وحی و عقل

اللہ رب العالمین کے پیغام سے فکر محمد صلی اللہ علیہ و سلم اگر الگ کر دی جائے تو پیغام خدا کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے۔ انسان عقیل ہے مگر کارزار حیات کے لئے عقل کافی نہیں یعنی عقل کو رہنمائی کی ضرورت ہے تو کوئی پیغام عقل سے اعلی و ارفع اور افضل ہی ہونا چاہیے جو عقل کی سمت کا تعین کر سکے۔

وحی ایک حقیقت ہے اور عقل وحی کے طابع ہے۔ وحی اپنے مطالب و مقاصد میں عقل کی محتاج نہیں۔ عقل کو درپیش پیچیدگیوں کی گھتیاں صرف وحی ہی سلجھا سکتی ہے یعنی جہاں عقل ماؤف ہو جائے، وہاں عقل کے لئے نئی بلندیوں کی سمت کا تعین صرف وحی ہی کر سکتی ہے، مگر وحی میں اگر کوئی گنجلک، کوئی پیچیدگی محسوس ہو گی تو عقل قاصر ہے کسی بھی قسم کی کوئی وضاحت دینے سے، صرف وحی ہی اس کی تمام پیچیدگیوں اور گنجلکوں کی وضاحت کرے گی۔ یہ اختیار صاحب وحی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس ہے کہ خدائی پیغام کو خدا کی دی ہوئی وحی کی روشنی میں کیسے سادہ، واضح اور عام فہم بنا کے پیش کریں کہ عقل گمراہ نہ ہو سکے۔ عقل وحی کو سمجھ تو سکتی ہے مگر معنویت عطا نہیں کر سکتی کیونکہ معنویت کے لئے وحی اگر عقل کی محتاج ہو تو وحی اپنی اہمیت کھو دیتی ہے۔ محتاج عقل، وحی لایعنی سی بات بن کر رہ جاتی ہے۔ وحی عقل کا کوئی لباس زیب تن نہیں کر سکتی چاہے وہ کتنا بھی دیدہ زیب و دلکش، دلفریب کیوں نہ ہو، وہ ہر حال میں وہ اک عیب ہی رہے گا۔

عقل اس قابل ہے ہی نہیں کہ بغیر کسی رہبر کے وحی کو بنیاد بنا کر معاشرہ ترتیب دے سکے یا زندگی کا نصب العین متعین کر سکے جس کا سب سے بڑا ثبوت یہی ہے کہ ہر وحی کسی پیغمبر کے مرہون منت انسانوں تک پہنچی۔ ہر نبی نے وحی کو بنیاد بنا کر انسانیت کی رہنمائی کی اور ایک معاشرے کی بنیاد رکھی۔ وہ معاشرے اس وقت تک دگرگوں حالت سے دوچار نہ ہوئے جب تک انہوں نے وحی کو عقل کی بھینٹ نہ چڑھا دیا جیسے ہی انہوں نے وحی کے مطالب و مفاہیم اپنی عقل سے وضع کرنے شروع کر دئیے وہ تباہ برباد ہو گئے۔

معلوم قرائن کی روشنی میں دیکھتے ہیں کہ پیغام خدا کیا ہے اور کیسے ہے، اللہ رب العزت نے وحی کی تعبیر کے لئے انسانوں کو رہبر و پیغمبر کا محتاج بنایا ہے جو وحی کی علمی و عملی تعبیر و وضاحت منشائے الہی کے مطابق پیش کرتے ہیں۔ بغیر رہبر کے وحی عقل کے رحم و کرم پہ ہو گی جو تباہی و گمراہی کا سبب بنے گی کیونکہ عقل اس قابل ہے ہی نہیں۔ اگر ہوتی تو وحی کی ضرورت ہی نہ رہتی۔ اس سے ثابت ہوا کہ پیغام صرف وحی نہیں، وحی اور صاحب وحی صلی اللہ علیہ وسلم کا قول و فعل ہے اور جب تک یہ دونوں لازم و ملزوم نہیں ہوتے پیغام کی تکمیل نہیں ہو سکتی "لا الٰہ الا الله محمد الرسول الله " کی تکمیل نہیں ہو سکتی۔ وحی اپنی انفرادی حیثیت میں ہو یا صاحب وحی کا قول و فعل، اگر ہم ان کو انفرادی حیثیت میں لیں گے تو پیغام خدا سے مستفید نہیں ہو سکیں گے، ہم کسی بھی مقصد کو حاصل نہیں کر سکیں گے اور وہ مقام حاصل نہیں کر پائیں گے جس کے لئے اللہ رب العزت نے یہ پیام بھیجا ہے۔

پیغام رب ذوالجلال رہتی دنیا تک کے لئے اتمام حجت ہے یعنی جب وحی رہتی دنیا تک کے لئے اتمام حجت ہے تو یہ لازم ہے کہ صاحب وحی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ کار بھی اتمام حجت ہو وگرنہ وحی اپنی اہمیت کھو دیتی ہے کیونکہ انسان کی عقل فکر سوچ اس قابل ہے ہی نہیں جو وحی کو معنویت عطا کرے جو اگر ہوتی تو شروع دن سے ہی اللہ رب العزت کسی کو صاحب وحی نہ بناتا۔ اگر ہم صاحب وحی کا قول و فعل وحی سے الگ کرتے ہیں تو یہ اللہ کے پیغام کے ساتھ ایک ظلم عظیم ہو گا اور اس کا نتیجہ بھی وہی ہو گا جو دوسری قوموں کے ساتھ ہوا جن کی تفصیل وحی بڑے واشگاف انداز میں بیان کرتی ہے۔

یہ پیغام رہتی دنیا تک کے لئے ہے اور اسکی حفاظت کا ذمہ بھی خود اللہ رب العالمین نے لیا ہے جس نے انسانیت کی بھلائی کے لئے نبی مبعوث فرمائے اور وحی کی روشنی عطا فرمائی تو کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم تو کوشاں ہوں، حق کی راہ میں اور ہمیں خدا کی طرف سے مکمل پیغام ہی نہ ملے اور جو پیغام مکمل ہی نہ ہو وہ کیسے اتمام حجت ہو سکتا ہے رہتی دنیا تک کے لئے؟ وہ تو زمانی اعتبار سے تھا جو گزر گیا جو ہم اس پیغام سے کبھی منسوب نہیں کر سکتے اور جب ہم مانتے ہیں کہ واقعی اللہ رب العزت ہی اس کا محافظ ہے تو وہ مکمل پیغام کا محافظ ہے بس ضرورت ہے تو یقین کی۔

اب آتے ہیں آج کے دور کے مسائل کی طرف۔ اگر ہم اپنی سوسائٹی میں نظر دوڑاتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ ہم ایک دوسرے سے مسابقت کے چکر میں نفس پرستانہ روش کا شکار ہیں ہمارا مقصد کامیابی نہیں شہرت ہے مقام و مرتبہ ہے۔ ایک طرف تو جدیدیت پسند ہیں جنہوں نے مادیت کو اپنے اوپر مسلط کر لیا ہے، نفس پرستانہ سوچ نے ان کے فکری اسلوب کو جکڑا ہوا ہے۔ یہ سوچنے والے ذہن انا پرستی کی دلدل میں جہاں صرف اپنی سوچ ہی حق سچ معلوم ہوتی ہے، بری طرح سے دھنسے ہوئے ہیں۔ یہ طبقہ اللہ کے پیام میں سے صرف وحی کو حق مانتے ہوئے صاحب وحی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل سے مکمل طور پہ انکاری ہے اور وحی کی معنویت اپنے مادہ پرستانہ خیالات کی روشنی میں اپنی عقل سے بیان کرنے کی کوشش کرتا ہے تو چونکہ عقل عاجز ہے، اس لیے وحی کو معنویت عطا کرنے میں تو بات کہیں گم ہو جاتی ہے کیونکہ یہ اختیار صرف اور صرف نبوت کو حاصل ہے کہ کلام الہی کو وحی کی روشنی میں منشائے الہی کے مطابق معنی و مفہوم دے سکے، یہ کسی عام انسان کے بس کی بات نہیں۔ تو ایسا کرنے سے پیام الہی کا جو مقصود ہے وہ حاصل نہیں ہو پاتا اور نتیجہ گمراہی کی صورت نکلتا ہے۔

دوسری طرف اس قدامت پرست ذہنیت کا راج ہے جس نے وحی کو ایک سائیڈ پہ گھر کے کسی کونے میں اونچے طاقچوں پہ جس تک کسی کی رسائی آسانی سے نہ ہو غلافوں میں لپیٹ کر رکھ دیا ہے کبھی کبھار اس کو اٹھاتے بھی ہیں تو قسم اٹھانے کے لئے یا آنکھوں سے لگانے کے لئے، اٹھاتے ہیں مٹی جھاڑ کے دوبارہ وہی یا نیا کپڑا لپیٹ کے رکھ دیتے ہیں بات ہوتی ہے تو صرف بابوں کی، آباؤ اجداد کے قول و فعل کی، وحی کا مدعا کیا ہے کسی کو یہ توفیق نہیں ہوتی کہ کھول کے ایک بار دیکھ لیں کہ منشائے الہی کیا ہے۔ بس یہی فکر رہتی ہے شام و سحر کہ بابوں نے کیا کہا ہے، فلاں نے یہ کہا، فلاں نے یوں کیا، جو اپنی دانست میں ایک فکری مغالطے کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا اس طرح بھی مقصد پیغام خدا حاصل نہیں ہو سکتا۔

دونوں صورتوں میں مقاصد کا حصول ناممکن ہے اور معاشرے میں نتیجہ کھلی گمراہی، عداوت، تکفیری رویہ، عدم برداشت، نفس پرستی، تعصب، بےراہروی، دین سے بیزاری، شعائر اسلام کا مزاق اڑانا الغرض معاشرے میں ہر وہ منفی رویہ پنپتا ہے جس سے سوسائٹی انحطاط کا شکار ہوتی ہے۔ انا کا طوق ہر شخص اپنے گلے میں سجائے اسے یوں سینچ، سینچ کے رکھتا ہے جیسے پھولوں کا ہار سجایا ہوا ہو۔ اس پہ شرمندہ ہونے کی بجائے اسے طرہ امتیاز تصور کرتے ہیں۔ ان دونوں طبقوں کا فکر سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہوتا، ذرا غور کرنے پہ محسوس ہوگا کہ اس ناواقف فکر طبقے کی فکر میں بھی ذاتیات کا عنصر نمایاں رہتا ہے اور ہر فکری اختلاف ذاتی اختلاف کی شدید ترین شکل اختیار کیے ہوتا ہے۔

رب العالمین کے پیغام کو مکمل طور پہ اپنانے کی ضرورت ہے۔ وحی اور صاحب وحی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل سے ہی رب العزت کے پیغام کی تکمیل ہے۔ فکری آزادی اسلام کا خاصہ ہے۔ اسلام ذہنوں پہ قفل نہیں لگاتا بلکہ سوچ کے بند کھولتا ہے۔ غور و فکر کی دعوت دیتا ہے مگر انسان کی سوچ کو مادیت، نفس پرستانہ روش سے روکنے کے لئے، انا پرستی کی بیماری سے بچانے کے لئے حدود متعین کرتا ہے اور واشگاف انداز میں بیان کرتا ہے کہ اس سے آگے کی سوچ تمہیں راہ راست سے بھٹکا دے گی۔

سانول عباسی
سانول عباسی
تعارف بس اتنا ہی کہ اک عام انسان

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *