• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • سید نا محمد ﷺزمانہ جدید کے پیغمبر۔۔۔۔عائشہ یاسین/مکالمہ عظمتِ محمد ﷺ ایوارڈ

سید نا محمد ﷺزمانہ جدید کے پیغمبر۔۔۔۔عائشہ یاسین/مکالمہ عظمتِ محمد ﷺ ایوارڈ

اسلام صرف مذہب ہی نہیں بلکہ ایسی تہذیب ہے جو علم و شعور، آگہی، خواندگی، تعلیم و تعلم اور اَرضی و آفاقی حقائق کو جاننے کا نام ہے۔ اس تہذیب کی بنیاد خوب صورت انسانی اقدار اور اخلاقیات پر استوار ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ نبی الزماں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر دور کے پیغمبر اور نبی ہیں۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جو تعلیمات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آج سے 1400سال پہلے پھیلائی اس کا اطلاق آج بھی ویسے ہی لازم ہے کہ جیسے پہلے تھا۔ آیئے تاریخ کے اوراق کو گردانتے ہیں اور سیرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم پر نظر ڈالتے ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ملحد و لادین عرب معاشرے میں مبعوث فرمایا گیا جو کلیتاً جاہل، ناخواندہ اور غیر مہذب تھا۔ عرب پڑھنے لکھنے سے مکمل طور پر عاری تھے۔ امام بلاذری نے فتوح البلدان میں لکھا ہے کہ مکہ مکرمہ ایک دارالسلطنت تھا لیکن اس کی دس لاکھ آبادی میں سے تقریباً پندرہ نفوس لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔ تعلیمی سطح کے اعتبار سے اس طرح کے معاشرے میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جو پہلی وحی نازل ہوئی وہ حصولِ علم اور پڑھنے کے حکم پر مشتمل تھی۔

اللہ رب العزت کا فرمان اقدس ہے :
إِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِيْ خَلَقَo خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍo إِقْرَأْ وَرَبُّکَ الْأَکْرَمُo الَّذِيْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِo عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْo
(العلق، 96 : 1-5)

’’(اے حبیب!) اپنے رب کے نام سے (آغاز کرتے ہوئے) پڑھئے، جس نے (ہر چیز کو) پیدا فرمایاo اس نے انسان کو (رحم مادر میں) جونک کی طرح معلق وجود سے پیدا کیاo پڑھئے اور آپ کا رب بڑا ہی کریم ہےo جس نے قلم کے ذریعے (لکھنے پڑھنے کا) علم سکھایاo جس نے (سب سے بلند رتبہ) انسان (محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو (بغیر ذریعہ قلم کے) وہ سارا علم عطا فرما دیا جو وہ پہلے نہ جانتے تھے۔‘‘

ان پانچ آیات میں نو موضوعات کا بیان اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ یہ پہلی وحی ناخواندگی اور جہالت کے لیے ایک چیلنج تھی۔ قرآن حکیم اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معاشرے کی اصلاح اور اسے تہذیب یافتہ بنانے کی جدوجہد شروع کی اور ہر فرد کو لکھنے پڑھنے، تحقیق و جستجو اور کائنات کے مخفی حقائق تک رسائی کا راستہ دکھایا۔ گویا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دینِ اسلام کی تحریک کا آغاز علم اور سائنس کے پیغام سے کیا۔ یہی وجہ ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اَفرادِ معاشرہ پر تعلیم و تحقیق اور سائنس کے حصول پر بہت زیادہ زور دیا۔ صحیح بخاری میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے :

قام فينا النبی صلی الله عليه وآله وسلم مقامًا، فأخبرنا عن بدء الخلق حتی دخل أهل الجنة منازلهم و أهل النار منازلهم، حَفِظ ذٰلک مَن حَفِظَه و نَسِيَه مَن نَسِيَه.
(صحيح بخاری، کتاب بدء الخلق، 3 : 1166، رقم : 3020)

’’ایک دن رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مخلوق کی پیدائش کا اِبتدا سے ذِکر فرمانا شروع کیا یہاں تک کہ جنتی اپنے مقام پر پہنچ گئے اور دوزخی اپنے مقام پر (یعنی ابتدائے خلق تخلیق کائنات سے لے کر اہلِ جنت کے جنت میں داخل ہونے اور ان کے منازل تک پہنچنے اور اہلِ جہنم کے جہنم میں داخلے اور ان کے ٹھکانے تک سب کچھ بیان فرما دیا)۔ پس اس بیان کو جس نے جس قدر یاد رکھا اسے یاد رہا اور جس نے جو کچھ بھلا دیا وہ بھول گیا۔‘‘

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

لقد ترکنا رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم وما يحرّک طائر جناحيه فی السّماء إلا أَذْکَرَنَا منه علماً.
(مسند أحمد بن حنبل، 5 : 153)

’’اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب ہم سے رخصت ہوئے تو (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس قدر علم بیان فرمایا کہ) آسمانی فضا میں ایک پرندہ جو اپنے پروں کو حرکت دیتا ہے ( وہ کیسے حرکت دیتا ہے) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا علم بھی ہمیں بتا دیا تھا۔‘‘

یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قوانینِ حرکت اور فضائے بسیط میں اُڑنے کے ضوابط آج سے چودہ سو سال پہلے بیان فرما دیئے جن پر موجودہ دور میں aviation science کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ آپ ذرا اپنی چشم تصور کو چودہ صدیاں پیچھے لے جائیں کہ جب ہر طرف جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیرے چھائے ہوئے تھے؛ اونٹوں، خچروں، گدھوں یا گھوڑوں پر سفر کیا جاتا تھا اور کوئی شخص یہ سوچ بھی نہیں سکتا ہے کہ ان کے علاوہ بھی سواریاں ہوں گی؛ لیکن حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُس دور میں بیان فرما دیا کہ لوگ میانی توانائی سے چلنی والی سواریاں بھی استعمال کریں گے جیسے ہوائی جہاز، موٹر سائیکل، کار وغیرہ۔ حالانکہ اُس دور میں علم و سائنس کا کوئی تصور نہیں تھا، میکانی ترقی کا کوئی خیال نہیں تھا، صنعت اور ٹیکنالوجی کا کوئی نام و نشان نہیں تھا اور نہ ہی انسانی و سماجی ترقی کا کوئی وجود تھا۔

حضرت عبد اﷲ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے مری ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

سيکون فی آخر هذه الأمة رجال يرکبون علی المياثر.

(المستدرک للحاکم، 4 : 483، رقم : 8346)

’’میری اُمت کے دورِ اواخر میں لوگ گوشت پوست اور ہڈیوں کے جانوروں کی بجائے دوسری سواریوں (یعنی موٹر گاڑیوں وغیرہ) پر سفر کریں گے۔‘‘

اِس حدیث مبارکہ سے مراد ہے کہ عنقریب اُمتِ محمدیہ کے لوگ گوشت پوست کی سواریوں کی بجائے میکانی ٹیکنالوجی سے بنی ہوئی سواریاں استعمال کریں گے۔ اِس سے جہاں سواریوں میں ترقی کا عندیہ ملتا ہے وہیں یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ شہر اور ان میں پنپنے والی تہذیبیں وسعت پذیر ہوجائیں گی اور لوگ ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کی حامل سواریوں کا استعمال کریں گے۔

اس کی وضاحت حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی اِس حدیث مبارکہ سے بھی ہوتی ہے جس میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زمان و مکان (time and space) اور ناممکن فاصلے سمٹنے سے متعلق دورِ جدید کی سائنسی ترقی کے بارے میں فرمایا :

لا تقوم السّاعة حتی يتقارب الزمان وتزوی الأرض زيا.

(کنز العمال، 14 : 2886)

’’اس وقت تک قیامت بپا نہیں ہوگی جب تک زمانے (وقت) کی اکائیاں اور زمین کے فاصلے سمٹ کر ایک دوسرے کے بالکل قریب نہ آجائیں۔‘‘

حدیثِ ابو زاہریہ میں ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

إن اﷲ تعالی قال : أبثّ العلم فی آخر الزمان حتی يعلمه الرجل والمرأة والعبد والحرّ والصغير والکبير، فإذا فعلت ذالک بهم أخذتهم بحقی عليهم.

(سنن دارمی، 1 : 92، رقم، 253)

’’بے شک اﷲ تعالیٰ نے فرمایا : میں آخری زمانہ میں علم کو (دنیا کے گھر گھر میں) خوب پھیلا دوں گا حتی کہ مرد و زن، غلام و آزاد اور چھوٹے، بڑے سب اس کو پا لیں گے۔ پس جب میں لوگوں کے ساتھ یہ معاملہ کر لوں گا تو پھر ان پر اپنے حقِ واجب کی بنا پر ان کی گرفت بھی کروں گا۔‘‘

تاجدارِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ٹی۔ وی، انٹرنیٹ، الیکٹرانک میڈیا اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے بارے میں بھی خبر دی اور واضح کر دیا کہ جاسوسی، سکیورٹی اور نگرانی کرنے والے مختلف آلات بھی تیار ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قسم کھاتے ہوئے فرمایا :

والذی نفسی بيده! لا تقوم الساعة حتی تکلم السباع الإنس، و حتی تُکلّم الرجل عذبة سوطه، وشراک نعله، و تخبره فخذه بما أحدث أهله بعده.

(جامع ترمذی، کتاب الصلاة، باب ما جاء فی نسخ الکلام 4 : 476، رقم : 2181)

’’اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! قیامت اس وقت تک بپا نہیں ہوگی جب تک (عالم انسانیت اِتنی ترقی نہ کر جائے کہ) بہائم (تفتیشی کتے اور دیگر جانور) انسان سے ہم کلام ہوں اور آدمی کے چابک کا دستہ اور اس کے جوتے کا تسمہ اس سے کلام کرے (مراد ٹیلی کمیونیکیشن اور انٹیلی جنس کے حساس خفیہ آلات ہیں یعنی سائنسی ترقی کے ذریعے ان میں سے آوازیں آنے لگیں گی اور وہ معلومات فراہم کریں گی)۔ اسی طرح انسان کی ران (مراد انسانی اعضاء کی مانند جاسوسی کے آلات) اسے خبر دے گی کہ اس کے بعد اس کے گھر والے کیا کرتے رہے ہیں۔‘‘

اس حدیث نبوی میں دور جدید کے ان تمام صوتی و سمعی آلات یعنی ٹیلی فون، کمپیوٹر، الیکٹرانک آلات (electronic devices) اور الیکٹرانک سسٹم کا اشارہ فرما دیا گیا ہے جو تفتیش و تحقیق، مخبری و جاسوسی اور ترسیلات و مواصلات کے سلسلے میں استعمال ہورہے ۔
یہاں ہم نے سیرت طیبہ سے صرف چند مثالیں دینے پر اکتفا کیا ہے کہ کس طرح آج سے چودہ صدیاں قبل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے حقائق بیان فرما دیئے جن کا تصور بھی اُس وقت کوئی نہیں کر سکتا تھا۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک ایسی تہذیب کی بنیاد رکھ رہے تھے جو علم و تحقیق اور سائنس و ٹیکنالوجی پر استوار ہو۔ یہی وجہ ہے کہ عہد رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک دو صدیاں بعد ہی مسلم تہذیب و ثقافت اتنی ترقی کر گئی کہ مسلمانوں نے دوسری قوموں کی رہنمائی کرنا شروع کر دی۔ یہی وجہ ہے کہ اَغیار بھی اس حقیقت کا اعتراف کیے بغیر نہ رہ سکے۔ نام ور مستشرق تھامس آرنلڈ نے لکھا ہے :

’’اسلامی دور حکومت میں قرطبہ یورپ کا مہذب ترین شہر تھا۔ ریاست ِ بلکان میں ویانا کو دنیا کے قابلِ تعریف اور عجیب ترین شہر کا درجہ حاصل تھا‘‘۔

جب کہ Rosenthal کا کہنا ہے :
’’مسلمانوں کے دور حکومت میں قرطبہ تہذیب کا مرکز تھا اور علم کے حصول کے لئے دنیا کی سب سے عظیم جگہ تھی۔‘‘

دمشق، حلب، بغداد، موصل، مصر، بیت المقدس، بعل بک، نیشا پور، خراسان وغیرہ کی صورت حال بھی قرطبہ سے مختلف نہ تھی۔ یہ شہر اسکولز، کالجز، میڈیکل کالجز اور یونیورسٹیوں سے بھرے ہوئے تھے۔ یہاں سائنسی ترقی و تحقیق، علم و شعور اور آگہی کا اخلاقی و انسانی اقدار کی بنیادپر رکھا گیا وہ کلچر تھا جو تاجدارِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آج سے چودہ صدیاں قبل متعارف کرایا تھا اور یہ سارے اہداف اس بات کو باور کراتے ہیں کہ اپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر دور کے پیغمبر اور رہبر ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسوہ حسنہ کو اللہ تعالی نے جامع اور مکمل کرکے اس دنیا میں بھیجا تھا جو نا صرف دین کو مکمل کرتا ہے بلکہ معاشی و معاشرتی، دینوی، سیاسی ، ریاستی اور شخصی خاکہ کو جامع بناتا ہے۔ چاہے غزوات ہوں یا کوئی معاہدہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کا مسلمان اپنے ہر فیصلے میں مرد مومن نظر آتا ہے جہاں اس کو انسانیت کی معراج ملتی ہے اور اپنے رب کی رضا بھی حاصل رہتی ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *