ہابیل بنیں قابیل نہیں۔۔بلال شوکت آزاد

آدم کو تخلیق کیا,اللہ نے فرشتوں کی جماعت سے سجدہ کروایا,شیطان نے انکار کیا اپنے سے کمتر مٹی گارے والی مخلوق کو سجدہ کرنے سے تو اسے تاقیامت  اپنی  رحمت سے بے دخل کردیا,آدم کو مشروط جنت بخشی کہ ساری جنت کے مالک ہو لیکن ذہن نشین رہے کہ فلاں درخت کا پھل  مت کھانا ,مگر آدم چند دنوں میں بیزار بیزار اور بجھا بجھا سا رہنے لگا,وجہ تنہائی اور یکسانیت تھی لیکن زبان پر شکوہ یا شکایت نہ آئی۔مگر اللہ تو وہ ہے جو دلوں کے حال اور حال کی تلخیاں بہتر جانتا اور سمجھتا ہے۔بیشک تنہائیوں کا بادشاہ اللہ ہے, بیشک احد ہے , بیشک اللہ ہر رشتے ہر تعلق سے پاک ہے, وہ اللہ کسی کا باپ نہیں اور نہ کسی کی اولاد ہے۔اس لیے  تنہائی صرف اللہ کو ہی جچتی ہے۔یگانہ و تنہا صرف اللہ رہ سکتا ہے نا کہ انسان, فرشتے اور جن و چرند پرند۔اللہ نے آدم کی بیزاری کو ختم کیا، حوا کو آدم کی پسلی سے پیدا کرکے۔اب جنت جنت لگنے لگی آدم کو۔اب ماحول میں رعنائی اور رونق عود کرآئی۔اب سکھ کا ساتھ ملا تو جنت کا منظر نظر آیا۔لیکن انسانی فطرت ہر منظر, ہر خوشی, ہر غم ہر احساس پر غالب آکر رہتی ہے۔آدم کو سکون کی خاطر حوا کی صورت جنس مخالف مہیا کی لیکن شیطان کو آدم پر جو خار، جو غصہ تھا وہ کسی صورت نکلتا نظر نہیں آرہا تھا  اکیلے آدم پر ،کہ وہ مضبوط اعصاب اور ایمان کا حامل تھا لیکن جب حوا کا وجود نظر آیا تو شیطان کو کھیل کھیلنے کا موقع ملا۔

حوا آدم کی پسلی سے پیدا ہوئی تھی۔ٹیڑھی ہڈی کی مخلوق کی فطرت ٹیڑھی ٹھہری تھی منجانب اللہ۔اعصاب کمزور اور ایمان لغرش سے پُر۔آدم کی اکلوتی محبوبہ اور بیوی کی صورت لباس ہونے کا فخر الگ۔شیطان نے حوا کو جنت کے اس پھل کی طرف راغب کرنا شروع کیا جس کی کھانے کی  آدم کو ممانعت  تھی۔وقت لگا،لیکن  شیطان حوا کو ورغلانے میں کامیاب ٹھہرا۔پھر وقت لگا تو حوا آدم کو منانے میں کامیاب ٹھہری۔پھر کائنات میں وہ دن آیا جب حوا اور آدم شیطان کے دھوکے کا شکار ہوکر اس پھل کو کھا بیٹھے جس کی  اللہ نے ممانعت کی تھی ۔ادھر وہ پھل کھایا ادھر جلال خداوندی کا شکار ہوئے۔

ناصرف تاقیامت جنت سے بے دخل ہوئے بلکہ بیک وقت جدائی, عریانی, دکھ, تکلیف, تنہائی اور تلاش جیسی چیزوں سے ایک بیابان زمین  سے  واسطہ پڑا۔اللہ سے پھر آدم کا رونا گڑگڑانا اور پریشان حال رہنا دیکھا نہ گیا کہ وہ اللہ تو بزرگ و برتر   ہے, رحمت و عظمت کا واحد مالک, بس پھر جو علم ،جو سمجھ بوجھ آدم کو دی تھی اسی کے ذریعے دعائیہ کلمات سکھائے اور منہ سے ادا کروائے۔

اللہ نے اپنے بندے آدم کو معاف فرمایا اور حکم صادر کیا  ،اس وعدے کے ساتھ کہ تم اور تمھاری  اولاد اب  زمین  کو آباد  کریں گے اور میری ہی بندگی کریں گے ، تو قیامت کے روز انہیں ان کے نیک اعمال اور توحید پر ایمان کی بدولت وہ جنت واپس دے دوں  گا جو ان سے چھین لی گئی ہے لیکن اگر وہ نافرمان اور مشرک واقع ہوئے تو جہنم ہی ان کا ٹھکانہ ہوگا شیطان ملعون کی طرح۔

پھر دوبارہ آدم اور حوا کو ملادیا۔۔شریعت ودیعت کی۔نظام معاشرت اور نظام زندگی سے آشنا کیا۔اولاد کے معاملات کیسے نمٹانے ہیں واضح سمجھا دیے۔صبح والی دونوں اولادیں لڑکا اور لڑکی کو شام والی دونوں اولاد لڑکا اور لڑکی سے نکاح کرکے رشتہ ازدواج میں باندھو گے۔لیکن پھر شیطان اللہ سے تاقیامت ملی اجازت بلکہ ڈھیل کا ناجائز فائدہ اٹھانے وارد ہوا،اور آدم کی اولاد  ہابیل اور قابیل کے مابین جنس مخالف کی خاطر پہلی جنگ ہوئی جو ایک کے قتل پر اختتام پذیر ہوئی۔

انسانیت کا پہلا قتل اور پہلی موت۔

قتل کرنے والا ہوس کے ہاتھوں مجبور اور جان دینے والا غیرت کے ہاتھوں مجبور۔مطلب روئے انسانیت کی پہلی شہادت غیرت, عزت یعنی عورت کی خاطر ہوئی۔روئے انسانیت کی پہلی ناانصافی پہلی ہٹ دھرمی ،پہلی زیادتی اور پہلا قتل ہوس اور سفلی جذبات نے کروایا ،سلسلہ نیکی و بدی ہزاروں سال  سے چلتا رہا۔کبھی نیکی کا مقدر   عروج ٹھہرا، کبھی زوال۔کبھی بدی کو زوال چکھنا پڑا کبھی عروج۔نجانے کتنی لمبی تاریخ ہے نسل انسانی کی لیکن غیرت , عزت اور محبت کی تاریخ اتنی ہی طویل ہے جتنی نسل انسانی کی تاریخ۔اسی طرح ناانصافی, ظلم و زیادتی اور ہوس کی تاریخ  بھی نسل انسانی جتنی ہی  طویل ہے۔

آج ذرا اردگرد نظر دوڑائیں۔۔کوئی بھی مذہب ہو یا معاشرہ، وہ انہی جذبات کے گرداب میں پھنسا ہے جس کا شکار اولین نسل انسانی تھی۔14  فروری وقت کے قابیلوں کی ہوس, ناانصافی اور زیادتی کا تسلسل ہے جو شریعت کو مذاق جانتے ہیں,جو اللہ کے حکم کو مذاق جانتے ہیں,جو عورت کو صرف کھلونا اور اپنی جاگیر سمجھتے ہوئے غیر شرعی حق رکھنا فطرت مانتے ہیں,وقت کے ہابیلوں کا شریعت پر ایمان ان کو مذاق لگتا ہے بلکہ ان بیچاروں کی جہالت لگتی ہے جو عورت کی عزت اور غیرت پر سمجھوتہ نہیں کرتے بلکہ اللہ کے حکم کا پاس رکھ کر نکاح کا رشتہ استوار کرتے ہیں۔

آج بھی موجودہ قابیل شیطان کے ساتھی ہیں۔جو ہوس کا ننگا ناچ ناچنے اور نچانے میں کسی ڈر اور خوف کا شکار نہیں۔14  فروری ہی وہ شیطانی دن ہے جس دن  وقت کے قابیلوں کی حیوانیت اور عریانیت سے شرمندہ ہوکر شیطان بھی یقیناً کسی چاردیواری سے باہر نہیں نکلتا ہوگا ،کیونکہ اس دن حوا کی وارثان اور آدم کے وارث لیکن قابیل کے پیروکار شیطانیت اور حیوانیت کا امتزاج بناکر اللہ کی شریعت اور آدم کی آدمیت کو, انسانیت کو شرمندہ کرتے ہیں۔نہیں آخر یہ کیسی محبت اور کیسی الفت ہے جو سربازار ننگا ہونے کو ترجیح دیتی ہے لیکن نکاح و شادی پر آمادہ نہیں کرتی۔یہ محبت نہیں ہوس ہے۔یہ سفلی جذبات کا شدید سیلابی ریلا ہے جو اللہ سے فرمانبرداری اور شریعت کو بہا کر لے جاتا ہے۔

ہرسال پھولوں اور پرفیومز کے بدلے لٹنے والی حوا کی بیٹیاں یاتو خودکشیاں کرکے حرام موت مرتی ہیں یا طوائفیں بن کر کسی نہ کسی زندہ گوشت کی دکانوں پر ساری زندگی لٹنے کو  جا بیٹھتی ہیں۔کوئی چند ایک ہی اپنے لوٹنے والے  کی منکوحہ بن پاتی ہیں لیکن زیادہ دیر پا رشتہ ان کا بھی نہیں  ہوتا ۔جب رشتے کی بنیاد میں ہوس اور شیطانیت کا راج ہو تو اس کی بلندی کیا خاک ہوگی؟بہرحال اس سال بھی وقت کے قابیل ہابیلوں کی عزت اور غیرت روندنے کو تیار ہیں۔ہمیں ان قابیلوں کے سفلی جذبات اور شیطانیت کا گلا گھوٹنا ہوگا۔کیونکہ وقت کے ہابیلوں پر وقت کے قابیلوں کی بری نظر ہے۔اس لیے  ہمیں جلدی نکاح اور دوسری, تیسری اور چوتھی شادی کی تحریک کو عام کرنا ہوگا۔ہمیں اللہ کی شریعت اپنے گھروں  میں نافذ کرنا ہوگی۔اگر آپ کو اس بار کوئی غیر شادی شدہ جوڑا نظر آئے تو سختی سے نہیں نرمی سے پیش آئیں اور انہیں یاد کروائیں کہ وہ کون ہیں اور کیا کرنے اور بننے جارہے ہیں۔ہمیں اس بار 14  فروری پرہابیل کی طرح عزت اور غیرت کی خاطر لڑنا اور مرنا ہوگا وقت کے ہر قابیل کے مقابلے پر۔۔ہابیل بنیں قابیل نہیں!

بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد نام ہے۔ آزاد تخلص اور آزادیات قلمی عنوان ہے۔ شاعری, نثر, مزاحیات, تحقیق, کالم نگاری اور بلاگنگ کی اصناف پر عبور حاصل ہے ۔ ایک فوجی, تعلیمی اور سلجھے ہوئے خاندان سے تعلق ہے۔ مطالعہ کتب اور دوست بنانے کا شوق ہے۔ سیاحت سے بہت شغف ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *