مکاتب فکر اور نفرتوں کی بات

میں ایک عام مسلمان ہوں اور تفرقہ بازی پہ قطعاً یقین نہیں رکھتا۔ یہ بات اپنی حد تک بہت اچھی ہے اور پڑھنے میں بھی دل کو لگتی ہے۔ ایسا ہی ہونا چاہئیے۔
لیکن زمینی حقائق کچھ اور ہیں۔ ہر انسان کسی نہ کسی درجے میں کسی نہ کسی مکتبہ فکر سے جڑا ہوتا ہے اور تمام مکاتبِ فکر ایک دوسرے سے فقہی معاملات میں مختلف رائے رکھتے ہیں۔ اور یہ مکاتبِ فکر کا تنوع ,اختلافِ رائے ہی کے مرہون منت ہے۔ ان کی اصل یہ ہے کہ یہ ایک دوسرے کو کافر یا جہنمی قرار دینے کے لئے نہیں بلکہ مختلف مسائل میں مختلف آرا رکھنے کی وجہ سے وجود میں آئے۔ ان کی مکمل ایک تاریخ ہے۔ ان کی تاریخ سمجھے بغیر سب کو غلط قرار نہیں دیا جاسکتا۔
اس بات کو سمجھئے۔ جیسے قائد اعظم یونورسٹی اور پنجاب یونیورسٹی دو مختلف ادارے ہیں۔ کسی بھی ایک خاص ڈگری کو لے کر بنیاد کے علاوہ اساتذہ کا موقف اور رائے اور پڑھانے کا انداز اور پڑھائی کا مواد مختلف ہوتا ہے۔ ایک ہی ڈگری رکھنے والے مختلف نکتہ نظر رکھتے ہیں اور یہ تنوع ہی خوبصورتی ہوتا ہے۔ بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو دوسرے کے موقف کو یکسر رد کر دیتے ہیں اور محض اپنی رائے کو کامل سمجھتے ہیں۔ معاشرتی اور سماجی علوم کی تعلیم کے دوران ایک بات پہ بہت زور دیا جاتا ہے کہ بنیادی اصولوں پہ قائم کوئی بھی بات اور موقف مکمل غلط نہیں ہوتا۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کا ذہن کسی بات کو قبول نہ کرے اور آپ کی رائے مختلف ہو مگر آپ اپنی رائے اور پیرائے کی بنیاد پہ دوسرے کی رائے کو جھوٹ فریب اور دھوکہ قرار نہیں دے سکتے۔ آپ علمی اختلاف کرتے ہیں۔ بھرپور انداز میں کیجئے اور دلیل کے ساتھ کیجئے۔ تذلیل کے ساتھ نہیں۔
اسی طرح فقہی مکاتب فکر کے معاملے میں بھی اسی اپروچ کو استعمال کریں۔ کسی دوسرے مکتبہ فکر کے مسلمات اور مقدسات کی تضحیک مت کیجئے۔ استہزا اور ٹھٹھہ بازی مت کیجئے۔ اختلاف رکھتے ہیں۔ لاکھ بار رکھیں۔ دوسرے کے موقف کو قبول نہیں کرتے تو بھی برداشت کریں۔ خرابی ہمیشہ تبھی پیدا ہوتی ہے جب ایک دوسرے کے مسلمات اور مقدسات کا مذاق اڑایاجائے اور بدلے میں یہ امید کی جائے کہ اگلے آپ کی غیر اخلاقی بات کو ٹھنڈے پیٹوں براداشت کر لیں گے۔ ایسا ہو نہیں سکتا کہ آپ کسی کے بڑوں کی تذلیل کریں اور آپ کو اس کا کڑوا اور تلخ جواب نہ ملے۔
اپنے اپنے مسالک کا احترام کریں۔ اپنی بات کیجئے۔ دوسرے کا مضحکہ مت بنائیں۔ دوسروں کو برداشت کریں۔ تبھی امن ممکن ہے۔ بھائی بھائی نہیں بن سکتے تو کم از کم انسان بننے کی کوشش تو کیجئے۔ بس اتنی سی گزارش ہے۔

بلال آتش
بلال آتش
معتدل نظریات اور عدم تشدد کا قائل ہوں اور ایسے ہی احباب کو پسند کرتا ہوں۔ نفرتوں کے پرچار کی بجائے محبتوں کے پھیلاؤ پہ یقین رکھتا ہوں۔ عام سا انسان ہوں اور عوام ہی میں نشست و برخواست رکھتا ہوں اور عوام ہی کی بات کرتا ہوں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *