ایران ،امریکہ کشمکش۔۔۔۔عمیر فاروق

خلیج پہ جنگ کے بادل گہرے ہوتے جارہے ہیں۔ ایک امریکی بحری بیڑا پہلے ہی خلیج میں موجود تھا ایک اور روانہ کردیا گیا ہے اور ساتھ ہی ایک لاکھ بیس ہزار امریکی فوج بھیجے جانے کا فیصلہ سنا دیا گیا ہے۔
دوسری طرف امریکی وزیرخارجہ پومپیو ہی نہیں بلکہ آیت اللہ خامینائی نے بھی کسی جنگ کے امکان کو رد کیا ہے۔ تو یہ سب تیاریاں کس لئے؟
پہلی بات تو یہ جنگ کا امکان نہ ہونے کو باقاعدہ یا ریگولر جنگ نہ ہونا پڑھا جائے بے قاعدہ جنگ جو پہلے ہی جاری ہے اس میں مزید تیزی آئے گی۔
ایک بات ذہن میں رہے کہ جو امریکی فوج اس ہنگام کے بہانے خلیج میں آگئی پھر وہ واپس نہیں جائے گی یہ امریکہ کی طویل المدتی پالیسی ہے جسے ایران کو کسی بھی بیان بازی سے قبل سمجھ لینا چاہیے تھا۔ لیکن اب دیر ہوچکی ہے امریکہ کو جواز مل چکا ہے۔

امریکیوں کو سمجھ آگئی ہے کہ افغانستان میں وہ زیادہ عرصہ رک نہیں سکتے۔ اگر وہ بدقت طالبان کے ساتھ کوئی ایسا معاہدہ کر بھی لیں جس میں امریکی اڈوں کی اجازت ہو تو بھی بعد از امریکی انخلا افغانستان میں روس اور چین کا اثر اتنا زیادہ ہوگا کہ ایسے کسی معاہدہ کا نہ تو عملی فائدہ ہوسکے گا بلکہ نیا سیٹ اپ اسے ختم بھی کرسکتا ہے لہذا وہ اب اس طرف نہیں دیکھ رہے بلکہ آگے کا سوچ رہے ہیں۔
عالمی سیاست میں ایک کھیل کے ختم ہوتے ہی اگلی کھیل شروع ہوجاتی ہے بلکہ اس کے ختم ہونے سے قبل ہی اگلے  کھیل کی بنیادیں رکھی جارہی ہوتی ہیں۔ یہاں بھی ایسا ہی ہے۔ امریکی انخلا کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ روس اور چین جنوب کی طرف بڑھیں گے۔ روس براستہ ایران و ترکی اور چین براستہ پاکستان مشرق وسطی کی جانب اپنا اثرورسوخ بڑھائیں گے ایسے میں بھاری تعداد میں امریکی فوج کا خلیج میں موجود نہ ہونا انکے روایتی اتحادیوں کو بھی روس اور چین سے قربت پہ مجبور کرے گا۔
یہ تو طویل المدتی قیام ایک نئی گریٹ گیم کو جنم دے سکتا ہے۔

جہاں تک قلیل المدتی اثرات کا تعلق ہے تو اسکا سب سے پہلے نشانہ ایران ہی بنے گا اگرچہ پاکستان کو بھی اس لسٹ سے خارج نہیں کیا جانا چاہیے۔
امریکہ کا پہلا ہدف ایران میں رجیم کی تبدیلی ہوگا اس کے لئے معاشی پابندیوں کو تو ہتھیار کے طور پہ استعمال کیا جانا ظاہر ہے پراکسی جنگ کا امکان بھی موجود ہے۔ یہ عین ممکن ہے کہ امریکہ داعش خراسان ( افغانستان ) کے ذریعے ایران کی مشرقی سرحد پہ دباؤ ڈالنا شروع کرے تاکہ ایران اپنے مغربی بارڈر، شام اور لبنان پہ زیادہ توجہ نہ دے سکے۔
ایرانی رجیم خود اپنے مخمصہ میں پھنسی ہوئی ہے ملکی معیشت پہلے ہی بدحال اور عوام عاجز ہین۔ اگر ایسے میں امریکی جارحانہ رویہ کا جواب کسی پراکسی جنگ سے دیں، جو کہ دینگے، تو معاشی بوجھ ناقابل برداشت ہوجائے گا اور عوام چیخ اٹھے گی۔ عوام پہ پہلے ہی پابندیوں کی انتہا کرکے بڑی مشکل سے قابو پایا ہوا ہے وہ بہت جلد اپنی صبر کی حد کو پہنچ جائیں گے تو دھماکہ ہوسکتا ہے۔
دوسری جانب اگر وہ خاموشی اختیار کرتے ہیں تو خود انکے اپنے اقتدار اور جبر کی وجہ چیلنج ہونا شروع ہوگی اور عوام یہ سوچنے پہ مجبور ہونگے کہ وہ یہ قربانیاں کس لئے دیتے آئے اور یہ حکمرانوں کے لئے خطرناک ہے کیونکہ براہ راست خود انکی وجہ جواز کو چیلنج ہے۔

آنے والے سال ایرانی رجیم کے لئے بہت بڑا چیلنج ہونگے ،دیکھتے ہیں وہ کس طرح ان سے نبرد آزما ہوتی ہے۔
معاملہ کا تیسرا پہلو خود سعودی عرب ہے۔ شہزادہ محمد بن سلمان کے دور میں سعودیہ نے اپنی تزویراتی آزادی یا سٹریٹیجک انڈی پینڈنس منوانا شروع کردی تھی اور سعودیہ اپنی سکیورٹی اور معیشت کے لیے صرف امریکہ پہ انحصار کی پالیسی سے باہر نکل کر بیک وقت چین ، روس تک اپنا دائرہ پھیلا چکا تھا جبکہ اسرائیل کے ساتھ بھی اسکے نہایت خوشگوار تعلقات تھے امریکہ اسی وجہ سے شہزادہ محمد کو پسند نہیں کررہا تھا۔ امریکی فوج کی خلیج مین موجودگی سے سعودیہ بھی راتوں رات کسی بڑی تبدیلی سے باز رہے گا۔
خود پاکستان کے لئے بھی اس میں چیلنج موجود ہے۔ گوکہ موجودہ ایرانی رجیم سے پاکستان کے تعلقات بہت خوشگوار کبھی نہیں رہے لیکن ایران میں کسی بڑی تبدیلی کا نتیجہ پہلے سے خراب بھی نکل سکتا ہے اس کے علاوہ اب پاکستان واضح طور پہ امریکی کیمپ کا حصہ نہیں رہا ہے تو بھی یہ موجودگی پاکستان کے لیے اچھی خبر ہرگز نہیں۔ اگر ایران گرتا ہے تو پاکستان اگلا ہدف بھی ہوسکتا ہے یا اس پہ دباؤ تو لازمی بڑھے گا۔
بہرحال یہ تو تھی موجودہ صورت حال۔۔ دیکھنا یہ ہے کہ اب معاملات کس رخ پہ آگے بڑھتے ہیں!

عمیر فاروق
عمیر فاروق
اپنی تلاش میں بھٹکتا ہوا ایک راہی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *