قصہ اک سرد رات کا – از خلیفہ رشید الہارون

نابود ہوجاتی ہیں وہ اقوام کہ جو اپنے ہیرے سنبھال نہیں پاتیں۔ ہیرے جناب والا ہیرے۔ ہیرے جو آپ سجانے کو مرے جاتے ہیں سنبھال مگر نہیں پاتے۔ الحذر الحذر۔ بیشک انسان خسارے میں ہے۔ بیشک کپتان خسارے میں ہے۔

درویش نے کل فریج کا جائزہ لیا۔ صوم وصلواۂ کا مقدس مہینہ گزرتے ہی مشروب مشرق ٹھنڈک خانے سے ناپید۔ یہاں تک جو تحریر کیا اسی کی امید تھی۔ جس کی امید نہ تھی وہ تھا مشروب مغرب کا عدم۔ یہ برسات کی رم جھم اور وہ رم۔ گستاخ اکھیاں کتھے جا لڑیاں۔ عرق مغرب نہ پا کر ہم نے صحیفہ عمرانی عرف اے آر وائے چینل کی راہ ناپی۔ مبشر لقمان موصوفہ عائشہ گلالئی کو دیوار سے لگائے بیٹھے تھے۔ پہلے پہل عارف سمجھا اولیا اللہ کا مراقبہ جاری ہے۔ تھوڑی دیر پردہ سماعت کو تکلیف دی تو معلوم ہوا یہ تو کسی گندے میسجز کی بات جاری ہے۔ فوراً سے پیشتر اپنا بلیک بیری اٹھایا اور اپنے سینٹ آئٹمز میں جا پہنچا۔ ناصح سے نصیحت جس نے نہ پکڑی اس نے بھلا کیا پکڑا؟ سینٹ آئٹمز ڈیلیٹ کر ڈالے۔ اب سکوت تھا اور سکون تھا۔ سکون برحق،سکون معصومیت، موبائل کے سکرین شاٹ حامد میر کو ارسال کرنے میں منٹ نہ لگایا تاکہ سند رہے۔ سنا ہے مستند ہے میر صاحب کا فرمایا ہوا۔

درویش کے سینے میں کئی راز مدفون ہیں۔ چند ایک مدہوشی میں نکل جاتے ہیں تو چند زور کے آنے پہ باہر۔ بیشک آج مدہوشی غالب نہیں البتہ درویش کا دوش پھر بھی نہیں۔ سردی کی وہ ٹھنڈی رات بندے کو آج بھی یاد ہے کہ جب کپتان اور درویش ایک ہی لحاف میں بیٹھے راجہ بازار کی بھنی مونگ پھلیاں کھاتے ہوئے کرن ارجن دیکھنے میں مصروف تھے۔ کپتان کا دل اچاٹ تھا۔ ریموٹ اچانک دیوار پہ مار کہ گویا ہوا،”خلیفہ لخ دی لعنت تواڈے خلیفہ ہونڑ تے”۔ غیرت کا تقاضہ یہ تھا کہ استفسار ہوتا، حضور، اس جلالی فقرے کا سیاق و سباق بھلا کیا ہوا؟ سردی مگر بہت تھی اور لحاف گرم۔ بیٹھے بیٹھے ادب سے برجستہ گویا ہو”بہہ جا بہہ جا میں گلاس لا رہیاں”- خلش مگر جام کی نہ تھی۔ آنسوؤں کے ساتھ اگلے ہی لمحے کپتان کا معصوم باطن ظاہر ہوگیا۔ کپتان بولا، “خلیفہ، بلیک بیری وچوں بچے بہتیرے، بچی اک وی نئیں، اے کیہ؟”۔

لمحے کی تاخیر کے بغیر ہی درویش نے لحاف کپتان کے نام کیا اور محفوظ کمبل میں گھس بیٹھا۔ کپتان کا درد بندہ سمجھ چکا تھا۔ سپہ سالار اعظم کی جانب سے ہدیہ شدہ چند ہیرے خان کو بی بی ایم کیے اور تاکید کے ساتھ انہیں تراشنے کا مشورہ دیا۔ یہاں تک سب سیٹ رہا۔ بات خراب ہوئی جب کپتان مصروفیت کے باعث یہ کام نعیم الحق کو تفویض کر بیٹھا۔ نعیم الحق بندہ حق ہے صحیح ،مگر ہے اکیلا۔ اکیلا بندہ اب کتنا صبر کر سکتا ہے؟ کپتان جب ریحام کے ہاتھوں مجبور ہوا تو نعیم نے سوچا نکاح تو سنت نبوی ہے۔ واللہ یہی بات حق صاحب اگلے دنوں ٹویٹ کر بیٹھے۔ کیا غلطی اور کیا مغالطہ؟ کہتے ہیں جنسی ہراسمنٹ کی گئی۔ دوشیزہ کو نکاح کا پیغام ہی تو بھیجا۔ کیا ظلم کر ڈالا معصوم نے؟ تھوڑی سی جو پی لی ہے چوری تو نہیں کی ہے؟

حضور والا، عمران اور نعیم قوم کے ہیرو ہیں۔ نابود ہوجاتی ہیں وہ اقوام کہ جو اپنے ہیرے سنبھال نہیں پاتیں۔ ہیرے جناب والا ہیرے۔ ہیرے جو آپ سجانے کو مرے جاتے ہیں سنبھال مگر نہیں پاتے۔ الحذر الحذر۔ بیشک انسان خسارے میں ہے۔ بیشک کپتان خسارے میں ہے۔

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *