کلاس تھری کے ہارڈی بوائز۔۔کاشف محمود

مال روڈ لاہور کی ہو یا مری کی، یہاں بچھڑے ہوئے دوست ملتے ہیں۔
دیال سنگھ مینشن لاہور کی مال روڈ کا ایک ایسا کنول ہے، جسے اپنے آس پاس پھیلتے کیچڑ کی پرواہ نہیں۔ کوڑاکرکٹ،داخلی سیڑھیوں کے سامنے بے ہنگم پارکنگ، بے توجہی کا شکار(ایک اور) باغ، تجارتی حرص جوزینوں کے اوپر،نیچے، اور درمیان کھوکھے بنائے بیٹھی ہے ۔۔ اور ان سب سے درمیان لیکن ان سے بے نیاز،دیال سنگھ مینشن۔ سو، ایک روزاسی دیال سنگھ مینشن دفتری کام سے جانا ہوا۔ واپسی پرمال روڈ کے پارایک سکول کے لنگوٹیے دوست سلیم سے ملاقات ہوگئی۔

سکول میں اردو کے امتحان میں ایک مضمون لکھا جاتا تھا، بعنوان میرا بہترین دوست۔ ہمیشہ وقت کی پابندی کرنے والا، ذمّہ دار، سب کا پسندیدہ ٹائپ ۔ ان غیر ضروری، اضافی تکلفات کو نظر انداز کردیں تو اپنا سلیم تقریباً وہی دوست تھا۔ ہرشرارت میں ساتھ۔ کھیل، کھانا، ناول، سب سانجھے۔ ہم پچھلی بنچ پہ بیٹھتے اور ، ڈیسک پر سکول کے بستے کی ’حفاظتی اوٹ‘ بنائے، درسی کتابوں کی جگہ کہانیاں پڑھتے۔ تجربہ یہی بتاتا ہے کہ آپ کو بہترین دوست کلاس کی پچھلی بنچوں سے ملتے ہیں۔ بقیہ کی دوستی امتحانات کے لیے نوٹس اور ٹیسٹ کی تیاری تک ہی رہتی ہے۔ خیر۔ ایک تو اتنے عرصے کے  بعد ملے اور وہ بھی سکول کے دروازے کے اتنے قریب۔ سکول میں چند منٹ پہلے چھٹی ہو چکی تھی اورہمارا بچپن کلاس رومز سے باہر آزادی کی جانب دوڑتا آ رہا تھا۔ سکول کا ایک راؤنڈ تو اب فرض تھا!

tripako tours pakistan

سکول کے مین گیٹ سے داخل ہوئے تو کلاس رومز سے پہلے کھیل کا میدان آ گیا۔ مٹیالا گراؤنڈ جس میں کہیں کہیں گھاس کے جزیرے تھے۔ درمیان میں کرکٹ کی پچ۔ گراؤنڈ کے ایک کنارے پر ٹیچرز کے رہائشی اپارٹمنٹ اور دوسرے کونے میں پرانے سامان کے لیے بنے چند سٹور رومزاور دو ایک پیڑ۔ سب کچھ ویسا ہی تھا۔ سکول میں سینیئر جماعتوں کے لڑکے بریک کا وقت یہیں کرکٹ کھیلتے گزارتے۔ اس گراؤنڈ کو دیکھتے ہوئے مجھے کچھ یاد آیا اور میں نے سلیم سے کہا، ’سلیم، وہ ہڈیاں یاد ہیں؟‘ سلیم نے ہنستے ہوئے سر ہلا دیا۔

ہڈیوں کا قصہ یہ ہے کہ جونیئر ہونے کی وجہ سے ہم کرکٹ کھیل تو نہیں سکتے تھے، اس لیے بریک کا وقت گھوم پھر کر گزارتے۔ میدان کے کونے میں بنے سٹور ہم سب بچوں میں آسیب زدہ مشہور تھے، اس لیے وہاں کم ہی جانا ہوتا۔ ان دنوں ہم نے ہارڈی بوائز نیا نیا پڑھنا شروع کیا تھا۔ یہ سیریز بچوں کے لیے لکھے گئے تھرلرناول تھے، جو دو بھائیوں کے کارناموں کے گرد گھومتے تھے۔ یہ پراسرار کمرے ہمارے ایڈونچر کے شوقین دماغوں میں ہل چل مچا دیتے۔ اس خوف اور تجسس کو وہاں تعینات کلاس مانیٹرزکی موجودگی زیادہ بڑھا دیتی کہ بریک کے دوران کسی بھی لڑکے یا لڑکی کا سٹورز کی جانب جانا منع تھا چاہے وہ کسی بھی جماعت کا ہو۔
ایک دن سٹور کے قریب کھیلتے ہوئے ہمیں ایک ہڈی کا کونا مٹی میں سے جھانکتا نظرآیا۔کچھ ٹھوکریں مار کر دیکھا تو ایک لمبی سی ہڈی تھی۔ یہ یہاں کیسے آئی؟ شاید اور بھی ہوں۔ اگلے روز ہم نے اپنے دھاتی فٹوں کی مدد سے مزید ’کھدائی‘ کی تو آس پاس سے مزید ہڈیاں ملیں۔ ان کمروں کے گرد پھیلی پراسراری کی دھند مزید گہری گئی۔

پھر چند روز بعد ایک کرکٹ میچ کے دوران ہم ہمت کر کے گیند ڈھونڈنے سٹور رومز کی جانب چلے گئے۔ یہ ایک منزلہ سٹور نما کوٹھریاں دو قطاروں میں آمنے سامنے بنے ہوئی تھیں۔ ان کے بیچ کی راہداری آغاز میں ہی مڑ جاتی تھی اور اس طرح گلی کے اندر جانے والا باہر سے نظر نہیں آتا تھا۔ سب دروازوں پر پرانے زنگ آلودقفل پڑے تھے ۔دروازوں کے ساتھ جالی والی کھڑکیوں پرگرد اور مکڑی کے جالے جمے تھے۔ اندر پڑے پرانے ڈیسک اور کرسیاں نظرصرف دھوپ پڑنے پرہی نظرآ رہے تھے اور  پیچھے فرنیچر کے پراسرار ہیولے اور گھپ اندھیرا ۔ اس گلی کے آخر میں ہماری سفید ٹیپ چڑھی گیند پڑی تھی ، جسے ہم ڈھونڈنے آئے تھے لیکن ایک انجانے خوف نے ہمارے قدم جکڑ لیے۔ ہوا چل رہی تھی اورہمارے پسینے سے بھرے کپڑوں میں سنسنی دوڑاتی لیکن جانے کیوں زمین پر گرے پتے ساکت تھے۔ ہم نے ہمت کرکے گیند کی جانب قدم بڑھائے لیکن ساتھ ہی ایک آواز سرنگ جیسی سرگوشی کرتی آئی
ہااااااؤؤؤؤؤؤ۔۔!!!!
ہارڈی بوائز گرتے پڑتے، ایک دوسرے کو کہنیاں مارتے باہربھاگے اور پھر کبھی سٹور رومز کی طرف نہیں گئے۔’کھدائی ‘سے بھی توبہ کر لی۔

ابھی ہم یہ سب یاد کر ہی رہے تھے کہ پیچھے سے  کسی نے مانوس بے تکلفی سے پوچھا، ’یہ تم دونوں کہاں سے آگئے؟‘ مڑ کے دیکھا تو ایک ٹیچر ہاتھ میں رجسٹر اور کچھ کتابیں لیے کھڑی تھیں۔ غور کیا تو پہچانا کہ یہ ہماری کلاس ٹیچر کی بیٹی لیزا ہے۔ لیزا سکول میں ہم سے چار،پانچ جماعتیں سینیئر تھی۔ ہماری ٹیچر اگر کسی اور کام، مثلا پیپر چیک کرنے میں مصروف ہوتیں تو لیزا کو بُلا کر کلاس اس کے حوالے کر دیتیں ۔ وہ ہم پر خوب رعب ڈالتی۔ گوری چٹی لیزا جب ہمیں شور کرنے پر غصہ سے دیکھتی یا کوئی سوال پوچھتی تو حلق میں ایک گولا سا پھنس جاتا۔اس کی گھورتی ہوئی براؤن آنکھیں اور تحکمانا انداز میں باہر نکلا نچلا ہونٹ ہمیں کنفیوژ کرنے کو کافی تھا۔شاید ہمیں تنگ کر کے اس کو مزہ بھی آتا تھا۔ سوال کرتی اور ہمارے غلط جواب سن کر بڑے تمسخر سے ہنستی۔ شدید غم و غصہ کی کیفیت ہوتی۔آپس میں ہم نے اسے مس شیطان کا خطاب دے رکھا تھا۔
لیکن آج اس کا رویہ خاصا دوستانا تھا۔ لیزا نے بتایا کہ وہ سکول میں سائنس پڑھا تی تھی۔ ہماری ٹیچر ریٹائیرہوچکی ہیں لیکن اب بھی گراوئنڈ کے قریب ٹیچنگ سٹاف کے اپارٹمنٹ میں رہتیں ہیں۔

لیزا کو ایسی ’نارمل‘ اور گپ شپ ٹائپ باتیں کرتے دیکھا تو ہمت بندھی اور ہم نے اسے اپنے ’پراسرار ‘ تجربات اور واقعات کے بارے میں بتا دیا۔ خاموشی سے ہماری روداد سننے کے بعد کچھ دیر ہمیں دیکھتی رہی اور پھر اس کی ہنسی چھوٹ گئی۔ ہم واپس اپنے سکول کے زمانے کے ’لیزا کمپلیس‘ میں چلے گئے اور اپنے آپ کو بیوقوف ثابت ہونے کے لیے تیارکر لیا۔ ازلی جہالت کا طعنہ تو خیر اس نے نہیں دیا۔ ہنسی کے ٹارچر سے فارغ ہو کر اس نے ہمیں ساتھ آنے کا اشارہ کیا اور سٹور رومز کی جانب لے گئی۔ اس کے پیچھے چلتے خود کو کافی’  ذہین‘ تصور کر رہے تھے۔ سٹور رومز کی وہ گلی جو بچپن میں خوف کا ایک استعارہ تھی، اب کافی نارمل اور معمولی سی نظر آئی۔ ایک کمرے کو تالا نہیں لگا ہوا تھا۔ لیزا نے رجسٹر ہمیں پکڑائے اور اس سٹور کا دروازہ تھوڑے جھٹکے سے دھکیلا۔اس جھٹکے سے کمرے میں ہوا کا ایک مصنوعی پریشر بنا جس سے کھڑکی کی جالی پہ جمی گرد اور مکڑی کے جالوں میں سے ایک آواز چھن کر آئی۔۔
ہااااااؤؤؤؤؤؤ۔۔!!!!
دھت تیرے کی! مس شیطان کے پیچھے پیچھے اس گلی  سے باہر نکلتے ہوئے سلیم نے سوال کیا، لیکن وہ ہڈیاں؟ لیزا نے اپنے فلیٹ کی طرف واپس جاتے ہوئے کہا، یاد ہے ہمارے پاس ایک کتا ہوا کرتا تھا۔ لازمی وہی شام کو میدان میں اپنے کھانے سے بچی ہوئی ہڈیاں دبادیتا ہوگا۔اچھا ،بائے بائے!
اب اس سے زیادہ مزید کتنی ’عزت افزائی‘ ممکن تھی۔ اس کے جاتے جاتے میں نے ایک آخری سوال پوچھ لیا کہ مانیٹر وہاں سٹور رومز کی جانب کسی لڑکے لڑکی کو جانے کیوں نہیں دیتے تھے؟ ایسا بھی ہوتا ہے کہ کبھی کبھی آپ کا اپنا سوال آپ کی زبان سے نکلتا ہے اور جواب خود ہی طلوع ہو جاتا ہے۔ بہر حال میں نے مس شیطان کو ایک بار پھر ہم پر ہنسنے کا موقع دے دیا تھا۔ دھت تیرے کی!

Advertisements
merkit.pk

Save

  • merkit.pk
  • merkit.pk

کاشف محمود
طالب علم ہونا باعث افتخار ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply