اپنی اپنی دنیا

نوے کی دہائی سے پہلے معلومات عامہ کا مآخذ کتابوں، ٹیلی وژن اور اخبارات تک محدود تھا۔ ہر طرح کی خبریں ہم تک پہنچنے کا راستہ ڈھونڈ لیتی تھیں کیونکہ خبروں اور معلومات کے ذرائع پہ ہمارا کنٹرول نہ تھا۔ یوں ہم ہر طرح کی معلومات چاہتے نہ چاہتے حاصل کر لیتے تھے۔ کوئی ایک اخبار کسی حد تک کسی ایک شخص یا ادارے کے بارے میں منفی یا مثبت تو لکھ سکتا تھا مگر مکمل طور پر کسی کے حق میں یا خلاف ہو جانا ممکن تو تھا مگر اتنا آسان نہ تھا۔سال 2000 میں انٹرنیٹ مارکیٹ میں آیا مگر پاکستانی قوم پہلے پانچ سال اسے فقط پورن کا ذریعہ ہی سمجھتی رہی۔ انٹرنیٹ کا استعمال سوشل میڈیا کے ساتھ اچانک تیزی اختیار کرنے لگا جب 2006 اور اس کے بعد سوشل میڈیا کے استعمال میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا۔ آج فیس بک کے پاس دو بلین سےزیادہ صارفین کا ڈیٹا موجود ہے جس میں سے ایک اعشاریہ نو چار بلین active صارفین ہیں۔ ان اعداد اور ان کی اہمیت پہ ہم کچھ دیر میں واپس آتے ہیں اس سے پہلے 1995 میں پیش کیے جانے والے ایک اہم خیال پہ بات کرتے ہیں۔

سال 1995 میں نکولس نیگروپونٹے نے مشہور زمانہ MIT University کی میڈیا لیب میں ایک غیر حقیقی (virtual) اخبار کا خیال پیش کیا جسے Daily Me کا نام دیا گیا۔ اس خیال کا بنیادی مقصد ایک ایسے اخبار کی تشکیل تھا جس میں صارف اپنی دلچسپی کے مطابق منتخب شدہ عنوانات پر خبریں حاصل کر سکے۔ یعنی فرض کیجئے کہ آپ کو فلموں اور موسیقی میں دلچسپی نہیں مگر سیاست اور کھیل آپ کو ہمیشہ اپنی جانب راغب کرتے ہیں تو آپ کے Daily Me میں صرف سیاست اور کھیل سے متعلق خبریں ہوا کریں گی جبکہ فلم اور موسیقی آپ کے اخبار سے حذف کر دی جائیں گی۔ نیگروپونٹے کا یہ خیال کئی سال زیر بحث رہا البتہ اس خیال کو عملی طور پر جدید کنزیومرازم نے اختیار کیا اور آج ہم انتہائی غیرمحسوس طریقے سے اس خیال کی عملی تصویر بنے پھر رہے ہیں۔ ذیل میں اس Daily Me سے متاثر ہو کر بنائی جانے والی چند سروسز کی مثالیں پیش کی جاتی ہیں۔

آپ میں سے اکثر دوستوں نے آن لائن شاپنگ کی ہوگی۔ آپ نے نوٹ کیا ہوگا کہ آن لائن eCommerce سٹور جیسے eBay, Amazon, Ali Baba, Souq وغیرہ پہ آپ کو آپ کی پچھلی خریداری سے متعلقہ اشتہار دکھائے جاتے ہیں۔ یعنی آپ نے اگر پچھلی بار یہاں سے iPhone خریدا یا سرچ کیا تھا تو اب آپ کو پیش کیے جانے والے اشتہار Apple ہی کی دوسری پروڈکٹ یا کم از کم موبائل سے متعلقہ اشتہارات دکھائے جا رہے ہوں گے۔ یہ تمام کمپنیاں سرچ انجن آپٹمائزیشن (Search Engine Optimization/SEO) کی تکنیک کا سہارا بھی لیتی ہیں جس کے تحت گوگل پہ سرچ کی جانے والی کوئی پروڈکٹ اگر ان سائٹس پہ دستیاب ہو تو یہ گوگل سے مدد لیتے ہوئے آپ کی سرچ کے مطابق اپنا content بدل دیتے ہیں۔

کچھ ایسا ہی Consumerism کا فائدہ فیس بک نے بھی اٹھایا۔ آپ چند لمحوں کے لئے غور کریں کہ فیس بک پر آپ کی دلچسپی کیا ہے۔ اگر آپ کو سیاست سے شغف ہے تو فیس بک پہ اشتہارات سے لے کر فرینڈ سجیشن تک میں سیاست کا عنصر غالب کیوں رہتا ہے؟ اگر آپ کو گاڑیوں سے دلچسپی ہے تو آپ کو فیس بک پہ گاڑیوں سے متعلق مواد کیوں دکھائی دیتا ہے؟ اگر آپ مذہبی پوسٹ یا کمنٹ کرتے ہیں تو آپ کی پوسٹ اور کمنٹس سے متعلقہ گروپس اور پیجز کا مشورہ کیسے دیا جاتا ہے؟ فیس بک ایک لاکھ سے زائد عوامل پہ کیلکولیشن کر کے آپ کی نیوز فیڈ پہ مختلف پوسٹس کی درجہ بندی کرتا ہے (مزید معلومات کے لئیے یہ لنک: https://techcrunch.com/2016/09/06/ultimate-guide-to-the-news-feed/)۔ اب ذرا اس حقیقت پہ ایک بار پھر غور کیجئے کہ فیس بک کے پاس ایک اعشاریہ نو چار بلین Active صارفین اور ان کا تازہ ترین ڈیٹا موجود رہتا ہے۔ کوئی حیرت کی بات نہیں اگر آپ کو نواز شریف پسند ہے اور آپ کو سوشل میڈیا دیکھ کر ایسا ہی لگتا ہے کہ پورے پاکستان کو بھی نواز شریف پسند ہے!

یہ Consumerism اور Content Personalization معاشرے میں دکھائی نہ دینے والے مگر خطرناک Echo Chambers کا باعث بنتے ہیں۔ آپ سب بازگشت یا Echo کے بارے میں جانتے ہوں گے۔ جس طرح بازگشت میں اپنی ہی آواز چٹانوں سے ٹکرا کر واپس سنائی دیتی ہے ویسے ہی نظریاتی طور پہ Echo Chambers اپنے ہی خیالات کی وہ بازگشت ہے جو جدید ڈیجیٹل عہد میں ہمیں یہ باور کراتے ہیں کہ ہماری رائے اور ہماری پسند کے علاوہ معاشرے میں کچھ نامور نہیں۔ شکاگو یونیورسٹی میں امریکی قانون کے پروفیسر کیس سنسٹین اپنی کتاب Republic: Divided Democracy in The Age of Social Media میں تحریر کرتے ہیں:”یہاں ایک اور مسئلہ بھی ہے۔ Echo Chambers لوگوں کو اس حد تک مغالطے کی جانب لے جاسکتے ہیں جن کی تصحیح مشکل یا ناممکن ہو جاتی ہے۔ مغالطوں کی قیمت بھی ادا کرنی پڑتی ہے۔ اس کی ایک مثال وہ منظرکشی ہے جس کے تحت صدر اوبامہ امریکہ میں پیدا نہیں ہوئے تھے۔ اس قسم کے مغالطے (اگرچہ یہ تباہ کن ترین نہیں تھا) ختم ہو بھی جائیں تب بھی یہ سیاسی غلط فہمیوں، غیر یقینی، شکوک و شبہات اور کئی بار نفرت کی عکاسی اور ان کے فروغ میں کردار ادا کرتے ہیں”۔

معاشرے میں موجود یہ Echo Chambers متشدد جماعتی تفرقات کو جنم دیتے ہیں۔ یہ مخالفت اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ فرد کے نزدیک ریاستی مفاد سے زیادہ مخالف جماعت کی مخالفت اہمیت رکھنے لگتی ہے۔ اس مسئلے کی کلاسیکل مثال مملکت پاکستان ہے جہاں سیاسی مخالفت کی بنیاد پر ہنڈی کو فروغ دینے سے لے کر چینی صدر کے دورے کے بائیکاٹ تک کی ترغیب دی گئی، جہاں مذہبی مخالفت کی بنیاد پہ ماورائے عدالت قتل کو فروغ دینے کی بات کی گئی، جہاں دانشور سیاسی چشمہ لگائے پھل بائیکاٹ کو سیاسی جماعتوں سے جوڑنے میں مصروف ہیں۔ کئی مثالیں ہیں لیکن فی الوقت مسئلے کے حل پہ غور کرتے ہیں۔ حل سادہ البتہ کئی دوستوں کی طبیعت پہ شاید گراں گزر ے۔ یہ بھی عین ممکن ہے کہ حل سننے کے بعد الٹا ہمیں ہی لبرل یا سیکولر کے القابات سے نوازا جائے۔ بہرحال مسئلے کا حل یہ ہے کہ اپنی رائے کو حتمی سمجھنا چھوڑ کر ہر مخالف کیمپ کو سنئیے اور پڑھئیے۔ اگر آپ صرف روزنامہ امت پڑھتے ہیں تو ایک آدھ نظر دنیا اور جنگ پہ بھی ڈال لیا کریں۔ اگر آپ صرف اے آر وائے کو دیکھتے ہیں تو کوشش کریں جیو اور سماء کو بھی سن لیں۔ اگر آپ صرف طالب جوہری کو سنتے ہیں تو تھوڑا بہت تقی عثمانی کو بھی سنیں۔ آپ ان کے پیج لائیک کریں جنہیں آپ پسند نہیں کرتے۔ آپ انہیں فالو کریں جو آپ کے مؤقف سے یکسر مختلف آواز رکھتے ہوں۔ ذرا دوسروں کی بھی سنئیے۔ اپنے Echo Chamber سے باہر آئیے اور دیکھئے کہ دنیا کا حسن اختلاف رائے ہی میں ہے۔ دوسری صورت میں آپ اپنی اپنی دنیا بسائے بیٹھے رہیں گے اور حقائق امیدوں کے برعکس آنے کی صورت میں کانسپیریسی تھیوریز پہ یقین رکھے “مظلوم”مگر معاشرے کے لیے ایک مشکل بنے رہیں گے۔

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *