انصاف ہر وقت ہر جگہ ،تبدیلی۔۔۔۔۔ علی اختر

ایک زمانہ تھا جب مملکت خداد  پاکستان میں انصاف ناپید تھا، مثال دی جاتی تھی کہ  کورٹ میں کامیاب وہی ہے جسکے ہاتھ سونے کے اور جوتے لوہے کے ہوں۔ معمولی کیسز سے لے کر قتل و چوری کے مقدمات ہوں یا جائیداد و کاروبار سے لے کر گاؤں دیہات میں بھینس چوری کے مسئلے میں  جس نے عدالت کا چکر لگایا سمجھو اسکا برا وقت شروع۔

وقت یوں ہی گزرتا رہا اور تاریخ پہ تاریخ ، پیشی پہ پیشی بھگت بھگت کو عوام کا ایمان ہی عدالتوں سے اٹھ چکا تھا۔ بہت سے لوگ پنچایتوں اور جرگوں کو عدالت پر فوقیت دیتے تو بعض بااثر لوگوں سے فیصلہ کرانا بہتر سمجھتے۔ گاؤں دیہات کی کیا بات راقم نے کراچی جیسے شہر میں بھی متحدہ کے یونٹس پر لوگوں کو جھگڑوں کے فیصلے  کرواتے دیکھا تھا۔

انصاف کا حصول ایک لمبا اور تکلیف دہ پراسس تھا ۔ جو ایف آئی آر سے شروع ہوتا جو کہ پولیس اسٹیشن میں کاٹی جاتی اور جب کوئی  پولیس کے پاس ایف آئی آر درج کرانے پہنچتا تو بھاری رشوت کا سن کر پہلے ہی قانون سے بددل ہو جاتا اور رشوت نہ دینے کی صورت میں وہ بیچارہ مختلف تھانوں کی حدود میں ہی الجھ کر رہ جاتا تھا، بالفرض اگر اس مرحلہ سے نکل بھی آتا تو بیچارہ وکیلوں، پیش کاروں اور تاریخوں کے چکر میں پڑ کر انصاف کی خواہش سے ہی دست بردار ہو جاتا ۔

عوام اس کٹھن اور لمبے پراسس سے تنگ تھے ۔ وہ فوری اور سستا انصاف چاہتے تھے ۔ ہر گلی ہر سڑک ہر موڑ پر یہاں جرم، ظلم ، زیادتی وہاں انصاف۔ اسی لیئے ایک وقت ایسا بھی آیا جب کراچی کی عوام ڈکیتوں کو پکڑ کر پولیس کو دینے کے بجائے زندہ جلانے کو ترجیح دینا شروع ہو گئے تھے۔

دن گزرتے گئے نسلیں گزر گئیں لیکن انصاف نہ ملا ۔ لیکن پھر اچانک قدرت کو رحم آگیا اور لوگوں کا ایک گروہ انصاف کا نعرہ لگا کر اٹھا ۔ انکے لیڈر نے کم و بیش دو دہائیاں جدوجہد کی اور آخر کار 2018 کے الیکشن میں اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔

بے شک اس سے امید یہی ہے کے وہ تو عوام تک فوری انصاف پہنچا دیگا لیکن اسکے کارکنان و ایم پی اے و ایم این اے بھی کسی سے کم نہیں ۔

ابھی تین دن پہلے ہی کی بات ہے ۔ ایک ظالم حکومتی عہدہ دار نے ایک مظلوم شہری کی گاڑی کو ہٹ کیا اور الٹا اسے ہی برا بھلا کہنے لگا۔ وہ تو خوش قسمتی سے وہاں انصافی گروہ کے ایک ایم پی اے مکرمی ڈاکٹر عمران علی شاہ صاحب موجود تھے۔ وہ فوری گاڑی سے اترے اور مظلوم کی داد رسی کی ، پہلے تو اس ظالم شخص سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا اور پھر تھپڑوں سے وہیں موقع پر انصاف فراہم کر دیا۔ ایسے ملک میں جہاں انصاف کے لیئے کئی  کئی  سال انتظار کرنا پڑتا تھا اچانک اس طرح سڑک پر فیصلہ ہو جانا ایک قابل تحسین عمل تھا سو کسی منچلے نے اسکی وڈیو بھی بنا ڈالی اور سوشل میڈیا پر ڈال دی گئی ۔

اتفاق ایسا ہے کہ  شاہ صاحب راقم ہی کے علاقے سے ایم پی اے منتخب ہوئے ہیں اور راقم کی معلومات کے مطابق شاہ صاحب کی اپنی سوتیلی والدہ بھی انصاف کے حصول کے لیئے دھکے کھا رہی ہیں تو ایسے شخص کا کہ جسکے اپنے خاندان والے انصاف کے بحران کا شکار ہوں اس طرح سڑک پر انصاف فراہم کرنا ایک فطری عمل ہے۔

یہاں پاکستانی معاشرہ کا ایک منفی پہلو بھی دکھانا ضروری سمجھتا ہوں  کہ اس قابل ستائش عمل کو بھی کچھ شر پسندوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اسکے ساتھ ساتھ پارٹی نے بھی انکے دباؤ میں آکر اس بھلے آدمی کو شو کاز نوٹس ایشو کیا ہے۔ جبکہ اس نے مجبوری میں اس مجرم کو بلا کر میڈیا کے سامنے معافی بھی مانگی تھی۔

میں ان شر پسند عناصر سے اپیل کرونگا کہ انصاف کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے اس میں شامل نہ ہو سکیں تو کم سے کم مخالفت تو نہ کریں نا ۔ اور شکر ادا کریں کہ  آپ لوگوں کو ایسے حکمران ملے ہیں جو گلی گلی سستا اور فوری انصاف دے رہے ہیں۔

علی اختر
علی اختر
جو دیکھتا ہوں وہی بولنے کا عادی ہوں ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *