• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • کیا منظور پشتین کے مطالبات، اسےشیخ مجیب الرحمن بنا رہے ہیں؟۔۔۔عبدالحنان ارشد

کیا منظور پشتین کے مطالبات، اسےشیخ مجیب الرحمن بنا رہے ہیں؟۔۔۔عبدالحنان ارشد

کسی کو منظور پشتین اور کسی کو مجیب الرحمن بننے کا موقع ہم خود فراہم کرتے ہیں۔ کیونکہ انہیں ان کے جائز حقوق سے اس کقدر  محروم کر دیا جاتا ہے۔ اپنی محرومیوں کو لے کر اندر ہی اندر جو ایک غصہ ہوتا ہے وہ ایک لاوا بن کر باہر نکلتا ہے اور یہ لاوا سب کچھ تباہ کرنے کی بھی طاقت رکھتا ہے۔ یہ لوگ بارش کے پہلے قطرے کی طرح خود بنجر زمین پر برستے ہیں تو لوگ اِن کی لگن اور مخلصی دیکھ کر اِن کی آواز پر آمناً  صدقناً  کہتے ہوتے پیچھے چل پڑتے ہیں۔ آہستہ آہستہ یہ ایک بحرِ بےکراں  کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ اب بھی یہ بحرِ بے کراں اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے، اور لوگ بھی اس میں جوق در جوق شامل ہو رہے ہیں- کیونکہ منظور پشتین کے مطالبات ملکی آئین اور دستور کے عین مطابق ہیں، اور اِن  محکوم و محروم لوگوں کے دل کی پکار ہے اسی لیے تو لوگ ٹولیوں کی صورت اس کے جھنڈے تلے جمع ہو رہے ہیں۔ ان لاکھوں دل فگاروں کی پکار اربابِ اختیار تک پہچانے اور اِن کے دل کی آواز بننے کی بجائے، ہمارا میڈیا اور دانشور اِس سیلِ بے کراں کے تانے بانے انڈیا اور اسرائیل اور نہ جانے کس کس سے جوڑنے میں مشغول ہے۔ ہم انہیں دہشت گرد گرداننے پر مُصر ہیں، محکمہ زراعت اور اس کے مالشیے انہیں ایجنٹ قرار دے رہا ہے۔ ہمارا کیا ہے ہم بھی جنگل کے خود ساختہ بادشاہ بنے پھر رہے ہیں “ جی میں آئے تو بچے دیں، دل کرے تو انڈے دیں” کون پوچھنے والا؟

اِس تحریک کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور حاصل ہوتی عوامی حمایت کے باوجود ہم بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کرکے بھولے کبوتر کی طرح ,اِس سب کو یکسر نظرانداز کیے بیٹھے ہیں۔ پشتون اُس منظور کو رب کعبہ کی طرف سے اپنی دعاؤں کا منظور ہونا، سمجھ کر اُس کے جھنڈے تلے جمع ہو رہے ہیں۔ جس کا واضح ثبوت عام انتخابات میں اُس کی تنظیم کے دو عہدے داروں کا الیکشن جیت کر ملی ایوان کے ایوانِ زیرِ کا ممبر بننا ہے-
کہیں  ایسا نہ ہو اس طوفان کو نظرانداز کرنے کے سبب، آگے چل کر ہمیں اِس کی بہت بڑی قیمت چکانی  پڑ جائے۔ وہ پشتون جو فوج کو اپنا محافظ اور فوج میں شمیولیت کو اپنے لئے سعادت سمجھتے تھے، وہ آج اِس نہج پر کیسے آگئے کہ “یہ جو دہشتگردی ہے اِس کے پیچھے وردی ہے” جیسے مکروہ نعرے لگا رہے ہیں۔ فوج کو اپنا نجات دہندہ سمجھنے والے اپنا محافظ سمجھے کی بجائے اپنا دشمن قرار دے رہے ہیں۔

آج ہم پنجابی اِس بات کا رونا رو رہے ہیں جی ہم نے کیا کیا ہے جو سٹیج سے پنجاب مخالف نعرے لگ رہے ہیں۔ تو جناب ہمیں خود کو بڑا بھائی کہلانے کا بڑا شوق ہے۔ تو کیا بڑا بھائی ایسا کرتا ہے جیسے ہمارا اِن کے ساتھ رویہ ہے۔ گھر میں امی بتاتی ہیں کہ جو بڑے ہوتے ہیں  “انہیں گھر کو جوڑے رکھنے اور محبت و امن قائم کرنے کے لے بہت بار جھکنا پڑتا ہے۔ چھوٹوں کے ناز اور نخرے پورے کئے جاتے ہیں، انہیں لاڈ  پیار سے پالا جاتا ہے۔ گھر کی بنیادی قائم رکھنے کے لیے بڑوں کو قربانی بھی دینی پڑتی ہے”-

جب چھوٹے روٹھٹے  ہیں تو، چھوٹوں کو پیار اور شفقت سے منایا جاتا ہے، نہ   کہ سختی اور جبر سے، جبر سے وہ وقتی طور پر تو دب جاتے ہیں، لیکن مستقبل میں باغی ہو جاتے ہیں، اور آپ کے اور بڑے ہونے کو اور آپ کے طاقتور ہونے کو خاک جانتے ہیں۔ دشمن سے ہاتھ ملانے میں بھی کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔

یہ نہیں کہ بڑوں کے کوئی حقوق نہیں ہوتے لیکن بڑے والدین کا سا مقام رکھتے ہیں- بڑے باپ کی جگہ ہوتے ہیں- والدین کی طرح انہیں اپنے حقوق دبانے بھی پڑتے ہیں- والدین کے بعد گھر کو جوڑے رکھنے کی ذمہ داری بھی ان پر ہوتی ہے۔صرف پشتون ہی نہیں سندھیوں اور بلوچیوں کو بھی اگر شکایت ہے، تو شکائتیں کسی حد تک جائز نظر بھی آتی ہیں۔
سندھیوں کا گلہ ہے ہماری بے نظیر و بے مثل قیادت کو دن کے مدھم پڑتے اجالے میں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ پنجاب والوں نے ہمارے دکھ کا مداوا کرنے اور ہماری  ڈھارس بندھانے  کی بجائے، اسے ہمسائے کا دکھ جانا اور اپنے گھر کی راہ لی۔ ہمارے سر سے سائبان چھین لیا گیا اور پنجابی اپنی زمین نہ چھننے کا جشن مناتے رہے۔

بلوچستان والوں کا شکوہ ہے اُن کے حقوق کے لیے اٹھتی آواز اکبر کو بڑی بزدلی سے خاموش کر دیا گیا۔ اور پنجابی قدرتی گیس کے محفوظ ہونے پر پھولے نہ سما رہے تھے۔ جبکہ ہم لاش نہ ملنے پر انگشتِ بدندان بیٹھے خفیہ طریقے سے جنازے میں شامل ہونے کی ترغیب کرتے رہ گئے۔

تو ایسی صورت میں وہ آپ کو اپنا مسیحا گردانے آپ کے ہاتھ پاؤں چومیں، تو یہ آپ کی بھول ہے۔

جب اپنے انہیں دُھتکار دیتے ہیں تو ان کی طرف بڑھا ہوا ہر ہاتھ خدا کی طرف سے غیبی مدد ہی لگتا ہے۔ تو اِس سے پہلے کوئی اور نادیدہ قوتیں ان کی مدد کے لیے سینہ سپر ہو جائیں۔ اور ہم بعد میں انہیں بھی غداروں کی فہرست میں شمار کرتے پھریں اور ہمیشہ کی طرح غداروں کی نئی فہرست ترتیب دے رہے ہوں۔ خدارا اِن کے سر پر دستِ شفقت رکھ دیں، ان کے آنسو صاف کر ڈالئے، اِن کا سہارا بن جائیں، انہیں یہ باور کروائیں ہم اور آپ علیحدہ علیحدہ نہیں ہیں- بلکہ ہم اور آپ ایک جسم کی مانند ہیں تکلیف آپ کو پہنچتی ہے تو درد کی شدت کا احساس ہمیں ہوتا ہے۔ گلا آپ کا خشک ہوتا ہے، تشنگی کا احساس ہمیں ہوتا ہے۔

انہیں باور کروائیں بارش کراچی میں ہوتی ہے، پکوڑے ہم لاہور میں بناتے ہیں۔ سردی کوئٹہ میں پڑتی ہے، جرسیاں ہم ملتان میں پہنتے ہیں۔ پھول پشاور میں کھلتے ہیں، جشنِ بہاراں ہم فیصل آباد میں منا رہے ہوتے ہیں۔ گرمی کی لہر سبّی میں اٹھتی ہے، محسوس ہمیں ادھر ہوتی ہے۔ دہشت گرد بزدلی کا نشانہ آپ کو بناتے ہیں، تکلیف سے بھوک ہماری مر جاتی ہے۔

خدارا ان کے جذبوں کی قدر کیجئے ان کے حقوق کا خیال رکھیں۔ خدا نہ کرے، خدا نہ کرے، خاکمِ بدہن ، لیکن ایسا نہ ہو آگے چل کر ہمیں سقوتِ ڈھاکہ جیسے سانحے دیکھنے پڑیں۔

عبدالحنان ارشد
عبدالحنان ارشد
عبدالحنان نے فاسٹ یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ ملک کے چند نامور ادیبوں و صحافیوں کے انٹرویوز کر چکے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ آپ سو لفظوں کی 100 سے زیادہ کہانیاں لکھ چکے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *