• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • پاکستان میں مذہبی شدت پسندی کی تاریخ اور اس کا تدارک۔۔۔۔عبد الرحمان تابانی/مقابلہ مضمون نویسی

پاکستان میں مذہبی شدت پسندی کی تاریخ اور اس کا تدارک۔۔۔۔عبد الرحمان تابانی/مقابلہ مضمون نویسی

شدت پسندی کیا ہے:
شدت پسندی ایک ایسی ذہنی کیفیت ہے جس میں سبجیکٹ اپنی رائے، نظریے کے ساتھ ایسا جذباتی تعلق رکھتا ہے کہ مخالف نظریے کے حامل فرد کو برداشت نہیں کرتا۔ اس کو اپنا نظر  اپنانے پر مجبور کرتا ہے، بصورتِ دیگر اس کو جس قدر ہو سکے نقصان پہنچانے کے درپے ہوتا ہے۔
البتہ اگر کوئی   اپنے نظریات پر سختی سے کار بند ہو مگر دوسروں کو بھی ان کے نظریات پر عمل کرنے کے مساوی مواقع فراہم کرتا ہو تو یہ طرزِ عمل شدت پسندی نہیں کہلائے گا۔ بلکہ اسے اپنے نظریات سے کمٹمنٹ  کہا جائے گا۔
شدت پسندی کسی بھی طرح کی ہو نا،ناپسندیدہ رویہ ہے، البتہ مذہبی شدت پسندی کئی  گنا زیادہ خطرناک ہے۔جس کی وجہ ایک تو یہ ہے کہ مذہب کے بارے میں صحیح غلط کا درست فیصلہ ہمارے بس میں نہیں، تو ایک غیر واضح معاملے پر متشددانہ رویہ بہت عجیب بات ہے۔
دوسری وجہ یہ کہ عموما شدت پسندی کی دیگر اقسام محدود علاقے یا معاشرے میں ہوتی ہیں، جبکہ مذہبی شدت پسندی ان تمام قیود سے آزاد، بین البر اعظمی حیثیت رکھتی ہے۔

اسلام میں مذہبی شدت پسندی کی حقیقت:
ہمارے ہاں مذہبی طبقے میں شدت پسندی کے جراثیم وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں، اور بد قسمتی سے وہ اس کی نسبت اسلام کی طرف کرتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کی حقیقی تعلیمات میں ہرگز شدت پسندی نہیں، معروف مذہبی اسکالر جناب جاوید احمد غامدی کے بقول: اسلام ایک پرامن مذہب ہے، اس میں کسی بھی سطح کی شدت پسندی کی کوئی گنجائش نہیں۔

پاکستان میں مذہبی شدت پسندی کی تاریخ:
پاکستان میں مذہبی شدت پسندی ابتدا ء ہی سے نہیں تھی، ہم نے اپنے بڑوں سے پرامن، روادار اور چمکتے دمکتے پاکستان کی کہانیاں سنی ہیں۔ مگر پھر ہمارے پاک وطن کو نہ جانے کس کی نظر لگ گئی اور ھم ٹریک پر چڑھنے سے پہلے سے راہ گم کر بیٹھے، لگ بھگ چار دہائیاں قبل اس ارضِ رنگ وبو پر مذہبی شدت پسندی کی کالی گھٹائیں امنڈ امنڈ آئیں، نجانے وہ کیسی ساعتِ نامسعود تھی کہ جس میں شدت پسندی کا زہریلا بیچ جو بویا گیا تو پھر اس فصل کو زوال نہ آیا، بلکہ پوری ارضِ وطن کو لپیٹ میں لیتا چلا گیا۔
جہاں تک میں سمجھتا ہوں یہ کوئی انہونی یا غیر متوقع صورتِ حال نہیں تھی، بلکہ پاکستان کی بنیاد میں ہی چونکہ مذہب کا نعرہ کار فرما تھا، لہذا جلد یا بدیر مذہبی فیکٹر کو باہر آنا ہی تھا۔
دو قومی نظریہ بظاہر خوش نما نعرہ تھا، مگر میرے ناقص خیال کےمطابق وہی نعرہ ہماری اس شدت پسندی کی پہلی سیڑھی بنا، اہلِ مذہب نے اسی کا سہارا لے کر پہلے غیر مسلم برادری کے خلاف انتہا پسندی شروع کی اور پھر مسلم فرقوں میں سے ہر ایک فرقہ دوسرے فرقے کے لوگوں کو بھی کافر قرار دینے لگا اور اسی دو قومی نظریے کو ڈھال بنا کر ان پر دھرتی ماتا کا دامن تنگ کرنا شروع کیا۔
چونکہ ابتدا میں پاکستان بہت سے مسائل میں گھرا رہا، مہاجرین کی آباد کاری کا مرحلہ تھا، ساتھ ساتھ مسئلہ کشمیر شروع ہو گیا، اس کے علاوہ چھ برس کے قلیل دورانیہ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان دو باقاعدہ جنگیں ھوئیں جس میں ھم اپنا آدھا دھڑ گنوا بیٹھے۔

یہ تمام صورتِ حال مذہبی شدت پسندی کے ظاہر ہونے میں قدرتی طور پر رکاوٹ بنی رہی۔
مشرقی پاکستان کے سقوط کے بعد چاہیے تو یہ تھا کہ بچے کچھے وطن کی ہم جاں سے بڑھ کی حفاظت کرتے، اس کی آبیاری کرتے، خدا کی عطا کردہ صلاحیتیں اس کی تعمیر وترقی میں خرچ کرتے، الٹا ہم نے نیا کھیل شروع کردیا اور جیسے ہی اندرونی نظام ذرا سنبھلا، آئین سازی کا موقع آیا، سیاسی جماعتوں کو آزادی ملی تو مذہبی عنصر کو بھی پھلنے پھولنے کا موقع ملا۔
سب سے پہلے احمدی کمیونٹی سے ابتدا ھوئی، پھر انقلابِ ایران کے فوراً بعد ایک طبقے کو انجانے خوف نے آگھیرا اور وہ اپنی ایک مذہبی جماعت بنا بیٹھے جو انجمن سے ہوتی ہوئی عالمی سطح تک پہنچی، اور فرقہ واریت وشدت پسندی کو خوب   فروغ دیا، جس کے مقابل دوسرے بھی کمربستہ ہوئے اور نعرہ لگایا کہ ہم بھی کسی سے کم نہیں۔ اس سے بھی دل نہ بھرا تو دعویدارانِ مذہب نے دیوبندی بریلوی کشمکش بھی شروع کردی۔

کج فہم، ناعاقبت اندیش، مذہب کی روح سے ناواقف مذہبی راہنما اس آگ کو ہوا دینے میں کلیدی کردار ادا کرنے لگے۔اور رفتہ رفتہ یہ شدت پسندی اس قدر بڑھ گئی ہے  کہ اب فقط الزام پر انسانی جان لینے کو وطیرہ بنا لیا گیا ہے، اس کا ایک نمونہ ہم حال ہی میں آسیہ مسیح کیس میں دیکھ اور اس کا خمیازہ بھگت چکے ہیں۔

شدت پسندی کی وجوہات:
اس انتہا پسندی اور عدمِ برداشت کی بہت سی وجوہات ہیں، سب کا جائزہ لینا تو ممکن نہیں، صرف چند کا تذکرہ کرتا چلوں۔
سب سے بڑی وجہ تو کم علمی ہے، بلکہ جہالت کی فراوانی کہنا شاید زیادہ مناسب ہو، الامان والحفیظ ایسی جہالت جس کی کوئی حد نہیں۔
دوسری وجہ اہلِ مذہب کا مذہب کو خوشنودی خدا کے لیے نہیں، اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا ہے۔
تیسری اہم وجہ ریاستی رٹ کمزور ہونا ہے، ریاست شرپسند عناصر پر قابو پانے کی اگر صلاحیت رکھتی بھی ہے تب بھی اس کام میں سنجیدہ دکھائی نہیں دیتی۔
(البتہ اب کے خان حکومت سے کچھ امیدیں وابستہ ہیں، خدا کرے یہ خواب شرمندہ تعبیر ہو۔)
بلکہ انتہائی  دکھ اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بعض ریاستی ادارے اپنے مقاصد کے لیے اس شدت پسندی کو بطور پالیسی بھی استعمال کرتے ہیں، اور وقت گزرنے پر پچھتاتے ہیں۔

پاکستان میں مذہبی شدت پسندی کا تدارک:
اگرچہ پاکستان میں ”مکالمہ بین المذاہب“ کے نام سے سرکاری سرپرستی میں قائم ایک فورم موجود ہے، جس کے مقاصد میں مذہبی ہم آہنگی اور رواداری کا فروغ شامل ہے، مگر اس کا کام کجا، نام بھی برسوں بعد سننے میں آتا ہے، اور پھر اب تو یہ شدت پسندی کا عفریت اس چھوٹے سے فورم کے قابو آنے والا بھی نہیں۔
لہذا اب وقت آگیا ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز سر جوڑ کر بیٹھیں اور ملک کے تمام طبقات کے نمائندہ افراد کی مشاورت سے ایک وسیع، واضح اور سنجیدہ لائحہ عمل بنائیں، کیونکہ مکمل ریاستی وسائل بروئے کار لائے بنا اس بیماری پر قابو پانا اب ممکن نہیں رہا۔
البتہ چند سفارشات ہم پیش کرتے ہیں:
اول:
تمام مذہبی فرقوں کے سنجیدہ اور معتدل اسکالرز کو پروموٹ کیا جائے، اور وہ اپنے اپنے حلقے میں مکمل صراحت کے ساتھ آگاہی فراہم کریں کہ شدت پسندی کا مذہب سے کوئی  تعلق نہیں۔
دوم:
مذہبی اسکالرز اور مذہبی چینلز کو پابند کیا جائے کہ کسی قسم کی فرقہ وارانہ، شدت پسندانہ بات ہرگز نہ کی جائے۔
سوم:
نصابِ تعلیم، خاص کر مدارس کے نصابِ تعلیم اور نظامِ تعلیم میں مثبت اصلاحات لائی جائیں، شدت پسندانہ مواد کی جگہ تعمیری اور دورِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ مواد شامل کیا جائے۔
چہارم:
عوامی سطح پر ایسی فضا قائم کی جائے جس سے نوجوان طبقہ مثبت اور تعمیری سوچ کی طرف مائل ہو۔
پنجم:
تفریح، سیر وسیاحت، کھیلوں کے وسیع مواقع فراہم کیے جائیں۔
اسی طرح مشاعروں کا وقفے وقفے سے انعقاد کیا جائے۔

یہ اور اس طرح کے اور بہت سے اقدامات ہیں جن کے ذریعے ہم نہ صرف شدت پسندی پر قابو پا سکتے ہیں، بلکہ اپنی نئی  نسل کو کار آمد بنا کر اقوامِ عالم میں نمایاں مقام حاصل کر سکتے ہیں۔

آخر میں ایک اہم بات عرض کردوں کہ،مذہبی شدت پسندی کا مقابلہ مذہبی رواداری سے ہی کیا جاسکتا ہے، لا مذہبیت سے نہیں، اگر اس شدت پسندی کے خاتمے کے لیے مذہب کو ہی براہِ راست نشانے پر رکھا گیا تو شدت پسندی کم ہونے کی بجائے، بڑھنے کے امکانات زیادہ ھوں گے۔ کیوں؟
اس لیے کہ برصغیر میں مذہب (چاہے کوئی بھی مذہب ہو) بڑی گہری بنیادیں رکھتا ہے، حتیٰ کہ اس خطہ میں شاید ہی کوئی بڑی تحریک مذہب کے سہارے کے بغیر کامیاب ہو سکی ہو۔ لہذا مذہبی رواداری کو فروغ دینے کی ضرورت ہے، لادینیت  کی نہیں۔
البتہ زبردستی مذہب رائج کرنے کی کوششیں بھی مثبت طرزِ عمل نہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ مذہب پر عمل کے حوالے سے لوگوں کو آزادی دی جائے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *