ایک ادھوری کہانی۔۔سلیم مرزا

رات کے آٹھ بجے شاہدرہ چوک سے میں رکشے میں سوار ہوا ، درمیان والی نشست پہ ایک خاتون پہلے سے موجود تھی ۔تین والی سیٹ پہ مجھے بیٹھتے دیکھ کر وہ سمٹی نہیں ۔میں ہی نکرے ہوکر بیٹھ گیا۔
پچھلی سیٹ پہ تین مسافر پورے ہوگئے تو رکشے والا چوتھے کو لیکر آگے آگیا ،کہنے لگا !
“چاچیو ،ذرا نال ہوکے بندہ بٹھاؤ ”
میرے کچھ کہنے سے پہلے ہی وہ خاتون تقریباً  چلائی،
“یہ کیا بات ہوئی ،زنانہ سواری کے ساتھ زنانہ بٹھاؤ ”
رکشے والا کہنے لگا۔۔
” اب اس وقت میں لیڈی سواری کہاں سے لاؤں ،
اور پھر میری طرف اشارہ کرکے بولا
“چاچے ہوری تے ویسے بھی بزرگ ہیں ”
میرا دماغ گھوم گیا ۔سالے نے بزرگ بطور زنانہ استعمال کیا تھا ۔
“تم مجھ سے دو سواریوں کا کرایہ لو ”
میں نے غصے میں اپنا ہی نقصان کر لیا ۔رکشہ چل پڑا
اب ہم دونوں جی کھلے ڈلے بیٹھے ہوئے تھے کہ اس خاتون نے موبائل نکال لیا ۔اور کال کی
“چھینہ ۔کتئیے ،فون کیوں نہیں اٹھارہی ہو ”
“تیرا پیو کتھے وے “؟
اس کنجر کو بھی گھر بیٹھنا نصیب نہیں ”
“موٹر سائیکل پہ گیا ہے “؟
“اگ لگاتی ہوں گھر آکر موٹر سائیکل کو ”
“شاہدہ آئی ہوئی ہے ”
“تو کہاں موئی ہوئی تھیں ”
“بوہا کھڑکا کھڑکا کے اب وہ گشتی زبیدہ کے گھر بیٹھی ہوئی ہے ”
اسی قسم کی چار چھ باتیں کرکے اس نے فون بند کیا اور غصے میں دوسرا نمبر ملایا ۔

“تم ہوکہا ں پہ “؟
تیرا پیوِ ،کتھے ہے ”
سویر دا دکان پہ نہیں آیا ”
دھیان سے بیٹھنا ”
“میں گل کرتی ہوں اس کنجر نال ”

اس کے بعد اس نے اپنے کنجر شوہر کو کال کی ،جو صبح کا اپنے بیٹے کو دکان پہ بٹھا کر آوارہ گردی کرنے نکلا ہوا تھا اس کال سے مجھے ساری کہانی سمجھ میں آگئی کہ کتی اس خاتون کی بیٹی تھی ۔زبیدہ اس کی پڑوسن اور شاہدہ گشتی اس کی نند جو آئی تو بھائی کے گھر تھی مگر دروازہ نہ کھلنے کی وجہ سے پڑوسیوں کے ہاں بیٹھی ہوئی تھی ۔

پھر اس نے اپنے شوہر  کی شان  میں جو الفاظ استعمال کیے۔ ۔ویسے الفاظ پہ شرعاًطلاق واجب ہو جاتی ہے ۔اور اگر بندے میں پانچ فیصد بھی غیرت ہو تو خودکشی فرض ۔
شوہر کو اچھی طرح کھسرا ثابت کرنے کے بعد اس نے پھر فون ملایا ۔اب اس کی گفتگو مودبانہ تھی ۔
“سر ۔سارا دن کچہری میں لگ گیا ”
“ابھی واپس تھانے آرہی تھی ”
“فون آیا ہے، مجبوری ہے سر، کل ٹائم پہ پہنچ جاؤں گی ”
“پلیز سر، اب تو وردی بھی بدل لی ہے ۔شاپر میں ڈال لی ہے ”
“بہت نوازش سر ۔تھینک یو ”

میں سمجھ گیا کہ یہ پولیس والی ہے ۔ڈیوٹی اور گھر کے حالات نے اس کی مت ماری ہوئی ہے ۔شوہر الو کا پٹھا ہے ۔بیٹی اتنی احمق ہے کہ باہر پھپھو دروازہ بجا بجا کر پڑوسیوں کے ہاں بیٹھی ہوئی ہے ۔بیٹا کم عمری میں دکان پہ رُل رہا ہے، اور یہ بیچاری کچہریوں میں ۔

میں تھوڑا ایزی ہوکر بیٹھ گیا ۔مجھے سمٹا دیکھ کر وہ پہلے سے ہی کھلی ڈلی بیٹھی ہوئی تھی ۔چنانچہ حسب توقع میرا گوڈا اسے جا لگا ۔
اس نے نیم تاریکی میں شاید مجھے گھور کر دیکھا ہوگا۔
میں نے اس کے پٹ کو دبا کر کہا۔
“آپ لوگوں کی ڈیوٹی بھی بڑی سخت ہے، چوبیس گھنٹے کی حاضری نرا سیاپہ ہے ”
وہ چیخ کر بولنے کی عادی تھی مگر اب غصے اور حیرت میں وہ مضبوط دھیمے لہجے میں غرائی ۔
“تونے مجھے ہاتھ کیوں لگایا ہے “؟
“غلطی سے لگ گیا، اور ویسے بھی میں بڈھا بندہ ہوں ”
میں نے جواب دیا مگر گوڈا پیچھے نہیں کیا ۔

وہ ایک لمحے سوچتی رہی ۔چپ رہی تو میں نے ہی پوچھا
“لاہور ڈیوٹی اے، ویسے تسی کہاں کے ہو”؟
اس نے کوئی جواب نہیں دیا ۔مزید ایک منٹ چپ رہی پھر میری طرف مڑی ۔اور بولی
“اگر تو نے اب کوئی بات کی تو میں نے یہیں جوتے پھیرنے ہیں ۔سدھے ہوکے بیٹھو ”

اب بھی اس کی ٹانگ میری ٹانگ کے ساتھ جڑی ہوئی تھی ۔اس کا خیال تھا میں پہلے اپنا گوڈا پرے کروں ۔
میں نے پھر اس کی ٹانگ کو دبایا اور مسکرا کر کہا
“سرکار ۔صحافیوں کو چھتر مارتی اچھی لگے گی “؟
اب کی بار میں نے ہاتھ نہیں ہٹایا ۔
“تو کوئی بہت ہی چول بندہ ایں “اور جھٹک کر میرا ہاتھ پکڑ کر پرے کر دیا۔
“سامنے کوئی سوہنا افسر ہو تو مجھ سے گھبرا کر چول وج جاتی ہے جی ”
اب کی بار میں نے اس کا بازو دبایا تو وہ مسکرادی ،کہنے لگی
“تو کوئی بہت ہی ڈھیٹ ہے، پہلے عزت سے بیٹھا تھا ۔جیسے ہی تجھے پتہ چلا میں پولیس والی ہوں تو نے پنگا لیا ۔توں ہے کی شئے “؟
“مدعی ہوں ، سرکار کا تابعدار ہوں ۔بارہ سو روپیہ جیب میں ہے ،آپ عوام کا خیال رکھتے ہو اگر فدوی کو خدمت کا موقع دیں تو تینوں سیٹوں کا کرایہ دیدوں “؟
اتنا کہہ کر میں نے جیب سے پیسے نکالے دوسو الگ کیا اور ہزار اس کی طرف بڑھادیا ۔
“یہ بھی مال خانے میں جمع کر لیں ۔مال مسروقہ مجھ سے ادھر اُدھر نہ ہوجائے ”
اس نے مسکرا کر ہزار کا نوٹ پکڑ لیا ۔اور تھوڑا قریب ہوگئی ۔
“چاہتے کیا ہو “؟
میں نے اسے عاصم اظہر کے لطیفوں کے حوالے دے کر روزمرہ کے مسائل کا حل بتایا ۔اس کو سمجھایا کہ زندگی مسکراتے ہوئے اچھی گزر سکتی ہے ،پھر وہ کھل کر مسکرائی ۔اس کی باتوں میں اب اکتاہٹ کی جگہ کھنک تھی ۔ابھی وہ مجھ سے ڈھیر ساری باتیں کرنا چاہتی تھی ۔بہت کچھ بتانا چاہتی تھی ۔مگر اس کا سٹاپ آگیا ۔رکشہ رک گیا ۔تمام سواریوں کو پتہ تھا کہ ان کے بیچ کچھ معاملہ سیٹ ہے۔اسے بھی کسی بات کی فکر نہیں تھی ۔رکشہ میں بیٹھے بیٹھے مجھے کہنے لگی
“تیرا نمبر کی ہے “؟
“میں رانگ نمبر آں ۔بس کبھی کبھی صحیح لگ جاتا ہوں”
وہ ہکی بکی رہ گئی اور اس سے زیادہ رکشے والا حیران تھا جب میں نے اسے کہا
“چل استاد”۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *