سنسر شپ۔۔۔۔ مبشر علی زیدی

میں پہلے بھی اسماعیل کاردے کے ناول پیلس آف ڈریمز یعنی خوابوں کے محل کا تذکرہ کرچکا ہوں۔ یہ ایک دلچسپ کہانی ہے۔ ایک بادشاہ کے دور میں خواب جمع کرنے والا محکمہ تشکیل دیا جاتا ہے۔ رعایا سے کہا جاتا ہے کہ اپنے خواب اس محکمے کے اہلکاروں کو سنائیں۔ اہم خواب اہم افسروں تک منتقل کیے جاتے ہیں اور زیادہ اہم خواب زیادہ اہم افسروں تک۔ ضعیف الاعتقاد معاشروں میں خوابوں کو الہام جیسا رتبہ حاصل ہوتا ہے، چنانچہ ان خوابوں سے یہ نتیجہ نکالا جاتا تھا کہ سلطنت کو کیا خطرات لاحق ہیں اور ان سے بچنے کی تدبیر کیا کی جائے۔ محل کے بااثر حکام اپنی مرضی سے خوابوں کے مطلب نکالتے تھے اور ان کی بنیاد پر مخالفین کو تشدد بناتے تھے بلکہ خاندان کے خاندان ختم کردیتے تھے۔
اسماعیل کادرے کا تعلق البانیہ سے ہے۔ ان کا یہ ناول 1982 میں شائع ہوا جب البانیہ میں سوویت روس کی حامی سوشلسٹ حکومت تھی۔ کادرے نے ناول میں بین السطور ایک مطلق العنان حکومت کا قصہ کہا جس پر انھیں غدار قرار دیا گیا اور ناول پر پابندی لگادی گئی۔ بعد میں کادرے کو فرانس میں پناہ لینا پڑی۔
میں بار بار کہتا ہوں کہ اوائل بچپن سے فکشن پڑھنا چاہیے اور اپنے بچوں کو مطالعے کی عادت ڈالنی چاہیے۔ فکشن اور شاعری پڑھنے والا بین السطور بات سمجھ جاتا ہے اور خفا ہونے کے بجائے اس کا لطف اٹھاتا ہے۔ خفا وہی ہوتا ہے جو بند ذہن کاہوتا ہے۔ جو سخت گیر مذہبی نظریات یا آمریت کا حامی ہوتا ہے۔ فکشن اور شاعری دماغ کی کھڑکیاں کھولتے ہیں جن سے تازہ ہوا کے جھونکے آتے ہیں۔
صحافی اور ادیب خاموش نہیں رہ سکتے۔ اسی کی دہائی کے البانیہ یا پاکستان میں صحافیوں اور ادیبوں نے سنسرشپ سے بچنے کے لیے علامتی کہانیاں کہیں۔ بے وقوف سے بے وقوف آمر بھی جانتے ہیں کہ اگر بین السطور بات کہنے پر پابندی لگائی گئی تو لوگ براہ راست ان کے خلاف بولنا شروع کردیں اور وہ چیخ و پکار نہیں سہہ پائیں گے۔
مشرف کا دور تو خیر بہتر تھا لیکن ضیا الحق نے بھی علامتی کہانیوں پر پابندی نہیں لگائی تھی۔ لیکن آج ہم نئی قسم کی سنسرشپ کا شکار ہیں جس میں آپ بین السطور بات بھی نہیں کرسکتے۔ جس میں آپ علامتی کہانی بھی نہیں لکھ سکتے۔
کل اخبار نے میری ایک کہانی کو ناقابل اشاعت قرار دیا۔ میں نے دوسری کہانی بھیجی جو سنسرشپ کے خلاف تھی۔ اس کہانی کو زیادہ ’’ناقابل اشاعت‘‘ قرار دیتے ہوئے کم ’’ناقابل اشاعت‘‘ کہانی کو چھاپ دیا گیا۔
پیش خدمت ہے سنسرشپ کے خلاف کہانی، جو سنسرشپ کا شکار ہوگئی۔


پابندی

“ہمارے ملک میں ایک لفظ لکھنے اور بولنے پر پابندی لگ گئی ہے۔”
برما کے صحافی نے مایوسی سے بتایا۔
“اسٹیبلشمنٹ؟” میں نے اندازہ لگایا۔
برمی صحافی نے نفی میں سر ہلایا۔
میں سوچنے لگا کہ کون سا لفظ ہو سکتا ہے۔
“جمہوریت؟” میں نے دریافت کیا۔
“نہیں!” اس نے جواب دیا۔
“الیکشن؟ وہ لفظ الیکشن ہے؟”
“نہیں۔ الیکشن نہیں۔”
“دھاندلی؟ وہ لفظ دھاندلی ہے؟”
“نہیں۔ دھاندلی نہیں۔”
مساوات؟ وہ لفظ مساوات ہے؟”
“نہیں۔ مساوات نہیں۔”
“آزادی؟ وہ لفظ آزادی ہے؟”
“نہیں۔ آزادی نہیں۔”
میں نے شکست کا اعتراف کیا،
“ہار مان گیا، سچ!”
برمی صحافی نے کہا،
“ہاں، سچ!”

Avatar
مبشر علی زیدی
سنجیدہ چہرے اور شرارتی آنکھوں والے مبشر زیدی سو لفظوں میں کتاب کا علم سمو دینے کا ہنر جانتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *