ہم مٹی میں چراغ رکھ آئے ۔۔۔سید عارف مصطفی

الم یہ ہے کہ گو مشتاق احمد یوسفی کو جہان رنگ بو سے گئے کئی دن ہوچلے لیکن دنیا بھر میں جہاں جہاں بھی اردو بولنے اور سمجھنے والےاہل زوق موجود ہیں وہاں ابتک اک عجیب سے سناٹے اور مہیب سے سوگ کا عالم طاری ہے یوں لگتا ہے کہ جیسے دنیائے مزاح یکسر اجڑ گئی ہے قطعی بانجھ ہوگئی ہے۔۔ لیکن یہ چند روز کی ہی بات نہیں ، انکا خلاء ہمیشہ ہی محسوس کیا جاتا رہے گا کیونکہ ان کا سارا وقت گویا ان ہی کا عہد تھا اور یہ انکی وفات کے بعد بھی جاری رہےگا ۔

ناقابل تردید حقیقت یہ ہے کہ اردو ادب کی کسی صنف میں اور کسی بھی عہد میں کسی بھی تخلیقی شخصیت کو اسکی زندگی ہی میں وہ مقام نہیں ملا جو مشتاق احمد یوسفی کو نصیب ہوا اور نہ ہی شاید آئندہ بھی کسی کو ایسا ارفع مقام میسر آسکے گا۔۔

بلاشبہ اپنے فن میں وہ ایسی یکتا و منفرد شخصیت تھے کہ جس نے صرف شگفتگی کے شاداب مرغٖزاروں ہی کی سیر نہیں کی بلکہ مزاح کے منہ زور گھوڑے کو تدبر اور تفکر کی دشوار گزار گھاٹیوں میں بھی خوب ٹاپوں ٹاپ دوڑایا اور اس پہ سوار کرکے اپنے قاری کو ایسے ایسے ان دیکھے مقامات کی سیر کرائی کہ  جو اگر یوسفی ہمرکاب نہ ہوتے تو وہ شاید بھی کبھی اس طرح نہ دیکھ پاتا۔۔۔ لاریب ، اس سفر میں انہوں نے ہنسایا بھی بہت اور رلایا بھی بہت۔۔۔

کمال کی بات یہ ہے کہ یوسفی کو اردو مزاح کے سب سے بلند مقام مصنف ہونے کا یہ مقام کتابوں کے انبار پہ چڑھ کے نہیں ملا بلکہ اپنی 97 سالہ طویل زندگی میں انکی صرف پانچ ہی کتابیں شائع ہوئیں یعنی چراغ تلے، زرگزشت، خاکم بدہن ، آب گم اور شام شعر یاراں ۔۔ اور انہیں تو طریق ظرافت کے پانچ بنیادی ارکان کا نام بھی دیا جائے تو غلط نہ ہوگا اور انہیں شاہراہ ظرافت کے 5 سرور بخش پڑاؤ بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔

ان میں سے موخرالزکر کے بارے میں گمان کیا جاتا ہے کہ وہ اسکی اشاعت کے حق میں نہ تھے اور انکی طویل بیماری سے لاچاری کے دنوں میں انکے چند احباب نے انکی چند تقریباتی تقاریر یا ہنگامی تاثراتی مضامین کو مرتب کرکے اک کتاب کی شکل دے ڈالی کہ جنہیں انکی باقی کتابوں کے ہم پلہ قرار دینا مشکل ہے جبکہ ان کتب میں سے ایک ‘آب گم ‘ میں تو زبان و بیان اور فکر و تجزیے  کی ایسی بلندیاں وافر طور پہ موجود ہیں کہ وہ عہد ساز کہلائی ہے وگرنہ یوسفی کی تو ہر تصنیف ہی ایسی کیف آگیں ودلچسپ ہے کہ ہر صاحب ذوق کواپنا ہر اک صفحہ پورے انبساط سے پڑھواتی ہے اور ایک ہی نشست میں پوری کتاب پڑھائےبغیر ہلنے بھی نہیں دیتی۔

بات ہو رہی تھی یوسفی صاحب کے سفر آخرت کی تو یہ عرض ہے کہ انکا آخری دیدار صرف انکے گھر ہی میں بہت کم وقت تک کروایا گیا کہ جہاں انکے اہلخانہ و خاندان والوں کے علاوہ دوست احباب کی بڑی تعداد جمع تھی ۔ ہمیں بھی گھر کےاندر جا کے آخری دیدار کا شرف میسر آیا کہ جہاں اپنے عہد کا یہ سب سے بڑا تخلیق کار خاموش لیٹا ہوا تھا گو اس کے معجزات فن ہمیشہ اہل دل سے کلام کرتے رہیں گے ۔

میت گھر سے باہر لانے کے بعد کسی مرحلے پہ مرحوم کا چہرہ نہیں دکھایا گیا اور انکے مداحوں کی بھاری تعداد انکا آخری دیدار کرنے سے محروم رہی ۔۔ شاید اسکی بڑی وجہ یہ تھی کہ
انتقال کےوقت مرحوم کا منہ پورا کھلا رہ گیا تھا اور اسکا سبب ضیاء الدین ہسپتال کے عملے کی شدید غفلت تھی کہ جس کے ابتر معیار کا احوال یوں بری طرح آشکار ہوا۔۔ وہاں یوسفی صاحب نمونیے  کے شدید اٹیک کے باعث چند روز قبل داخل کئے گئے تھے اور وہ اس سے قبل گزشتہ کافی عرصے سے بیمار ہی چلے آرہے تھے اور اسی لئے دوبرس قبل جب ہم نےآرٹس کونسل میں جسٹس وجیہہ  کی زیر صدارت بزم ظرافت کی جانب سے انکی سالگرہ کا اہتمام کیا تھا تو وہ اس تقریب میں نہیں آسکے تھےاور پھر گزشتہ برس سالگرہ کا موقع آنے کے وقت  تو ان کی صحت   مزید ابتر ہوچکی تھی۔

ڈیفنس کراچی کی مسجد سلطان میں اردو ادب کے اس عبقری کی نماز جنازہ کے موقع پہ وہاں پہ ایسا زبردست جم غفیر دیکھنے میں آیا کہ کسی ادبی تخیلق کار کے نصیب میں شاید ہی کبھی آیا ہو ۔۔۔ اس انبوہ کثیر میں سبھی طبقات کی نمائندگی تھی اور اہل فکرونظر کیا معاشرے کے ہرطبقے سے متعلق افراد دوڑے چلے آئے تھے لیکن وزیر و مشیر قسم کی اہم درباری مخلوق موجود نہ تھی ۔ میڈیا کے بیشمار چینل بھی کوریج کے لئے حاضر تھے لیکن پھر دوڑتی دوڑاتی تھکا مارتی صنعتی زندگی سے جوجتے بیشترلوگ وہیں سے کام نپٹا کےواپس لوٹ گئے اور تدفین کے وقت بہت ہی کم لوگ قبرستان میں موجود تھے ۔۔۔ شاید اسکی وجہ یہ بھی تھی کہ اہلخانہ نے وہاں ٹی وی کیمروں کی آمد پہ پابندی لگادی تھی اور محض کوریج کے لئے آپہنچننے والوں کے لئے یہ پابندی کسی سانحے سے کم نہ تھی۔

مجھے یہ اعزاز ملا کہ فہیم برنی و دیگر احباب کے اشتراک سے یوسفی صاحب کےجسد خاکی کو قبر میں اتار پایا ۔۔۔ پھر تدفین کے لئے میں اور فہم برنی انکی قبر میں اترے ، تدفین کے بعد بزم ظرافت کی جانب سے بطور صدر میں نے اور بزم کے دیگر اہم عہدیداران یعنی فہیم برنی ، م ص ایمن ، اور کامران عثمان اور نفیس احمد خان نے مل کر یوسفی صاحب کی قبر پہ پھولوں کی چادر چڑھائی ۔ اسکے بعد پی ٹی وی اور انجمن ترقیء اردو کی جانب سے بھی پھولوں کی چادریں چڑھائی گئیں

Advertisements
julia rana solicitors london

بعد میں ہماری بزم ظرافت کی طرف سے یوسفی صاحب کی توصیف میں لکھے گئے آمنہ عالم کے تعزیتی قطعے پہ مبنی ایک علامتی لوح بھی انکی قبر کے سرہانے رکھی گئی جس پہ یہ رقم تھا ‘ تاجدار اقلیم ظرافت رخصت ہوا’ اور بلاشبہ یہ اس دن کہی جانے والی وہ سب سےسچی بات تھی کہ مستقبل میں بھی جس کے غلط کا دور دور تک کوئی امکان نہیں ۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply