طاہر چوہدری ایڈووکیٹ کے قانونی مشورے

سوال:میرے خلاف جھوٹی ایف آئی آر درج کرائی گئی۔جھوٹا پرچہ کروانے والوں کو کیا سزا مل سکتی ہے؟ کیا جھوٹے گواہوں کیلئے بھی کوئی قانون موجود ہے؟
جواب:تعزیرات پاکستان کی دفعہ 182 کے تحت جھوٹی ایف آئی آر درج کرانا جرم ہے۔جھوٹی گواہی دینا بھی جرم ہے۔پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 193،194 میں جھوٹے گواہوں کیلئے سزائیں مقرر ہیں۔جتنے سنگین جرم کا جھوٹا الزام لگایا گیا ہوگا اتنی ہی سزا بھی زیادہ ملے گی۔مثلا ً کسی کی جھوٹی گواہی پر کسی کو سزائے موت ہوجاتی ہے تو اس جھوٹے گواہ کو بھی موت تک کی سزا دی جاسکتی ہے۔اسی طرح باقی جرائم کی جھوٹی گواہی دینے پر بھی مختلف لیکن شدید سزائیں مقرر ہیں۔

سوال:میرے والد صاحب نے مجھے جائیداد سے عاق کر دیا تھا۔ان کی وفات کے بعد کیا میرا وراثتی جائیداد سے حصہ بنتا ہے؟
جواب:اگر آپ کے والد صاحب نے اپنی زندگی میں اپنی جائیداد کسی کے نام نہیں لگوائی تھی۔وہ جائیداد اولاد میں سے کسی ایک یا سب کے نام نہیں لگوا کر گئے تو یہ وراثت اب سب کی ہے۔آپ بھی اس وراثتی جائیداد سے بالکل اسی طرح حصے دار ہیں جس طرح باقی سب بہن بھائی۔ عاق کرنے کی قانون کی نظر میں کوئی حیثیت نہیں ہے۔

سوال:میری بیوی سے علیحدگی ہوگئی۔ہمارا ایک بچہ تھا۔عدالت نے یہ بچہ بیوی کی کسٹڈی میں دیا جبکہ مجھے اس کا ماہانہ خرچہ ادا کرنے کا حکم دیا۔میں 2 سال سے اپنے بچے کا خرچہ باقاعدگی کے ساتھ ادا کر رہا ہوں۔میری سابقہ بیوی نے اب دوسری شادی کر لی ہے۔کیا میں اپنا بچہ واپس لے سکتا ہوں؟ کیس کروں تو بچہ واپس ملنے کے کتنے امکانات ہیں؟
جواب:ماں کی دوسری شادی کی صورت میں بچے کی کسٹڈی عموما ً پہلے باپ کو مل جاتی ہے۔نان کسٹوڈیل باپ کے حقوق پر عدالتیں بھی اچھے فیصلے دے رہی ہیں۔یہ کیس بچی کی حوالگی سے متعلق ہو تو پہلے باپ کا حق زیادہ بہتر ہوجاتا ہے کہ آپ کی بیوی کا دوسرا شوہر اس بچی کیلئے نا محرم ہے۔عدالت بچی کی عمر کو بھی ملحوظ خاطر رکھے گی۔

سوال:میں نے ایک معروف درزی کو سلائی کیلئے سوٹ دیا۔شادی کے قریب مقررہ تاریخ پر کہا گیا کہ آپ کا کپڑا گم ہوگیا ہے۔مہنگا کپڑا تھا۔میں نے پیسے مانگے وہ بھی نہیں دیتے۔میرا شادی کا ایونٹ بھی خراب ہوا۔کیا کروں؟
جواب:اگر آپ کے پاس رسید محفوظ ہے تو اس درزی کو لیگل نوٹس بھجوائیں اور پھر ایک مہینے کے اندر کنزیومر کورٹ ایکٹ 2005 کے تحت صارف عدالت میں کیس دائر کریں۔اس کیس میں عدالت سے کپڑے کی قیمت،بمعہ بھاری ہرجانہ اور وکیل کی فیس،مقدمے کے اخراجات وغیرہ بھی طلب کریں۔داد رسی ہوگی۔

سوال:میری بیوی نے عدالت کے ذریعے خلع لے لی۔کیا اس عدالتی فیصلے کیخلاف اپیل کی جاسکتی ہے؟
جواب:دونوں پارٹیز کو باقاعدہ سن کر عدالت خاتون کو خلع کی ڈگری جاری کردے تو اس فیصلے کیخلاف کہیں بھی اپیل نہیں کی جاسکتی۔
تاہم اس کے برعکس اگر عدالت خلع کی ڈکری دینے سے انکار کردے تو عورت اس فیصلے کیخلاف اپیل ضرور کرسکتی ہے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *