمبرج سکولوں میں پڑھتے ہیں۔خود اچھا کھاتا ہوں۔ اچھا کماتا ہوں اور اچھا پہنتا ہوں۔ میں اپنی زندگی سے الحمداللہ بہت مُطمئن ہوں۔ اگر اس کے باوجود بھی کچھ ناہنجار کیڑے مجھے نچلا نہیں بیٹھنے دے رہے تو اس کی توجیح کیلئے میں اور کیا کہہ سکتا ہوں۔

میں نے شاہد خٹک جیسے غریب بندے کو اس لئے سپورٹ نہیں کیا تھا کہ اس کی شکل اچھی ہے،یا وہ مُجھے کوئی ذاتی فائدہ دے گا۔ کیوں کہ سال بھر بعد میرے بچے صرف دو یا تین دن کے لئے کرک جاتے ہیں۔اس لئے کرک کی خوشحالی یا بدحالی کا مُجھ سمیت میری فیملی پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔مگر کرک کی خشک سالی، میری بہنوں اور ماؤں کے سروں پر دھرے پانی کے بھاری مٹکے، سسکتے بیمار بچے اور خراب انفراسٹرکچر نے مجھے کرک کےلئے آواز اُٹھانے پر مجبور کرڈالا۔ میں مُنتظر ہوں کہ شاہد خٹک کب میرے خوابوں کی تعبیر پوری کرے گا،کہ آغاز دیکھ کر میں پُراُمید ہوں۔

میں وزیرستان کو اس لئے رو رہا ہوں،کہ “ماں” کا پہلا لفظ میں نے میرعلی میں سیکھا اور بولا۔ گاؤں موسکی میں میرا بچپن گزرا۔ خوشی غمی اور روکھی سوکھی میں بچپن کے سجن زاہد نور سے ہر دم ساتھ رہا۔ گاؤں ہرمز کے سیکنڈری اسکول سے میں نے الف ب پ سیکھی۔ حیدرخیل، خدی، مچی خیل، سپلگہ، چشمئے، میرانشاہ رزمک، مکین اور لدھا میں اتنا گُھوما پھرا ہوں، اور بچپن کے دوست  آج بھی زندہ ہیں۔ جن کے اندر میں زندہ ہوں  کہ آج بھی وزیرستان میں گولی چلتی ہے تو میرا دل دہل جاتا ہے۔ اس لئے 2013 ء میں وزیرستان کےلئے میں نے کراچی سے نوحہ لکھا۔ میں رویا ہوں آپریشن ضرب عضب میں اپنے شہید ہم جماعتوں کےلئے۔ میرے شفیق اُستاد کے گھر سے سات جنازے ایک ہی رات میں اُٹھے۔ میں ان کیلئے بھی تڑپا ہوں۔
میں منظور پشتین کےلئے بھی رویا ہوں،جب اُس کو اسلام آباد ایئرپورٹ سے منع کردیا گیا۔ وہ لاہور گیا،اور وہاں سے بھی منع کرنے کے بعد جب وہ کراچی بائی روڈ آرہا تھا۔تو میں نے اُسے کال کی،کہ منظور میں کچھ بھی نہیں کر پارہا۔
پاکستان پیپلز پارٹی سے کبھی میری نہیں بنی۔ مگر منظور کو جب سندھ سے بےدخل کرنے کا نوٹیفکیشن آیا۔تو برادر محترم عثمان غازی(ترجمان بلاول)کو رات دس بجے فون کرکے درخواست کی۔ اور گھنٹے بعد منظور کو سندھ سے بےدخلی کے احکامات واپس ہوگئے۔ جس کےلئے میں تاحیات بلاول زرادری کا مشکُور رہوں گا۔

عابد آفریدی نے عید اپنے بچوں سے دُور اسلام آباد کی سڑکیں ناپتے گزار دی۔بیچارا کل ملتان کی گرمی میں خراب ٹرین میں چھ گھنٹے جُھلستا رہا۔ رات گئے کراچی پہنچا۔اور بچوں کو صبح گلے مل کر باسی عید کی مبارکباد دی ہی تھی کہ دوپہر کو پھر میں نے اُسے دو جوڑوں میں پشاور روانہ کردیا۔تاکہ گورنر ہاؤس میں گرینڈ جرگہ کا انعقاد ممکن بنایا جاسکے۔لہٰذا آپ سے درخواست ہے کہ نام،شُہرت اور جذباتی نعروں سے آپ وقتی طور پر تو پُرسکون اور مُطمئن ہو سکتے ہیں ۔مگر بُردباری اور ٹھنڈے دماغ سے سوچنے کے ثمرات دیر سے ملتے ہیں،اور دیرپا ہوتے ہیں۔ ہم مذاکرات کی میز پر بیٹھ رہےہیں،تاکہ میرے قبائل کے بچوں کے ہاتھ میں دوبارہ بندوق نہ تھمائی جائے۔ان کے سُتے ہوئے چہرے ہمیشہ ایسے ہی نہ رہیں۔بیس سال بعد وہ ہم سے یہ سوال نہ  کریں،کہ انکل آپ لوگوں کے ہاتھ میں قلم تھا۔ اس قلم کو آپ نے ہمارے لئے تلوار کیوں نہ بنایا۔
میں لدھا، شوال، مکین، دوسلی، اسپین وام، شنکئے، تیراہ، اورکزئی، صدہ، باجوڑ اور مہمند کے بچیوں کے ہاتھوں میں بستے اور کتاب دیکھ رہا ہوں۔ جو خواب منظور پشتین نے دیکھا ہے۔میں اس خواب کی تعبیر مستقبل کے ہنستے مسکراتے چہروں میں دیکھ رہا ہوں۔
کیا آپ نان پشتون بھائی اور بہنیں ان پشتون بچوں کے چہروں پر وہی مسکراہٹیں واپس لانا چاہتے ہیں؟جو اُن سے وقت کی دُھول نے چھین لی ہیں۔اگر ہاں۔۔۔
تو ہمارے ساتھ پشاور گورنر ہاؤس میں بیٹھ جایئے۔ جہاں قبائلی پشتون آپ کو بتائیں گے کہ ان کےساتھ کیا ظلم ہوا ہے۔ اور مُقتدر ادارے اس پر اپنا کیا موقف اختیار کریں گے۔ آئیے دونوں کا مکالمہ سنتے ہیں۔ دونوں کے گِلے شکوے سنتے ہیں۔ اور ریاست کی اس سے بڑی خوبصورتی بھلا اور کیا ہوگی کہ اس کے بچے پہلی بار ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھ کر اپنے گِلے شکوے بیان کریں گے۔

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *