• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • سیدنا محمدﷺ ، زمانہ جدید کے پیغمبر۔۔۔۔محمد حسین آزاد/مکالمہ عظمتِ محمد ﷺ ایوارڈ

سیدنا محمدﷺ ، زمانہ جدید کے پیغمبر۔۔۔۔محمد حسین آزاد/مکالمہ عظمتِ محمد ﷺ ایوارڈ

امت محمدیہ ﷺ سے پہلے ساری قوموں کی رہنمائی  کے لئے اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرامؑ بھیجے لیکن محمدﷺ کو اللہ تعالیٰ نے تمام دنیا کے لئے رحمت بنا کر بھیجا۔ آپﷺ کے بعدقیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا۔ اور آپﷺ کی  تعلیمات اپنا کر ہر زمانے کے لوگ اچھی اور خوشحال زندگی گزار سکتے ہیں جس میں دنیا و آخرت دونوں  کی بھلائی ہوگی۔
آج کے دور میں امت مسلمہ سینکڑوں فرقوں میں تقسیم ہوکر اپنے اصلی مقصد سے بھٹکی ہوئی ہے۔ اسلام دشمن قوتیں مسلمانوں کو تقسیم کرنے میں اپنا بھر پور کردار ادا کر رہی  ہیں، اور مسلمان دین اسلام کی بنیادی تعلیمات کو چھوڑ کر چھوٹی چھوٹی باتوں پر اپنے مسلمان بھائیوں  سے دشمنی پال رہے ہوتے ہیں۔

قارئین! میرے خیال میں اس تفریق کی سب سے بڑی وجہ تعلیم کی کمی ہے۔ ہمارے نبی حضرت محمدﷺ کا ارشاد ہے تعلیم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے۔ اب جس تفریق کا میں ذکر کرنے جا رہا ہوں تو وہ یہ ہے کہ ہمارے سبھی دینی رہنما ء یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ دین اسلام کو انہوں نے اچھی طرح سٹڈی کیا ہے۔اور انہوں نے دین اسلام کے  جو طریقے اپنائے ہیں وہ صحیح ہے۔ حالانکہ ٹھیک ہی تو کہتے ہیں کہ دین اسلام کے بارے میں ان کا مطالعہ بہت وسیع ہوتا ہے اور چھوٹے  موٹے  اختلافات تو پہلے سے آرہے ہیں  لیکن ان کے جو پیروکار ہوتے ہیں وہ ناسمجھ ہوتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ انہوں نے جو طریقے اپنائے ہیں وہ ٹھیک ہیں باقی سب غلط۔ دوسری بات یہ ہے کہ ابھی علماء و دینی رہنماؤں کے مقدس لباس میں کچھ جعلی لوگ بھی آئے ہوئے ہیں جیسے علماء کا روپ دھارتے ہوئے اپنے آپ کو بڑا پیر کہتے ہیں۔ بہت سارے لوگ اس کی آ ندھی تقلید کرتے ہیں اور اپنے مرشد کی پیروی میں اتنے آندھے ہوجاتے ہیں کہ اپنے مسلمان بھائی انہیں کافر لگتے ہیں اور ان کے خلاف جنگ کرنے کے لیے بھی تیار ہوتے ہیں۔وہ یہ نہیں سمجھتے کہ یہ چھوٹے موٹے اختلافات تو ہر جگہ میں ہوتے  ہیں۔ اور یہ لڑائیوں اور جھگڑوں سے حل نہیں ہوتی۔

قا رئین، اگر ہم اپنے پیارے نبی حضرت محمدﷺ کی  احادیث پر عمل کرکے علم حاصل کریں تو کوئی بھی ہم کو دھوکہ نہیں دے سکے گا اور نہ ہم سے ایسا کام لے گا جس سے کسی مسلمان یا دین اسلام کو کوئی نقصان پہنچے۔
حضرت محمدﷺ قیامت تک کی  تمام مخلوق کے لئے مشعل راہ ہیں۔ آپﷺ خاتم النبین ہے۔ آپﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اس لیے انہوں نے دین اسلام کا  پیغام پھیلانے کا کام اپنی  امت کے ذمے لگا دیا۔ اب تمام مسلمانوں کو اتنا علم حاصل کرنا چاہیئے تاکہ اللہ و رسول ﷺ کا پیغام لوگوں تک اچھی طرح پہنچا سکے۔ مسلمانوں کو آپ ﷺ کی  تعلیمات پر عمل پیرا ہونا چاہیے تاکہ دوسرے لوگ ان سے متاثر ہوکر اسلام قبول کریں۔۔
حضرت محمدﷺ نے بڑی سادہ زندگی گزاری۔ آپؐ نے کبھی کسی کو تکلیف نہیں دی۔ اور جس کو تکلیف میں  دیکھتے تو بہت دکھ محسوس کرتے۔ قریش کے لوگوں نے آپﷺ کو بڑی تکلیفیں دیں ، ان پر گند پھینکے، پتھر برسائے لیکن پھر بھی آپﷺ نے ان لوگوں کا برا نہیں چاہا، آپﷺ نے انہیں بد دعائیں نہیں دیں ۔ نبی پاکﷺ کی حدیث کا مفہوم ہے کہ سب سے بہترین انسان وہ ہے جس کے ہاتھ ا ور زبان سے دوسرے انسان محفوظ ہوں۔ اگر آج کے دور میں دیکھا جائے اس لحاظ سے کوئی بھی محفوظ نہیں۔ حسد جیسی روحانی بیماری ہر کسی میں پائی جاتی ہے لیکن بعض لوگ اس بیماری پر کسی حد تک قابو پالیتے ہیں اور بعض تادم مرگ  دوسروں کی ٹانگیں توڑنے کی کوشش میں مصروف ہوتے ہیں۔ اگر  ہم آپﷺ کی حدیث مبارکہ پر عمل کرکے اپنے ہاتھ و زبان کو کنٹرول کریں، دوسروں کو اگر فائدہ نہیں پہنچا سکتے تو انہیں نقصان نہ پہنچائیں۔۔ تو بہت سے معاشرتی مسائل ختم ہو سکتے ہیں۔

حضرت محمدﷺ کا ارشاد ہے، ”رشوت لینے اور دینے والے دونوں جہنم میں جائیں گے“۔ آج کے دورجدید میں لوگ رشوت کو گناہ تسلیم کرتے بھی نہیں ہیں۔ ایک شخص جو تھوڑے بڑے عہدے پر مامور ہوتا ہے، جب لوگوں سے مخاطب ہوتاہے تو قرآن و احادیث کے حوالے بھی دیتا ہے۔اور لوگ اسے ایک پاک دامن شخص سمجھتے ہیں لیکن حقیقت میں رشوت بھی لیتا ہے اور ان غریب اور ناسمجھ لوگوں کے پیسے بھی چوری کرتا ہے وہ بھی بڑی چالاکی سے۔ اور اسے وہ گناہ نہیں سمجھتا جیسے وہ چوری اور رشوت کے علاوہ منافقت بھی کرتا ہے۔ حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ جہنم میں منافق سب سے نیچے درجے میں ہوگا۔ لہذا ایسے افراد منافقت جیسے بڑے  گناہ کے بھی مرتکب ہوتے ہیں جو معاشرتی مسائل کی جڑ ہے۔ اور ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ  یہاں کوئی جتنا بڑا منافق ہوتا ہے اسے اتنا بڑا دانا سمجھا جاتا ہے۔ اس وجہ سے ہمارا معاشرہ بہت سارے مسائل کا شکار ہے۔
آج مسلم دنیا کے بہت سے ممالک خانہ جنگی کی زد میں ہیں جیسے افغانستان، عراق، شام وغیرہ۔ پاکستان بھی کافی  عرصے تک دہشت گردی کی وجہ سے خانہ جنگی کا شکار رہا۔ ان سب مسائل کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ مسلمان اپنی دینی تعلیمات سے بہت دور ہو چکے ہیں اور اس پر عمل نہیں کرتے جس سے کئی غیر مسلم قوتیں فائدہ اٹھا کر مسلمانوں کو مسلمانوں ہی کے خلاف استعمال کررہی ہیں۔
ہمارے حکمران اگر حضرت محمدﷺ کی  تعلیمات اپنا کر اور اسلام کی طرز حکمرانی متعارف کرائی جائے تو مسلم دنیا کے سارے مسائل ختم ہو جائیں  گے۔ہماری مذہبی تفریق سے بھی اسلام دشمن قوتیں فائدہ اٹھا کر ہم مسلمانوں کو ایک دوسرے کے دشمن بنادیتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہمارے معاشرے میں بہت سی  ایسی برائیاں پھیلی ہوئی ہیں جس کا سنت نبویﷺ میں بہت آسان علاج موجود ہے۔ آج کل ہمارے نوجوان نسل لڑکے   لڑکیاں مغربی کلچر سے بہت متاثر نظر آرہے ہیں جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہاں کے سب لوگ مرد و عورتیں آزاد ہیں۔ لیکن یہاں ہمارا مذہب اور ہمارا کلچر بھی ایسی آزادی کی  اجازت نہیں دیتا۔ لیکن ہم اگر اپنے پیغمبر حضرت محمدﷺ کی  سنتوں پر عمل کریں تو پھر ہمارے نوجوان اپنے لوگوں اور اپنے  کلچر کے گیت گائیں گے۔ حضرت محمدﷺ کا ارشاد ہے ”نکاح سنت ہے“۔ آ پ ﷺ کی تعلیمات کے مطابق جب کوئی لڑکا یا لڑکی بالغ ہوجائے تو فوراََ اس کی شادی کرنی چاہیے۔ جب کسی کی شادی ہوجائے تو اس کا آدھا ایمان پورا  ہوجاتا ہے، شیطان اس کا زیادہ پیچھا نہیں کرتا۔لیکن آج ہم مسلمانوں نے آپﷺ کی  اس حدیث پاک کو مکمل طورپر نظر انداز کیا ہے جس کی وجہ سے بہت سارے خاندانی مسائل سامنے آرہے ہیں۔ عورتوں کو جس طرح اسلام میں تحفظ حاصل ہے، کسی دوسرے مذہب میں نہیں، لیکن ہم اپنی عورتوں کا بھی تحفظ نہیں کرسکتے۔جب وہ بے بس ہوجائیں تو کوئی بھی اس کا خیال نہیں رکھتا۔

قارئین! سنت نبویﷺ میں ہر مسلئے کا حل موجود ہے۔ تقریباََ چودہ سو سال پہلے ہمارے پیارے نبی حضرت محمدﷺ نے جو تعلیمات بیان کی ہیں، اکیسویں صدی کے سائنس دان آج اس پر تجربے کر رہے ہیں اور تجربات کے بعد لوگوں کو یہ بتا رہے ہیں کہ ان تعلیمات پر عمل کرکے انسان بڑی مصیبتوں سے بچ جاتا ہے۔ دراصل وہ یہ اپنے تجربات سمجھتے ہیں لیکن آپﷺ نے چودہ سو سال پہلے ان تعلیمات پر لوگوں کو  عمل کرنے کا کہا ہے۔ ہمارے معاشرتی مسائل کی سب سے بڑی وجہ ہماری تعلیم سے دوری ہے۔ آج کل کے لوگ اپنے بچوں کو تعلیم تو دلاتے ہیں لیکن ان کی اچھی طرح تربیت نہیں کرتے۔ ہم سب کو بچوں کی اچھی تربیت پر پوری توجہ دینی چاہیے تاکہ کل وہ ایک ایماندار اور فرض شناس پاکستانی بن جائیں۔

آپﷺ کی تعلیمات کو اپنا کر ہم دنیا وآخرت دونوں میں کامیاب و کامران ہو سکتے ہیں۔ اس لئے سب امت مسلمہ کو چاہیے کہ ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو کو آپﷺ کی تعلیمات اپنائے اور سب مسلمان ممالک کے حکمران قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق حکمرانی کریں جس سے امت مسلمہ کے سارے مسائل ختم ہوجائیں گے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 9 تبصرے برائے تحریر ”سیدنا محمدﷺ ، زمانہ جدید کے پیغمبر۔۔۔۔محمد حسین آزاد/مکالمہ عظمتِ محمد ﷺ ایوارڈ

  1. بہت تفصیلی وضاحت محمد حسین ازاد کی. حضرت محمد صلی علیہ والہ وسلم کی اسوہ حسنہ پر, اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے- واقع ان جوان کالم نگار کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے, ہم ان کو اس قسم کی تحریروں پے داد دےتے ہے-

  2. ما شا اللہ ۔ مکالمہ ایک انتہایی بنیادی موضوع پر ہے۔ محمد حسین کی سوچھ اور خط سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ دین کیساتھ انکا کتنا لگاو ہے ۔ انتہایی باریک بینی سی تحریر کردہ مکالمہ ہے۔ وقت کی مناسبت سے اہم موضوع کا انتخاب کیا گیا ہے۔ جو درس ہمیں اس مکالمے سے ملتا ہے میرے خیال میں اگرامت مسلمہ اس پر عمل کی جایے تو ااندرونی خوت امن اور بھایے چادے کی طرف ادھا راستہ ہموار نظر آتا ہے۔

  3. جزاك الله خيرا.
    زبردست
    اچھی کوشش کی ہے ۔اللہ تعالی آپ کو اور بھی توفیق دے ۔ اسوہ حسنہ پر جتنا بھی لکھ لو کم ہے لیکن آپ نے اپنا حق ادا کیا۔

  4. سیرت النبی ص کے بارے میں بہت اچھی معلومات پر مبنی مضمون۔۔۔ اگر یہ ہم اپنے نبی حضرت محمدﷺ کے احکامات پر عمل کریں تو امت مسلمہ کے سبھی مسائل حل ہوگے۔۔۔

  5. ما شا اللہ اللہ اپ کو اور بھی اسیں تحریر لکھنے کے توفیق دے ۔۔۔ اور اس کا سیلہ بھی دے کے آیندہ اسے اچھے آچھے تحریر لکھ دے ۔ میرا حساب سے اس میں کچھ بھولنے کا باقی نہیں ہے ۔اور ھم جیسا بہت لوگوں کا اپ پے پخر ہے ۔۔۔

  6. جزاک اللہ
    اللہ تعالی آپ کو اور بھی توفیق دے ۔ اسوہ حسنہ پر جتنا بھی لکھ لو کم ہے لیکن آپ نے اپنا حق ادا کیا۔ہماری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *