ذاتی گناہ اور سیاسی گناہ۔۔۔رعایت اللہ فاروقی

آپ نون لیگ کے زبردست حامی ہیں نا ؟‘‘ ’’زبردست کا تو نہیں پتہ البتہ شہباز شریف کی 2008ء سے 2013ء کے مابین کی کارکردگی دیکھ کر نون لیگ کا حامی ہوا تھا اور 2013ء میں پہلی بار نون لیگ کو ووٹ دیا تھا اور اس بار نواز شریف کی کار کردگی کی بنیاد پر پھر اسی جماعت کو ووٹ دینے کا ارادہ ہے‘‘ ’’اور آپ کتابوں کے بھی بہت شوقین ہیں ؟‘‘ ’’یہ تو طے ہے کہ آپ مجھے دھکیل کسی بند گلی کی طرف رہے ہیں لیکن حیران ہوں کہ کتاب کا شوق بھی فرد جرم کیسے شامل ہورہا ہے ؟‘‘ ’’جو آپ سے پوچھا گیا ہے اس کا جواب دیجئے !‘‘ ’’جی ہاں ! میں کتابوں کا شوقین ہوں اور یہ بھی جانتا ہوں کہ نواز شریف کو کتابوں کا کوئی شوق نہیں‘‘ ’’آپ کا شوقِ کتاب پوچھا تھا، اس میں نواز شریف کا ذکر کہاں سے آگیا ؟‘‘ ’’آپ کے پہلے سوال سے یہ ذکر چلا آیا، پہلا سوال نون لیگ کا اور دوسرا کتاب سے متعلق آپ نے ہی تو کیا ہے‘‘ ’’آپ نون لیگ کے حامی بھی ہیں اور کتاب کے شوقین بھی، پھر تو آپ کو بہت شدت سے ریحام خان کی کتاب کا انتظار ہوگاکہ کب چھپ کر آئے اور کب آپ اس کے مندرجات پر کالم کی سیریز لکھیں‘‘ ’’آپ کا خوف اپنی جگہ مگر یہ نتیجہ آپ نے کہاں سے اخذ کرلیا کہ مجھے اس کتاب کا بہت شدت سے انتظار ہوسکتا ہے اور میں اس میں دیئے گئے مواد کی بنیاد پر کالم کی سیریز لکھنے کو بے چین ہوسکتا ہوں ؟‘‘ ’’کامن سینس کی بات ہے ! عمران خان کے خلاف آنے والی اتنی اہم کتاب آپ ہاتھ سے جانے دیں گے ؟‘‘

’’آپ کو ایک بات بتاؤں ؟‘‘ ’’ایک کیا دو بتائیے !‘‘ ’’آپ نے تہمینہ درانی کی کتاب ’’مینڈا سائیں‘‘ دیکھی ہے ؟‘‘ ’’دیکھی کیا میں نے تو پڑھی بھی ہے‘‘ ’’لیکن میں نے وہ کتاب نہیں پڑھی !‘‘ ’’یہ کون مان سکتا ہے ؟‘‘ ’’مجھے آپ سے یا کسی سے کچھ منوانا نہیں صرف بتانا ہے۔ خدا گواہ ہے کہ میں نے مینڈا سائیں کا ایک ورق بھی نہیں پڑھا‘‘ ’’مگر کیوں ؟ ؟ ؟‘‘ ’’کوئی بھی شریف انسان کسی میاں بیوی کے نجی معاملات میں دلچسپی لے بھی کیسے سکتا ہے ؟‘‘ ’’لیکن وہ اب میاں بیوی تو نہیں ہیں‘‘ ’’کتاب شادی شدہ زندگی پر ہی لکھی گئی ہے‘‘ ’’میرا تو خیال تھا کہ آپ اسے سیاسی کتاب کے طور پر اظہار رائے کی آزادی کے معیار پر لیں گے‘‘ ’’دیکھئے ! ایک بات اچھی طرح سمجھ لیجئے کہ یہ واحد میاں بیوی کا ہی رشتہ ہے جس میں دو انسان ایک دوسرے کے سامنے بے لباس ہوتے ہیں اور اسی بے لباسی کے باعث یہ سب سے حساس رشتہ بھی ہے۔ یہ دونوں کے مابین ایک دوسرے پر حد درجہ اعتماد کا قرار ہوتا ہے ۔ اس رشتے کے دوران دونوں کے بہت سے راز ایک دوسرے کے علم میں آتے ہیں اور دیانت کا تقاضا یہی ہوتا ہے کہ ان رازوں کی حفاظت کی جائے۔ اگر بالفرض کچھ بہت ہی نامناسب راز معلوم ہوجائیں تو اس صورت میں بھی رشتہ توڑ لیا جائے مگر دیانت ہاتھ سے نہ جانے دی جائے‘‘ ’’اگر معاملہ ایک قومی لیڈر کا ہو تب بھی ؟ ایسی صورت میں تو اسے قوم کو آگہی فراہم کرنے کی کوشش کے طور پر نہیں لینا چاہئے ؟‘‘

’’میرا نہیں خیال کہ یہ قوم میاں بیوی کے بیڈ روم سے آگہی حاصل کرنے کی شوقین ہے۔ ہماری عدالتوں میں میاں بیوی کے مابین ناچاقی کے لاکھوں مقدمات چل رہے ہیں۔ ان میں سے بے شمار کی بنیاد ایک دوسرے کے کچھ حساس رازوں سے واقفیت بھی ہوسکتی ہے لیکن وہ بیٹھ کر کتابیں نہیں لکھتے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ شرفاء کا چلن نہیں‘‘ ’’اگر وہ سچ ہو تب بھی ؟‘‘ ’’آپ یہ تو جانتے ہیں نا کہ ریحام خان نے خلع نہیں لی تھی بلکہ انہیں طلاق ہوئی تھی ؟‘‘ ’’جی ہاں ! تو ؟‘‘ ’’تو یہ کہ عمران خان پر جس قسم کے الزامات کا ذکر اس کتاب کے حوالے سے چل رہا ہے اگر وہ سچ ہیں تو اس رشتے کا اختتام طلاق نہیں خلع پر ہونا چاہئے تھا۔ یعنی رشتہ ریحام خان کی طرف سے ٹوٹنا چاہئے تھا جبکہ توڑا عمران خان نے ہے۔ لھذا میری رائے میں یہ کتاب ایک مطلقہ کا اپنے سابق شوہر سے انتقام ہے جو وہ سیاسی کوچے میں لینا چاہتی ہے اور ہم بخوبی جانتے ہیں کہ انتقام میں سب سے زیادہ سچائی کو ہی کچلا جاتا ہے !‘‘ ’’آپ کہیں پی ٹی آئی میں تو نہیں شامل ہوگئے ؟‘‘ ’’یہ آپ نے خوب پوچھا ! سیاست میں ذاتی گناہ اور سیاسی گناہ کا فرق ملحوظ رہنا چاہئے۔ ذاتی گناہوں کی نہیں سیاسی گناہوں کی ہی بات ہونی چاہئے۔ میں نے ابھی وہ سیاسی گناہ نہیں کئے جو آج کی تاریخ میں صرف پی ٹی آئی کے دھوبی گھاٹ پر دھلتے ہیں

رعایت اللہ فاروقی
رعایت اللہ فاروقی
محترم رعایت اللہ فاروقی معروف تجزیہ نگار اور کالم نگار ہیں۔ آپ سوشل میڈیا کے ٹاپ ٹین بلاگرز میں سے ہیں۔ تحریر کے زریعے نوجوان نسل کی اصلاح کا جذبہ آپکی تحاریر کو مزید دلچسپ بنا دیتا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *