کائنات کی پراسراریت۔۔۔۔۔محمد شاہ زیب صدیقی/ دوسرا ،آخری حصہ

کائنات کی پراسراریت۔۔۔محمد شاہزیب صدیقی/قسط1
اب تک کائنات کی پیدائش کے متعلق پیش کیے گئے نظریات میں سب سے مضبوط نظریہ یگ بینگ کا ہے،لیکن اس میں بھی کچھ سقم موجود ہیں جن کا حل وقت کے ساتھ ساتھ ہمیں ملتا جارہا ہے۔جُوں جُوں ہم ترقی کررہے ہیں مشاہدات ہمیں یگ بینگ  واقعے کی حقیقت کی جانب تیزی سے لے کر جارہے ہیں۔مضمون کے پچھلے حصے میں ہم نے سمجھا کہ کیسے مائیکرو ویوز بیک گراؤنڈ ریڈیشن (CMBR)کائنات میں پھیلی ہوئی ہیں اور بگ بینگ کے ظہور کا ثبوت ہمیں فراہم کرتی ہیں۔آج سے 70 سال پہلے سائنسدانوں نے بگ بینگ کے متعلق اُٹھنے والے سوالات کے جوابات ڈھونڈنا شروع کیے تو ہمیں اندازہ نہ تھا کہ ہمیں آنے والا وقت مزید ورطہ حیرت میں ڈبو دے گا۔

بگ بینگ نظریے پر تین بہت بڑے اعتراضات سامنے آئے۔

پہلا اعتراض کائنات کا چپٹا ہونا تھا، سائنسدانوں کا ماننا تھا کہ اگر واقعی بگ بینگ وقوع پذیر ہوا ہے تو کائنات کو چپٹا نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس میں خم ہونا چاہیے تھا، جیسے زمین گول ہے ہماری کائنات کو ویسا گول ہونا چاہیے تھالیکن ہم نے پچھلے حصے میں مفصل انداز میں سمجھا کہ کیسے کائنات اب تک کی معلومات کے مطابق فلیٹ ہے،اس اعتراض کو فلکیات میں Flatness problem کے نام سے جانا جاتا ہے۔

انجامِ کائنات اور ممکنات …محمد شاہ زیب صدیقی

دوسرا بڑا اعتراض یہ سامنے آیا کہ ہماری کائنا ت کو پیدا ہوئے تقریباً 13.8 ارب سال کا عرصہ گزر چکا ہے مگر اگر آپ خلاء میں کھڑے ہوکر ٹیلی سکوپ کی مدد سے اپنے سیدھے ہاتھ پر موجود کائنات کے 13 ارب نوری سال دُور علاقے میں جھانکیں تو معلوم ہوگا کہ اُس علاقے میں کہکشاؤں کی مقدار تقریباً اتنی ہی ہے جتنی آپ کے بائیں ہاتھ پر موجود کائنات کے 13 ارب نوری سال دُور علاقے میں ہے۔ یعنی اِن دونوں علاقوں کے مابین 26 ارب نوری سال کا فاصلہ موجود ہے، اور کائنات کو پیدا ہوئے 13.8 ارب سال گزر چکے ہیں، ان دونوں علاقوں کے مابین کوئی تعلق قائم نہیں ہوپایا اس کے باوجود دونوں علاقوں کا درجہ حرارت اور مادے کی مقدار ایک جیسی کیسے ہے؟ اس کی مثال ایسے دی جاسکتی ہے کہ آپ پانی کا گلاس لیں، آپ نے گلاس کے ایک کنارے پر Red رنگ کی سیاہی کا قطرہ ڈالا، جبکہ دوسرے کنارے پر blueرنگ کی سیاہی کا قطرہ ڈالا، سرخ اور نیلے رنگ کے ملاپ سے purple رنگ بننا چاہیے، اور فرض کیجئے ان دونوں قطروں کو پورے گلاس میں پھیلنے کے لئے دس منٹ کا وقت درکار ہے جسکے بعد پورے گلاس میں پانی کا رنگ purpleہوجائے گا، لیکن آپ 1 منٹ بعد دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ پورے گلاس میں پانی purple رنگ کا ہوگیا ہے، آپ لازمی پریشان ہونگے کہ ابھی تو ان دونوں رنگوں کا ملاپ ہونے کےلئے کافی وقت درکار تھا اس سے پہلے ان دونوں نے ملکرتمام پانی کو purpleکیسے کردیا؟ بالکل کچھ ایسا ہی سوال سائنسدانوں کے ذہنوں میں گونجنا شروع ہوگیا  کہ کائنات کے 2 ایسے کنارے جو 26 ارب نوری سال دور ہیں ان دونوں کا درجہ حرارت اور کہکشاؤں کی مقدار ایک جیسی کیسے ہے؟اس اعتراض کو فلکیات میں Horizon Problem کے نام سے جانا جاتا ہے۔

ابھی ان 2 سوالوں نےبگ بینگ نظریے کے حامیوں کو چین سے بیٹھنے نہیں دیا تھا کہ تیسرا اعتراض بھی سامنے آگیا۔سٹرنگ تھیوری، گرینڈ یونیفائیڈ تھیوری اور تھیوری آف ایوری تھنگ (Theory of Everything) یہ بتاتی ہیں کہ بیگ بینگ واقعے کے وقت کائنات میں موجود تمام قوتیں (forces)ایک تھیں،  بگ بینگ سے کچھ وقت بعد یہ قوتیں الیکٹرومیگنیٹک فورس، ویک نیوکلئیر فورس ، سٹرانگ نیوکلئیر فورس ،کشش ثقل اور دیگر اقسام کی قوتوں میں تقسیم ہوگئیں۔یہی تھیوریز یہ بھی پیشنگوئیاں کرتی ہیں کہ اگر واقعی بگ بینگ جیسا کوئی واقعہ ماضی میں وقوع پذیر ہوا ہے تو کائنات میں جگہ جگہ یک قطبی مقناطیسی میدان (magnetic monopoles)ہونے چاہیے تھے، لیکن ہمیں کائنات میں کہیں بھی ایسا کوئی یک قطبی مقناطیسی میدان دکھائی نہیں دیتا۔یک قطبی مقناطیس کے معنی ہیں کہ مقناطیس 2 قطب پر مشتمل ہوتا ہے،North poleاور South pole، آپ  ایک مقناطیس کو 2 حصوں میں تقسیم کردیں، تو نئے وجود میں آنے والے مقناطیس بھی 2 قطبین (pole)پر مشتمل ہونگے یعنی نارتھ پول اور ساؤتھ پول، جس کامطلب ہے کہ آپ مقناطیس کو جتنا مرضی تقسیم کرلیں اس کے 2قسم کے ہی قُطب موجود رہیں گے، کوئی بھی مقناطیس یک قطبی نہیں ہوسکتا، اس کی کیا وجہ ہے؟یہ سائنسدانوں کو بھی فی الحال معلوم نہیں۔

بہرحال کائنات میں کہیں بھی یک قطبی مقناطیسی میدان موجود نہیں ،مختلف لیبارٹریز میں کوشش کی گئی کہ جیسے دیگر کوانٹمی ذرات کو تلاش کیا گیا شاید کوئی مونوپول ذرہ بھی دریافت ہوجائے جسےبگ بینگ واقعے کا اہم ثبوت مانا جاسکتا ہو لیکن ہماری زمین کیا، کائنات کے کسی گوشے میں ایسا کوئی ذرہ یا علاقہ دریافت نہ ہوسکا جس وجہ سے بگ بینگ پر اُٹھنے والے اعتراضات ٹھیک معلوم ہونے لگے، یک قطبی مقناطیس کی غیرموجودگی کے اعتراض کو Monopole Problem کے  نام سے جانا جاتا ہے۔اسی تیسرے اعتراض کو سمجھنے کے لئے کئی سائنسدانوں نے سرتوڑ کوشش کی مگر 1979ء میں ایلن گوتھ نے اس کا ممکنہ حل پیش کیا جس کو ہم آج انفلیشن تھیوری (inflation theory) کے نام سے جانتے ہیں۔

ایلن گوتھ نے بتایا کہ ہماری کائنات بگ بینگ کے باعث پیدا ہوئی لیکن پیدائش کے پہلے سیکنڈ کے کھربویں سے بھی کم سیکنڈ میں یہ کائنات “اچانک” ایک ذرے سے پھیل کر بےپناہ وسیع ہوگئی اور پوری کائنات کی شکل اختیار کرگئی۔یہ انفلیشن کا دور (inflation era) ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت کے لئے تھا اور اس میں کائنات روشنی سے لاکھوں گنا تیزی سے پھیل گئی، یہاں پر عموماً فزکس کے طلباء سوال کرتے ہیں کہ آئن سٹائن کی تھیوری کے مطابق کوئی بھی چیز روشنی سے تیز حرکت نہیں کرسکتی تو کائنات کیسے روشنی سے لاکھوں گنا تیزی سے پھیل گئی، اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ کائنات کے اندر قید کوئی بھی چیز روشنی سے تیز سفر نہیں کرسکتی، لیکن کائنات بذات خود کسی بھی رفتار سے پھیل سکتی ہے۔ انفلیشن تھیوری کے ممکنہ ثبوت بھی کائنات میں ملے ہیں مگر ان کے متعلق سائنسدان چونکہ ابہام کا شکار ہیں اس خاطر ان کو بطور ثبوت اب تک تسلیم نہیں کیا گیا۔

یہ کائنات اور ہم ۔۔۔محمد شاہ زیب صدیقی

سائنسدانوں کے مطابق ہماری کائنات میں پر یہ انتہائی عجیب دور گزرا ہے جس میں “اچانک” سے کائنات ایک ایٹم سے بھی چھوٹے ذرے سے عظیم کائنات میں تبدیل ہوگئی ، یہ اچانک سب ایسا کیوں ہوا؟ خیال یہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ جیسے روشنی اور دیگر کوانٹمی ذرات موجود ہیں ویسے ہی انفلیشن کا باعث بننے والے inflaton نامی ذرات بھی کائنات میں موجود ہیں ۔2012ء میں سائنسدانوں نے سرن لیب میں اس جیسا ہی ایک ذرہ دریافت کیا تھا لیکن تحقیق سے معلوم ہوا کہ وہ ذرہ دراصل ہگز بوزون ہے جو کائنات میں ستارے اور دیگر مادہ کی پیدائش کا باعث بنا۔تجربات کے ذریعے انفلیشن کا باعث بننے والے ذرے کی موجودگی کو معلوم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے،اگر inflaton نامی ذرہ حقیقتاً دریافت ہوگیا تو اسے کائنات کی پیدائش کے فوراً بعد بننے والا پہلا ذرہ ہونے کا اعزا ز حاصل ہوجائے گا۔

انفلیشن تھیوری کے ذریعے ہمیں بگ بینگ پر اُٹھائے جانے والے پہلے اعتراض کا جواب بھی مل گیا۔ flatness problem کا جواب یہ ملا کہ کائنات بگ بینگ کے پہلے ہی سیکنڈ میں اس قدر پھیل گئی کہ ہم جس حصے میں آج موجود ہیں یہ فلیٹ دِکھائی دے رہا ہے، جیسے آپ نے ایک فٹ بال پر پاؤں رکھا ہواور وہ فٹبال اچانک سے پھیل کر زمین جتنی بڑی ہوجائے تو آپ کو وہی فٹ بال گول کی بجائے فلیٹ دِکھائی دے گی، لہٰذا  ہوسکتا ہے کہ ہماری کائنات گول ہو مگر ہم جس حصے یا patch میں رہتے ہیں جسے ہم قابل مشاہدہ کائنات  کہتے ہیں جوکہ 93 ارب نوری سال ہےوہ ہمیں فلیٹ دکھائی دیتا ہے،اگر انفلیشن کا دور ہماری کائنات پر سے نہ گزرتا تو ہوسکتا ہے ہمیں کائنات کا خم بھی دکھائی دیتا۔فلیٹنس پرابلم کے بعد دوسرا اعتراض Horizon Problem تھا جس کو اِس تھیوری کے ذریعےحل کیا گیا۔

انفلیشن تھیوری کے مطابق انفلیشن سے پہلے جس وقت کائنا ت ایک نقطے میں تھی اس دوران پوری کائنات کو موقع مل گیا تھا کہ اپنے درجہ حرارت کو برابر کرلے اور تمام کثافت کو برابر بانٹ لے، جس وجہ سے آپ کو کائنات میں ہر جگہ ایک جیسا درجہ حرارت اور ایک جیسی مادے کی مقدار دکھائی دے گی، انفلیشن کے باعث ہمیں یوں لگتا ہے کہ کائنات کے کنارے کبھی آپس میں contact میں نہیں تھے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ انفلیشن سے پہلے کائنات کا ہر علاقہ آپس میں contact میں تھا۔تیسرا اعتراض جو Monopole Problem کےنام سے جانا جاتا ہے،اس کا جواب Inflation theory نے ایسے دیا کہ بیگ بینگ کے فوراً بعد انفلیشن کے وقوع پذیر ہونے سے پہلے پہلے magnetic monopolesوجود میں آگئے تھے مگر انفلیشن کی وجہ سے جب کائنات پھیلی تو یہ مقناطیسی مونوپول انتہائی کمزور ہوگئے، آج یہ اتنے کمزور ہیں کہ ان کو detectکرنا ممکن نہیں ہے۔

بگ بینگ کی گُتھیاں سلجھانے میں انفلیشن تھیوری نے چونکہ بہت کردار ادا کیا اسی وجہ سے انفلیشن تھیوری کو بیگ بینگ کا extended version بھی کہا جاتا ہے۔ اس عجیب و غریب تھیوری نے ایک اور مشکل حل کی ، جدید سائنس نے 2015ء اور 2017ء میں تجربات کے ذریعے تصدیق کی ہے کہ ہر سیکنڈ کے قلیل حصے میں کوانٹم لیول پر ذرات بنتے اور مٹتے رہتے ہیں جسے ہم quantum fluctuations کے نام سے جانتے ہیں، ہمیں نظر آنے والی خلاء دراصل خالی نہیں ہے بلکہ یہ مختلف قسم کی فیلڈز اور ذرات سے بھری پڑی ہے، سو سائنسدانوں کا اندازہ ہے کہ بیگ بینگ کا واقعہ بھی اسی طرح پیش آیا کہ خلاء میں quantum fluctuationکے باعث کوانٹم ذرہ بنا ،اسی دوران اس میں انفلیشن ہوئی اور وہ کوانٹمی ذرہ سیکنڈ کے کھربویں حصے میں ایک کوانٹم ذرے سے کائنات میں تبدیل ہوگیا۔اُس ذرے میں جہاں پر quantum fluctuations کی density زیادہ تھی ،اس ذرے کے  بڑے ہوجانے پر وہ کوانٹم فلیکیچویشنز واپس عدم میں نہ لوٹ سکیں سواُن جگہوں میں مادہ بننا شروع ہوگیا، جوکروڑوں سال بعد ستاروں کی شکل میں سامنے آیا جبکہ بقیہ جگہ خلاء بن گئی۔

کوانٹمی دنیا اور ہگز فیلڈ۔۔۔۔محمد شاہزیب صدیقی

جدید سائنس جُوں جُوں کائنات کو سمجھتی جارہی ہے ، کائنات اُتنا ہی حیران کن رویہ دکھانا شروع ہوگئی ہے۔اگر ہم ٹھیک سمت میں جارہے ہیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ اور ہماری کائنات جس کوانٹمی ذرے سے وجود میں آئی جس نےصرف ایک سیکنڈ کی قلیل مدت کے لئے جنم لیا تھا لیکن انفلیشن کے باعث امر ہوگیا ، کیا یہ سب فقط حادثاتی تھا؟ کیا ہم سب یہاں تک کہ ہماری کائنات عدم سے وجود میں آئی؟ کیا یہ بھی ممکن ہے کہ آج کسی کوانٹمی ذرے میں انفلیشن ہوجائے اور ہماری کائنات کے اندر ہی ایک نئی کائنات وجود میں آجائے؟ سائنسدان ہر دن اس متعلق تحقیق میں آگے بڑھ رہے ہیں ، لیکن کائنات کے متعلق ایک پہیلی ہم سُلجھا نہیں پاتے کہ دوسری گھُتی سلجھنے کے لئے منتظر کھڑی ہوتی ہے۔کائنات کا یہ عجیب رویہ اسی خاطر ہے کہ ہم ابھی اپنے نظام شمسی سے باہر نہیں نکل پائے، جس کا احاطہ فقط ایک نوری سال ہے، جبکہ ہماری قابل مشاہدہ کائنات 93 ارب نوری ہے، اور اس سے باہر موجود کائنات کتنی کتنی وسیع ہےاس کا سوچنا بھی محال ہے!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *