• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • جمہوریت اور معاشی ترقی :ترجحات کیا ہونی چاہئیں ؟۔۔۔اسد الرحمٰن

جمہوریت اور معاشی ترقی :ترجحات کیا ہونی چاہئیں ؟۔۔۔اسد الرحمٰن

21ویں صدی کے آغاز سے ہی عالمی سطح پہ ایک سیاسی جمہوریت پہ ایک توانا اتفاق رائے ابھرتا ہوا نظر آتا ہے اور انسانی تاریخ میں پہلی بار ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ دنیا میں اکثر ممالک اب ایک جمہوری سیاسی بندوبست کی طرف جاتے ہوئے  نظر آتے ہیں شہری حقوق اور شخصی آزادی کے تصورات نے نہ صرف کہ اپنی اہمیت کو ثابت کیا ہے بلکہ اپنی افادیت کے بارے میں  بھی نئی زور دار دلیلیں پیش کی ہیں۔

ان زور دار آوازوں میں سے ایک توانا آواز انڈین نژاد نوبل انعام یافتہ ماہر معاشیات امرتیا سین کی بھی ہے کی جنہوں نے جمہوریت اور معاشی ترقی کو ایک دوسرے کیلیے لازم و ملزم کر کے دکھایا ہے اور اس بات کو دلیل سے ثابت کیا ہے کہ کسی بھی معاشرے میں معاشی ترقی کے لیے شخصی ، سیاسی اور معاشرتی آزادی کا کردار نہایت اہم اور بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ توانا اتفاق رائے یورپی تحریک تنویر کے اولین سیاسی نظریہ دان روسو کے جمہوریت کے بارے خیالات کی ہی ایک بازگشت ہے جو کہ اب دنیا کے باقی خطوں تک پہنچ کے نئے پیراؤں میں اپنا اظہار کر رہی ہے۔

تاہم جس طرح ہمیں جدیدیت کی سیاسی تحریکوں اور نظریہ دانوں میں ایک گونہ اشتراک کے باوجود ایک طرح کا تفاوت نظر آتا ہے، مثلا ً روسو اور جان لاک کا عمرانی معاہدہ اپنی اساس میں شخصی اور شہری آزادیوں کے تحفظ کی وکالت کے باوجود ایک دوجے سے مختلف ہے کیونکہ لاک کے نزدیک اقتداعلی مقننہ ہے تو روسو کے نزدیک عوام( روسو اور مارکس (2005) مصنف جمشید نایاب)۔ یہی سیاسی آراء کا تفاوت ہمیں فرانس میں ریپبلکن ازم اور انگلستان میں لبرل ازم کی آئیڈیالوجی میں نظر آتا ہے ۔ دونوں نظریات کے تحت جمہوری سیاسی ڈھانچہ تشکیل پایا تاہم ان دونوں ممالک معاشی پالیسیاں ان نظریات کے زیر اثر مختلف انداز میں وقوع پذیر ہوئیں۔ انگلستان میں ریاست کا معیشت میں کردار کم رہا جبکہ فرانس میں ریاست نے معاشی میدان میں نہایت اہم کردار ادا کیا۔

فرانس انقلاب کے وقت ایک ایسا ملک تھا جس میں معاشی اور سماجی ناہمواری اور نابرابری اپنی انتہاؤں کو پہنچی ہوئی تھی جب کہ ریاستی اداروں پہ فیوڈل اشرافیہ کا قبضہ تھا جبکہ انگلستان میں مرکزی ریاست کبھی بھی فیوڈل اشرافیہ پہ اتنی حد تک قابض  نہیں رہی جیسا کہ فرانس میں تھا اسی لیے دونوں ممالک کا سیاسی ڈھانچہ، فلسفہ اور معاشی پالیسیاں بھی ایک دوسرے سے مختلف رہیں شاید اسی لیے “عوامی بہبود” کا عنصر آج بھی فرانس میں انگلستان سے کہیں زائد  ہے۔ اپنے سیاسی ڈھانچوں کے مختلف ہونے کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ دونوں ممالک ہی نہ صرف معاشی طور پہ طاقتور ہوئے بلکہ انہوں نے اپنی ایمائرز بھی کھڑی کیں اس مثال کے پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمیں اس بات کا ادراک ہونا چاہیے  کہ سیاسی اور معاشی ڈھانچے کسی بھی ملک کی تاریخی ضرورتوں کو مد نظر رکھ کے بنائے جاتے ہیں اور انہی ضرورتوں کے تحت ان میں تبدیلیاں بھی کی جاتی ہیں کوئی ایک دائمی ماڈل کسی بھی دوسرے معاشرے میں  من وعن طور پہ درآمد نہیں کیا جا سکتا اور تیسری دنیا میں “مغربی ریاست” کی ناکامی کی ایک بہت بڑی وجہ شاید ان ممالک کے ثقافتی عوامل کو نظر انداز کرنا بھی ہے۔ https://www.coursera.org/learn/global-studies/lecture/BDlkB/a-concept-impossible-to-export

اسی تناظر میں آج ہمیں پاکستان میں جمہوریت اورمعاشی ترقی کو دیکھنے کی ضرورت ہے ۔پاکستان بنیادی طور پہ ایک انتہائی معاشی ناہمواری کا شکار ملک ہے جس کی اکثریتی آبادی بنیادی سہولیات زندگی تک رسائی سے بھی محروم ہے جبکہ دوسری طرف پاکستان میں امارت کی پرچھائیں بھی انہی محرومی کے جزیروں کے کناروں پہ اپنی پوری فرعونیت کے ساتھ ایستادہ ہے ۔ ایسے میں پاکستانی جمہوریت کے سب سے پہلے کرنے کا کام شاید ان افتادگان خاک کی آنکھوں میں بجھتی ہوئی امید کی شمع کو روشن کر نا ہونا چاہیے تاہم پچھلے آٹھ سال میں ہماری حکومتوں کی ترجیحات پہ نظر ڈالیں تو گنگا الٹی بہتی نظر آتی ہے ۔

ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں لاکھوں لوگ اپنے گھروں سے محروم ہیں لیکن پاکستان کا دمکتا چہرہ “بحریہ ٹاون ہے، 24 لاکھ بچے سکول سے باہر ہیں اور توجہ کا مرکز میٹرو ہے، صرف چند لاکھ لوگ انکم ٹیکس ادا کرتے ہیں اور پھر بھی معاشی ترقی بڑھانے کیلئے “ٹیکس چھوٹ” امراء کو ہی دی جاتی ہے،عام عوام کو جمہوریت کا لولی پاپ دیا جاتا ہے اور کوئی سیاسی پارٹی جمہوری نہیں ۔آخر ہماری جمہوریت کو معاشی پالیسی ترتیب دیتے ہوئے، ترقیاتی فنڈز تقسیم کرتے ہوئے، معاشی ترجیحات کا تعین کرتے ہوئے عوام کی ضروریات کا احساس کیوں نہیں ہو پا رہا؟

”جمہوریت انسٹرومینٹل اور تعمیری دونوں جہتوں میں نئے مواقع پیدا کرتی ہے تاہم ایسے مواقع  کتنی شد و مد سے ایک (سماجی فلاح) کیلئے استعمال ہوں گے کا دارو مدار بہت سارے منضبط عوامل کے ساتھ جڑا ہوا ہوتا ہے جیسا کہ ایک کثیر جماعتی سیاسی بندوبست کے  ذریعے سیاسی تحرک اور اخلاقی اقدار کا پیدا کرنا”۔[ Amartya Sen (1998), Freedom and Development]

تاہم ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان میں افتادگان خاک کی طرف نظر کرم نہ حکومت کی ہے اور نہ ہی حزب اختلاف کی تھر میں  بچے مریں یا کسان کی فصل کی قیمت منڈی کھا جائے ، غریب کو سر چھپانے کو چھت نہ ملے یا اس کی دو انچ زمیں بحریہ والے ریاست کے ساتھ مل کے ہتھیا لیں ، اوکاڑہ کا مزارعہ ہو یا بلوچستان کا محرومی کے عفریت   تلے دبے آوران کا کوئی بے نام کردار جمہوریت کی دیوی کا دل کسی کے لیے  نہیں پسیجتا؟ اگر ایک سیاسی جمہوریت اپنے تمام تر آدرشی بیانات کے باوجود کوئی اخلاقی قدر اور سماجی فلاح نہیں پیدا کر رہی تو دیکھنے کی بات یہ ہے کہ کہیں اس جمہوریت کے لبادے میں کوئی آمریت ہے جو کہ عام آدمی کی چیخ و پکار پہ کان دھرنے کو تیار نہیں؟ یہ کس کی آمریت ہے؟ کیا ایک طبقہ ہے جو کہ تمام مختلف ناموں اور قو میتوں کے فرق سمیت ہر پارٹی میں موجود ہے؟ اور ان تمام جماعتوں کے معاشی ایجنڈے کو ایک دوسرے کے ساتھ باندھتا ہے؟

اس سوال کا جواب ہمارے تمام جمہوریت پسند دوستوں کو دینا ہوگا؟ میرا سوال یہ ہے کہ جمہوریت کو چلنے کیلئے جن عوامل کی ضرورت ہوتی ہے جو اس کو جواز بخشتے ہیں کیا پاکستانی جمہوریت نے ان مقاصد کو ابھی تک جانا بھی ہے یہ نہیں؟

Asad Rehman
Asad Rehman
سماجیات اور سیاسیات کا ادنی سا طالب علم

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *