جیسے تھوبڑے ویسے تھپڑ ۔۔۔حسن نثار

وزیر اعظم کے بھولپن کا جواب نہیں۔ کتنی معصومیت سے یہ’’انکشاف‘‘ کیا کہ ’’ریکوڈک‘‘ میں تانبے کے ساتھ ساتھ سونے کے ذخائر بھی موجود ہیں حالانکہ کسی بھی جیالوجسٹ سے تصدیق کرلیں کہ جہاں تانبا پایا جاتا ہے وہاں کسی نہ کسی مقدار میں سونے کا موجود ہونا لازمی ہوتا ہے۔

چلتے چلتے یہ بھی سن لیں کہ’’ریکوڈک‘‘ کا مطلب ہے ’’ریت کا ٹیلہ۔‘‘ تانبے سونے کے ذکر سے اک اور بات یاد آئی کہ چند سال پہلے شہباز شریف نے چنیوٹ (رجوعہ) کے مقام پر تانبے سونے کی موجودگی کا ایک سے زیادہ بار ڈرامہ لگایا اور اسے اپنی’’نیتوں کی پاگیزگی‘‘ کا کمال قرار دیا تھا۔

میں نے تب بھی’’نیت ٹیکنالوجی‘‘ متعارف کرانے پر انہیں پوری طرح ایکسپوز کرتے ہوئے اپنے قارئین کو بتایا تھا کہ حکومت عوام کو بے وقوف بنانے پر تلی ہے کیونکہ یہ ایک بہت پرانا پراجیکٹ ہے جو بوجوہ کسی کام کا نہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ میں نے تب بھی اس حقیقت کی نشاندہی کی تھی کہ تانبے کے ذخائر کے ساتھ تھوڑی بہت مقدار میں سونے کی موجودگی قطعاً کوئی خبر نہیں بلکہ معمول کی بات ہے اور وزیر اعلیٰ عوام کی دم میں نمدا کسنے کی کوشش کررہا ہے۔ عمران کا کیس اور اس کا پس منظر بالکل مختلف ہے جبکہ’’شہباز سپیڈ‘‘ جان بوجھ کر خواہ مخواہ عوام کو چونا لگارہی تھی۔

عمران کو بریف کرنے والے کی ذمہ داری تھی کہ اسے پوری بات بتاتا لیکن شاید وہ کوئی پروفیشنل یا آئوٹ سائیڈر ہوگا جبکہ پی ٹی آئی کے لوگوں کی تو آپس میں ہی کوارڈینیشن دکھائی نہیں دیتی۔

ثبوت اس کا بہت دلچسپ ہے، آپ کو یاد ہوگا اپوزیشن کے دنوں میں عمران کے مختلف اقسام کے ’’تکیہ ہائے کلام‘‘ میں سے ایک تکیہ کلام یہ بھی تھا کہ جب ہم اقتدار میں ہوں گے تو غیر ملکی پاکستان میں نوکریاں ڈھونڈنے آیا کریں گے جبکہ آج پی ٹی آئی کا مشیر خزانہ اس بات کا کریڈٹ لے رہا کہ گزشتہ سال224,000پاکستانی نوکریاں کرنے بیرون ملک گئے جبکہ اس سال چشم بددور یہ تعداد بڑھ کر 373,000ہوگئی ہے لیکن شاید ہمارے اجتماعی مقدر میں ہی مضحکہ خیز تضادات لکھ دئیے گئے ہیں اور بھلا مقدر سے کون لڑسکتا ہے؟لیکن یہ ننگے، بھیانک، مضحکہ خیز تضادات صرف حکمرانوں تک محدود نہیں۔ خود عوام ایک دوسرے کے ساتھ کیا کررہے ہیں؟

عوام ا پنے حکام سے تو رحم، مہربانی، تحفظ، انصاف اور آسانیاں مانگتے ہیں لیکن خود ایک دوسرے کے ساتھ ان کے رویے کتنے سفاک ہیں؟ آپس میں بےحسی بےرحمی، بےدردی کا عالم کیا ہے؟

گزشتہ سے پیوستہ اتوار نہر سے شوکت خانم ہسپتال کی طرف جاتی مین بلیوارڈ کی سروس لین پر اک عجیب غیر انسانی منظر دیکھا۔ اک سائیں نما آدمی کسی گھوڑے کو ٹہلا رہا تھا اور اس کے آگے کوئی جانور صفت بلنکرز چلائے 5،7کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گاڑی چلا رہا تھا اور پیچھے گاڑیوں کی قطار طویل تر ہوتی جارہی تھی جن میں ایک چیختی ہوئی ایمبولنس بھی تھی۔

تب میں نے سوچا یہ اک ایمبولینس نہیں، پوری انسانیت انسان نما لوگوں پر چیخ رہی ہے۔گزشتہ دو دن میں جو ٹی وی پر دیکھا، اس کی صرف دو جھلکیاں۔

معصوم بچے ماں سے ملنے جاتے ہیں اور واپسی پر اس جرم کی پاداش میں ان کا چچا ان بچوں کو الٹا لٹکا کر اس بےرحمی سے انہیں چھتروں کے ساتھ ماررہا ہے کہ کم از کم میرے لئے اس منظر کا بیان ممکن نہیں۔دوسری جھلکی……..سگے بھائیوں نے بھائی کی زبان کاٹی اور پھر پیچ کس سے اس کی آنکھیں بھی نکال دیں۔

ایسے بےرحم رویوں کے ساتھ حکمرانوں سے کس خیر کی توقع؟ کوئی کسی حکومت سے کسی رحم، مہربانی، تحفظ، انصاف اور آسانی کی امید نہ رکھے، ہرگز نہ رکھے اور مجھے یقین ہے ایسا کبھی ہوگا بھی نہیں بلکہ اس کے برعکس ہوگا۔

جیسے جیسے ہمارے دل ایک دوسرے کے لئے پتھر ہوتے جائیں گے، حکمرانوں کے رویے ہمارے ساتھ مزید سفاک ہوتے چلے جائیں گے اور ایسا ہونا بھی چاہئے کہ ……….’’ رحم کرو تاکہ تم پر بھی رحم کیا جائے‘‘معاف کیجئے میں نے دلوں کے پتھر ہونے کی مثال دے کر پتھروں کے ساتھ زیادتی کی ہے۔

نارمل حالات میں اگر کوئی زلزلہ وغیرہ نہ ہو تو میں نے کبھی دیکھا نہ سنا کہ کسی پتھر نے از خود کسی کو زخمی کیا ہو…….انسان شیطان بن جائے تو شیطان بھی پناہ مانگتا ہوگا۔جب گلے سڑے پھلوں سے چاٹ اور باسی سبزیوں سے سموسے اور رول بنا کر لوگوں کو امراض بانٹے جاتے ہیں تو ذمہ دار یہ پھل سبزیاں نہیں جن میں کیڑے پڑے ہوتے ہیں۔

اس سے بھی کچھ پیچھے چلتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کس طرح غلیظ زہریلے ، کیمیکل زدہ پانی سے فصلیں اور باغات سیراب کئے جارہے ہیں تو ظالمو! تم کن کی نسلوں کو مفلوج، اپاہج، معذور اور بیمار کررہے ہو بلکہ سسکا سسکا کر ماررہے ہو؟

اکیلا جون ایلیا نہیں………ہم سب بہت عجیب ہیں، اتنے عجیب ہیں کہ بس خود کو تباہ کرلیا اور ملال بھی نہیںاس سے زیادہ عجیب’’انسان‘‘ کیا ہوسکتا ہے جو کسی ایسی دکان پر جائے جہاں چنے کی دال مہنگی اور بیسن سستا ہو، سچ پوچھیں تو بیچنے خریدنے والے دونوں ہی بےحس ہوچکے ہیں کیونکہ بیسن کو تو ہر صورت چنے کی دال سے مہنگا ہونا چاہئے کیونکہ پسائی بجلی سے ہوتی ہے اور بجلی بہت مہنگی، پھر اس پر اسیس میں کچھ ضائع بھی ہوتا ہوگا اور آخر پر پیکنگ کی لاگت، لیکن سرعام………چنے کی دال مہنگی اور بیسن سستا ہے تو سمجھ لیں کہ ہم ایک دوسرے کو بہت سستا خرید اور بیچ رہے ہیں۔

ہم دودھ سے لے کر آئس کریم، مکھن سے لے کر مارجرین اور ’’خالص اسلامی شہد‘‘ تک ہر طرح اپنی فصلیں یعنی آئندہ نسلیں کس طرح اجاڑ رہے ہیں……….اس کا اندازہ لگانا ہو تو دور جانے کی ضرورت نہیں، صرف’’پنجاب فوڈ اتھارٹی‘‘ کے چن پمفلٹس ہی پڑھ لیں۔خود اپنی خاطر نہ سہی اپنی اولادوں کی خاطر ہی پڑھ لیں کہ آپ کیسے بھوکے بھیڑیوں کے نرغے میں ہیں اور یہ بھوکے بھیڑئیے کوئی اور نہیں ہمارے’’ہی کزن‘‘ہیں۔

پاکستانی بھی اور مسلمان بھی لیکن یہ کیسے کہ ہر کوئی ہر کسی کا دشمن جان بھی؟مبارک ہو، مبارک ہو، مبارک ہو کہ اک تازہ ترین’’بریکنگ نیوز‘‘ کے مطابق پلاسٹک کے بنے ہوئے جعلی انڈے بھی پکڑے گئے ہیں۔

’’واقعی ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں۔‘‘ہم سا ہو تو سامنے آئےاللہ پاک! ترا لاکھ لاکھ شکر کہ جیسی قوم ہو ویسے ہی حکمران ان پر مسلط کردئیے جاتے ہیں۔جیسی روح ویسے فرشتےجیسا مونہہ ویسی چپیڑجیسے تھوبڑے ویسے تھپڑ۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *