ایک وعدہ ہم بھی کرتے ہیں ۔۔۔۔ سید عارف مصطفٰی

یقینناً یہ ایک بہت قبل تحسین بات ہوئی کہ بہت مثبت وعدے کیے گئے اور بلاشبہ انتخابی فتح کے بعد عمران خان کا خطاب بہت دلپذیر تھا ۔۔ لیکن وہ یہ سب کہہ کر پھنس گئے ہیں کیونکہ اب وہ چاہیں تو بھی ہم انہیں انکے وعدوں اور الفاظ سے پھرنے نہیں دینگے لیکن اسکا مطلب بیجا تنقید بھی ہرگز نہیں ہوگا ۔۔ اپنی تقریر میں انہوں نے قوم سے کئی وعدے کیے  ہیں اور اللہ کرے کہ وہ ان وعدوں کو پورا کریں لیکن اب اس موقع پہ اپنے اختلافات اور تحفظات کے باوجود ہم ان سے تعاون کا اعلان کرتے ہیں اور یہ وعدہ کرتے ہیں کہ اب ہم انکے ہر اچھے اقدام کو سراہیں گے لیکن اسکا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ان پہ تنقید کرنا بند کردیں گے البتہ انکی کسی غلطی پہ فوری تنقید کے لیے  دوڑ پڑنے سے گریز کریں گے اور انہیں اسکی بروقت نشاندہی کرکے اس غلطی کی تلافی کے لیے  کچھ وقت ضرور دینگے اور اس ضمن میں انہیں ہماری مشاورت اور تفہیم کے لیے  ہمارا ہر   رح کا تعاون دستیاب رہے گا ۔۔۔

اب ہم یہ بھی چاہیں گے کہ تبدیلی کے مفہوم کو بھی اچھی طرح سے   سمجھ لیا جائے کیونکہ تبدیلی کا وعدہ پورا کرنا اب خان صاحب کے لیے  ناگزیر ہےاور اسکے لیے  لازمی ہے کہ طبقہء اشرافیہ کے دیوتاؤں کو زمین پہ لایا جائے اور ان پہ قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جائے کیونکہ یہی وہ گروہ ہے جو اپنے ناجائز مفادات کی تکمیل کے لیے  قانون کو پاؤں تلے روندنے کو اپنا حق سمجھتا ہے اور اپنی بدمعاشی برقرار رکھنے کے لیے  ملک میں کسی حکومت کو کوئی بڑا اصلاحی کام کرنے ہی نہیں دیتا ۔۔۔ اس طبقے کی سب سے بڑی علامت بڑے بڑے زمیندار و جاگیردار ہیں اور سب کاموں سے پہلے انکے دماغ درست کیے  جانے کی اشد ضرورت ہے ۔۔۔ چونکہ اپنی تقریر میں خان صاحب نے ٹیکس کلچر کے فروغ کی بات کی ہے تو اس ضمن میں شروعات یہیں سے کی جاسکتی ہے اور میری دانست میں اس ضمن میں ایک بڑا قدم یہ ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے پہلے انتخابی منشور کے مطابق یکساں ٹیکس کلچر نافذ کریں اور کاروباری و صنعتی طبقے کو دودھ دینے والی گائے سمجھ کے بری طرح نچوڑ ڈالنے کا سلسلہ بند کردیا جائے اور زرعی طبقے کو بھی ٹیکس نیٹ میں لے آیا جائے اور یہ وہ اقدام ہے کہ جو ملک میں حکومتی آمدنی میں بے پناہ اضافے کا سبب بن جائے گا اور اس سے نہ صرف حکومت کو اپنے ترقیاتی اہداف کی تکمیل میں خاطر خواہ مدد ملے گی بلکہ جاگیرداری نظام بھی از خود زمیں بوس ہوجائے گا اور اسکی مزید تجہیز و تکفین کے لیے  زرعی اصلاحات کا خصوصی منصوبہ بناکے روبہ عمل میں لایا جائے اور زرعی زمین کی ملیکت کی ایک حد مقرر کرکے زائد زمینوں کو فول پروف طریقے سے بے زمین کسانوں میں تقسیم کردیا جائے

یہاں یہ عرض کرنا بھی عین مناسب ہوگا کہ  حقیقی تبدیلی کا عمل اس وقت تک پہچانا نہیں جائیگا اور نہ ہی اس میں کوئی زور محسوس ہوگا کہ جب تک تبدیلی کی ایک بڑی علامت کے طور پہ اسٹیبلشمنٹ کا سویلین امور میں عمل دخل بالکل ختم نہیں کیا جائے گا، کیونکہ اس کے بغیر کوئی بھی اچھی حکومتی پالیسی بنائی تو جاسکتی ہے مگر بروئے عمل نہیں لائی جاسکتی ، اس لیے  لازم ہے کہ اب اس ضمن میں جرنیلوں کو صاف بتادیا جائے کہ وہ اپنی پروفیشنل جاب تک محدود رہیں اور اپنے ادارے کے اخراجات کی پائی پائی کا حساب دینے کی روش اختیار کریں کیونکہ ملکی دفاع کے لیے  قوم کے خون پسینے کی کمائی سے کثیر رقوم فراہم کی جاتی ہیں اور قوم کے نمائندوں کو پورا حق حاصل ہے کہ وہ اسکی پوری تفصیل جانیں اور اپنی صلاحیتوں کو اسٹیٹ کے  دفاع کے لیے  وقف کردیں ناکہ ریئل سٹیٹ کے لیے۔۔۔۔ ان کو صاف بتادیا جائے کہ کاروبار کرنا فوج کا کام نہیں اور نہ ہی دیگر اداروں کا کنٹرول حاصل کرنا ، ضروری ہے کہ فوج سے سول بیورو کریسی میں چھلانگ لگانے کا پچھلا دروازہ بھی اب بند کردیا جائے اور فوجی افسروں ، سول بیوروکریسی اور عدلیہ کو پلاٹوں سے نوازنے کا سلسلہ بھی فنا کردیا جائے ۔۔۔ جرنیلوں کو یہ اچھی طرح سے سمجھادیا جائے کہ وہ خود کو ریاستی کشتی کا ناخدا سمجھنے کی مزید کوششیں اب ہرگز نہ کریں اور وہ جتنے محب وطن ہیں اتنے ہی سویلین بھی ہیں-

یہاں میں اہل قلم کی جانب سے یہ کہنا وقت کا تقاضا سمجھتا ہوں کہ وقت بہت بدل گیا ہے اور بہتر یہی ہے کے اب ہماری اسٹیبلشمنٹ بھی خود کو تبدیل کرلے ورنہ اب اگر جرنیل مداخلت کی اپنی پرانی روایت کو ترک نہیں کرینگے تو پھر ہم یہ بھی وعدہ کرتے ہیں کہ ہم اہل قلم وزیراعظم عمران خان میں سے ایک طیب اردگان برآمد کرنے کا قلمی جہاد شروع کردینگےاور عوامی حقوق کی حفاظت اور معاشرے کی بیداری کے لیے  انکے دست و بازو بن جائیں گے!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *