سو لفظوں کی کہانی ۔ مسلک

بازار میں اس پر نظر پڑتے ہی چھ سال پیچھے لوٹ گیا۔۔۔
کیوں نہیں ہو سکتی ہماری شادی ؟ اچانک تم اتنا بدل کیسے گئے ؟
اس نے میرا ہاتھ پکڑتے ہو ئے کہا۔۔۔
میں نے ہاتھ چھڑا یا۔تمھارا مسلک الگ ہے بس یہ ہماری آخری ملاقات ہے۔
مجھےگاڑی کے ہارن نےچونکادیا۔۔۔۔۔
پھر اس پر نظر جاپڑی۔۔۔۔ وہ ویسی ہی تھی سراپا قیامت کالے جوڑے میں ملبوس۔
اب ہم میں چند قدم کا فاصلہ رہ گیا تھا۔ ۔۔۔۔
اس کے الفاظ میرے کانوں میں گونجے” ہم ساتھ جئیں مریں گے”۔۔
میں نے نعرہ لگایا”اللہ اکبر” اور جیکٹ کا بٹن دبا دیا۔۔۔

مدثر ظفر
مدثر ظفر
فلیش فکشن رائٹر ، بلاگر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *