مقدس ادارے اور جسٹس صدیقی صاحب شاباش۔امجد خلیل عابد

شاباش دینے کے لیے شاید میرے پاس الفاظ نہیں کہ کن الفاظ سے میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی صاحب کو سلام پیش کروں- آنرایبل جسٹس صاحب نے گویا وہی کہا جو میرے دل میں تھا- اسلام آباد میں رہنے والے، خصوصا اسلام آباد کے بلیو ایریا میں واقع ہائی رائز عمارات میں کام کرنے  والے لوگ  جانتے ہیں کہ ابھی چند روز ادھر کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی جیسے خواب خرگوش میں مدہوش ادارے میں تعینات سی ایس پی افسران اپنی ٹیم کے ساتھ باہر نکلے اور ان ہائی رائز بلڈنگز کی ساری ناجائز تجاوزات کو خود وہاں کھڑے ہوکر صفحہِ ہستی سے مٹا دیا، میرا اس ادارے میں خوب آنا جانا ہے، وہاں کے کلرک سے لے کر، سیکشن آفیسر تک سب ”پڑھیں گے لکھیں گے، بھرتی سی ڈی اے میں ہوں گے اور بنیں گے نواب” ایسے مشہورِ عالم مقولہ پہ اتنی سختی سے کاربند ہیں جتنی کہ  سختی ، مضبوطی اور احتیاط سے ازار بند کو باندھا جاتا ہے-

دی سینٹوریس مال ، اسلام آباد بلیو ایریا کا انتہائی مقبول مال ہے- مقبولیت کا اندازا لگائیے کہ یہ شاید پاکستان کا واحد مال ہے جس میں انٹری فری نہیں ہے- فری ہونی بھی نہیں چاہیے- اس کا ڈیویلپر کتنا طاقتور انسان ہوسکتا ہے- اسلام آباد سٹاک ایکسچینج کے نام کی ایک بلند وبالا عمار ت میں پاکستان کی سب سے طاقتور سول شخصیت کی ہوائی سفر کی خدمات فراہم کرنے والی کمپنی کے دفتر کا موجود ہونا بتایاجاتا ہے- اس معروف آئی  ایس  ای ٹاور کی طاقت کایوں اندازہ لگائیے: پچھلے دنوں آئیسکو نے نیپرا کے حکم پہ بجلی کی ”ون پوائنٹ پاور سپلائی” کے عنوان سے تمام بڑی بلڈنگز کو پابند کیا کہ وہ آئیسکو کے ساتھ جلد از جلد معاہدہ کریں بصورت ِدیگر بجلی کاٹ دی جائے گی،میں،مذکورہ معاہدہ کے معاملات کو دیکھنےوالے آئیسکو آفیسر کے دفتر میں بیٹھا تھا کہ صاحب نے اپنے فیلڈسٹاف کو فون پہ کہا کہ سب پہ سختی کرومگر آئی ایس ای ٹاور کو کچھ نہیں کہنا- میں نے پوچھا ایسا کیوں، فرمایا: ہوائی سفر فراہم کرنے والی اس کمپنی کا وہاں پہ دفتر ہے جس کے مالکان میں ملک کے سب سے بڑے عہدے پہ فائز  شخصیت بھی شامل ہے-

اس ساری بات کا جسٹس شوکت عزیز صدیقی صاحب کے ساتھ براہ راست تعلق ہے- یہ جسٹس صاحب کا ہی میرٹ پہ دیا گیا حکم و فیصلہ تھا کہ نہ صرف اسلام آباد کےرہائشی علاقوں میں بنے دفاتر کو ختم کرواکر کمرشل عمارات میں لایا گیا، یہ جسٹس صاحب کا ہی کمال تھا کہ ان کمرشل ہائی رائز عمارات کی ناجائزتجاوازات کو مسمار کیا گیا، پبلک پارکنگ پہ جو عمارات کے مالکان نے اجارہ داری بنائی ہوئی تھی اس کا خاتمہ کیا گیا، جنگلے توڑ کر کسی قدر اسلام آباد کا حسن بازیاب کروایا گیا- یہ جسٹس صاحب کا ہی کرشمہ تھا کہ بلڈنگ کنٹرول سیکشن اور انفورسمنٹ کے افسران بالا کو صبح گاہی فیلڈ میں سڑکوں پہ بیٹھا پایا-جسٹس صاحب اپنا میرٹ پہ ہونا، ایماندار ہونا کافی دفعہ ثابت کرچکے ہیں، شاید عدلیہ کی تاریخ میں یہ واحد جسٹس ہیں جنہوں نے اب مقدس گائے کے سینگوں میں سینگ پھنسائے ہیں- جتنے بھی تعریفی الفاظ ہیں ، میں  وہ جسٹس صاحب کے نام کرنا چاہتا ہوں-

سنتے ہیں فوج حکم کی پابند ہوتی ہے- حکم مگر فوج کو کوئی فوجی دے تو پھر چڑھائی کرتے دیر نہیں لگانا اور اپنے  پرائے کی تفریق جیسے جھنجھٹوں میں کاہے پڑنا-2003 میں اوکاڑا سے اکبر روڈ کی راہ لے کر ، چنگچی رکشہ کی عیاشی فرماتے ہوئے،جب آپ کا آگے کسی ٖگاؤں  میں جانا ہوتا، آپ اپنے اہل خانہ کے ساتھ ہیں، آپ کو نہر والے پل پہ فوج کے پاک جوان روک لیتے، تلاشی لیتے، شناختی کارڈ چیک کرتے اور تسلی کرتے کہ آپ کا تعلق کہیں اس گاؤں سے نہ ہوجس کے باسیوں کے ساتھ فوج نے زمین کا تنازع چھیڑا ہواتھا- جی وہ ملٹری فارم تھے، سوچیے  چند لمحے کہ فوج کے پاس زمین کی کمی ہے اور غریب کسان ہزاروں ایکڑ پہ کاشت فرمنے کے باوجود بازور بازو اراضیِ افواج پہ قابض تھے- وہ بھی اپنے ہی لوگ تھے، اتنے ہی اپنے جتنے فیض آباد میں بیٹھے فسادی اپنے تھے جنہوں نے دسیوں دن جڑواں شہروں کے لاکھوں لوگوں کی زندگی اجیرن بنا کر رکھی ہوئی تھی- فوج کو آپریشن کا حکم دیا گیا مگر سپہ سالار نے غیر قانونی حرکت کرتے ہوئے انکار کردیا- کیوں ؟ کیونکہ حکم سول حاکم نے دیا تھا-لال مسجد والے اسرائیل سے تو نہیں آئے تھے، وہ بھی اتنے ہی اپنے تھے جتنے اسلام آباد اور رالپنڈی کی شاہراہوں پہ قابض فسادی-

ابھی کل پرسوں ایک فوجی آفیسر نے دہشت گردوں سے لڑتے شہادت کا عظیم رتبہ پایا، دوستوں نے فرمایا: ‘مبینہ 60فیصد بجٹ بھی اس شہید کی بیوہ کے آنسوؤں  کی قیمت نہیں ہوسکتا’- ہم نے آپ کی بات نہیں مانی، سستی جذباتیت کہہ  ڈالا اس کو، ہم شرمندہ ہیں، آپ نے بجا فرمایا تھا مگر اسی مینو میں رہتے ہوئے نوٹ فرمالیجئے  یک ہزاری لفافوں کی تقسیم کنندگان بننے والی لفنگی حرکات نہ صرف اس کڑیل سپوت کی شہادت اور اس کی بیوہ کے ہیرے موتیوں سے بھی انمول آنسوؤں  کو بے توقیر کردیتی ہے-
ایک تبصرہ یہ بھی ہے کہ جسٹس ( تب ایڈووکیٹ) شوکت صدیقی مولوی عزیز کے مقدمات کی وکالت کرتے رہے-  اچھا تو کیا  غلط کرتے رہے؟  وہ وکیل تھے،ردی  ا سلحے  کے بیوپاری نہیں کہ دیسی اسلحے کی فراہمی کی کوئی ڈیل مولوی عزیز دامت برکاتہم عالیہ سے فرماتے رہے- کوئی قانون ایڈووکیٹ شوکت صدیقی کو نہیں روکتا تھا کہ مولوی صاحب کی عدالت میں پیروی نہ کریں- ہاں بہتر تھا وہ دہشت گردوں کے ابو جی وکالت نہ کرتے-

سوچ لیجئے کیا موازنہ ہوسکتا ہے کہ ؛ایک فوجی کو کیا قانون اور اس کی تربیت اجازت دیتی ہے کہ وہ سول معاملات میں خود ساختہ ثالث بنا پھرے اور فسادیوں میں یک ہزاری لفافہ کا بااختیار تقسیم کنندہ بنے- لطیفہ یہ ہے کہ یک ہزاری لفافہ نہ ملتا تو فسادی واپس نہ جاتے کیونکہ ان کے پاس واپسی کا کرایہ نہ تھا- سبحان اللہ، گویا ان کو اسی طرح ہزار ہزار دے کر بلایا گیا تھا- کیا پیغام دیا جارہا ہے کہ کل کو جو بھی دھرنا دے کر شہروں کو بند کرے گا، دوچار دس دنوں کی کامیاب بندش کے نتیجے میں واپسی کے لیے کرایہ خصوصی فنڈ سے باوقار ادارہ اداکیا کرئے گا- کیا کوئی اخلاقی جواز تھا اُن میجر جنرل کے پاس کہ وہ فوجی وردی کی ایسے بے توقیری کرتے پھریں، ہزار ہزار کا لفافہ یوں تقسیم کریں جیسے کوئی معصومین میں خیرات تقسیم کرتا ہو-شیخ الحدیث علامہ مولانا اُستاذالصرف و نحف کو کان ہوں کہ وہ مجاہدین کی تیاری درست طور پہ نہ کر پائے، ان کے مجاہدین کا گستاخ حکومت کے افسر سے یوں پیسے پکڑنا امیر المجاہدین کے لیے کوئی اچھی خبر نہیں-

سوچ لیں ہم یہ بھی کہ کس طرح غرباء کو بہکا کر دارلخلافہ کی سڑکیں بند کرنے کے لیے لایا گیا، کرنے کے لیے ان کے پاس شاید کوئی کام ہی نہیں تھا، تھا بھی تو کوئی ایسا نہیں جس سے ان کی شان بڑھتی ہو، ان کو بہکاوا دیا گیا کہ آؤ ایک عظیم کام کی راہ دکھائیں تمہیں، اکشریت شاید نہ جانتی ہو کہ اُ ن کو مروانے کے  لیے  لایا گیا ہے-میں عینی شاہد ہوں اس رات کا جس آپریشن کے فوراً  بعد آئی، ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹی کے پاس سے جی ٹی روڈ سے آپ سیدھا نہیں جاسکتے تھے، چند مریل لڑکوں نے اپنے قد سے بھی بڑے  ڈنڈے اُٹھا کر راہیں بند کردیں ، غریب آدمی ڈرتا ہے کہ ان کا ڈنڈے شریف کا ایک عاشقانہ وار اور غریب کی سواری کا کباڑا- بچی کو میں نے دیکھا، ٹیکسی بیٹھی روتی ہے، اسے ماڈل ٹاؤن ہمک اپنے گھر جاناتھا، جی ٹی روڈ پہ عاشقان کا  قبضہ تھا ، ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹی میں آپ جاسکتے تھے مگر اندر سے نکل کر ماڈل ٹاؤن جانے کا رستہ پھر بند تھا- خدا جانے کیا ہوا ہوگا اس لڑکی کا-

پوچھنا یہاں میں دراصل یہ چاہتا ہوں کہ بلوائیوں نے ڈیفنس ہاؤسنگ کی راہیں کیوں نہ مسدود کرنے کی جرات کی، کیا کوئی معاہدہ طے پایا ہواتھا، جس کے ایفاء کے لیے پھر لفافے تقسیم بھی ہوئے؟ یہ بھی پوچھ ہی لیتا ہوں کہ کیا اگر بلوائی ڈیفنس ہاؤسنگ  کے ڈیفنس راؤنڈ آباؤٹ پہ آبیٹھتےاور ڈیفنس ایوینیو کی خوبصورت چڑھائی چڑھتے ہوئے ڈیفنس فیز ون کی سانس روک دیتے تو کیا ہوتا؟ بھئی گستاخ اگر جی ٹی روڈ سے گزر رہے تھے تو اسی طرح کے گستاخ ڈیفنس میں بھی آجارہے تھے- کیا سپہ سالار کا تب بھی یہ کہتے ہوئے ظہور ہوتا کہ چاہیں تو بلوائی ڈیفنس ہاؤسنگ کی اینٹ سے اینٹ بجادیں مگر فوج حرکت میں نہیں آئے گی کیونکہ ” ہم اپنے لوگوں پہ حملہ نہیں کرسکتے”مقام و وقت بدلنے سے اپنے پرائے اور پرائے اپنے کیسے ہوتے ہیں، یہ بھی ہم بلڈی سویلینز کو بالآخر ایک ڈیکوریٹیڈ آفیسر سے ہی سیکھنا پڑا-
شکریہ راحیل شریف-
نتیجہ: میں حلفیہ بیان دیتا ہوں کہ میرا ختم نبوت مکمل اور کامل ایمان و یقین ہے!

Avatar
امجد خلیل عابد
ایک نالائق آدمی اپنا تعارف کیا لکھ سکتا ہے-

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *