• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • کعب بن اشرف کو کس جرم پر قتل کیا گیا تھا ؟(دوسرا،آخری حصّہ )۔۔۔علامہ مبین قریشی

کعب بن اشرف کو کس جرم پر قتل کیا گیا تھا ؟(دوسرا،آخری حصّہ )۔۔۔علامہ مبین قریشی

اس کا والد اشرف بھی اوس و خزرج کی طرح یمنی الاصل قحطانی قبیلے بنی طے ( آجکل عربوں کا الشمری قبیلہ) سے تھا۔ اشرف مدینہ میں بنو نضیر کے حلیف کے طور پر آباد ہوا تھا۔ ایک مالدار تاجر ہونے کی وجہ سے اس نے مدینے کے یہودی قبیلے بنو نضیر میں اس قدر مقام حاصل کیا کہ یہود کے مقتدا اور تاجر الحجاز ابو رافع بن ابی الحقیق کا داماد بنا۔ اشرف کی اس یہودی بیوی سے کعب پیدا ہوا۔ اس دو طرفہ رشتہ داری کی وجہ سے کعب بن اشرف یہود اورعرب سے برابری کا تعلق رکھتا تھا۔ ماں کی وجہ سے یہودی مذہب پر ہونے کی وجہ سے بنو نضیر کے یہودی علماء پر اس کا اثر و رسوخ اس لئے بھی کافی ز یادہ تھا کیونکہ ان میں سے اکثر اسی کے وظیفہ خوار تھے۔ اس کا قلعہ مدینہ سے باہر بنو نضیر کی آبادی کے پیچھے واقع تھا۔ میثاق مدینہ کے فریق کے طور پر تینوں یہودی قبائل پر لازم تھا کہ مکہ سے آتے ہوئے قریش کے لشکر کا مقابلہ کرنے کے لئے رسول اللہ کا ناصرف ساتھ دیتے بلکہ جنگ کے مصارف بھی ساتھ برداشت کرتے۔ لیکن جیسا کہ پچھلی پوسٹ میں واضح کیا کہ بنو قینقاع تو قریش کے لشکر کی سازش کے فریق تھے جبکہ بنو نضیر کا یہ موالی آدھا تیتر آدھا بٹیر کعب بن اشرف بنو نضیر کے باقی سرداروں سے مشورہ لئے بغیر اپنے چالیس مجلسی بندے لے کر تعزیت کے بہانے مکہ پہنچا۔

یہ بھی پڑھیں :کعب بن اشرف کو کس جرم پر قتل کیا گیا تھا ؟(پہلا حصّہ)۔۔۔۔علامہ مبین قریشی

اسے مدینہ میں جونہی قریش کے سرداروں کے قتل کی خبر ملی تو اس نے اطلاع دینے والے سے پوچھا کہ کیا واقعی ایسا ہوا ہے؟ سرداران قریش عرب کے اشراف اور بادشاہ تھے۔ اگر واقعتا ً محمد ( ص) نے انھیں مار گرایا ہے تو پھر میرے لئے زمین کا پیٹ ( قبر) اسکی پشت سے  زیادہ بہتر ہے۔ خبر دینے والے نے جونہی اسے یقین دلایا کہ یہ یقینی خبر ہے تو یہ فوراً اپنی مجلس میں بیٹھے ہوئے چالیس متوسلین ( جو زیادہ تر اس سے قرضہ لینے آتے تھے) کو لیکر تعزیت کے بہانے مکہ پہنچ گیا۔ کیونکہ یہ ایک اچھا شاعر بھی تھا اس لئے اس نے مکہ کی تعزیتی مجلسوں میں قریش کے حق میں اور مسلمانوں کے خلاف خوب مرثیے پڑھے۔ اپنے مرثیوں میں اس نے انتہا درجے کی پستی پر اُترتے ہوئے مسلمان عورتوں کے متعلق فحش اشعار بھی پڑھے۔ ایک اچھے ذاکر کی طرح خود بھی خوب رویا اور اہل مجلس کو بھی خوب رُلا رُلا کر بدلہ لینے کے لئے انکی غیرت کو خوب جھنجھوڑتا رہا۔ یہ تاجر ہونے کی وجہ سے ابوسفیان کے مزاج سے خوب واقف تھا۔ اسے اندیشہ تھا کہ کہیں وقت گزرنے کیساتھ ابوسفیان اہل مکہ کو مطمئن نہ کرلے۔ اس لئے یہ مقتولین کے ورثاء کو ساتھ ملا کر ابوسفیان کو حرم میں لے آیا ۔ وہاں اس نے کعبہ کا غلاف پکڑ کر ابوسفیان اور مقتولین کے ورثاء سے بدر کے مقتولین کے بدلے کا عہد لیا۔

اس دوران اس کے بطور یہودی مواحد اور مسلمانوں سے عقائد میں اشتراک ہونے کے ابوسفیان نے اسے ایک سوال کے  ذریعے پھنسا کر بیچ میں سے نکالنا بھی چاہا۔ سوال یہ تھا کہ” خدا کے متعلق عقائد کے لحاظ سے یہودی مذہب کے مطابق مسلمان ٹھیک مقام پر کھڑے ہیں یا کہ مشرکین مکہ، نیز ان دونوں فریقوں میں یہودی مذہب کے مطابق کون  زیادہ ہدایت یافتہ ہے؟۔ مجمعے کے سامنے اس سوال کا جواب لینے میں غالباً ابوسفیان کے ذہن میں متوقع  جواب آنے پر قریش مکہ کو اس سے بدظن کرنے کی حکمت تھی۔ لیکن کعب بن اشرف نے جواب دیا کہ تم لوگ ان سے  زیادہ ہدایت یافتہ اور افضل ہو۔ اس نے حرم کا غلاف پکڑ کر اپنی جانب سے مشرکین مکہ کے سامنے یہ عہد بھی کیا کہ وہ قریش مکہ سے بھی پہلے محمد (ص) کو قتل کرنے کے لئے موقع  کی تلاش میں رہے گا۔ اس کا یہ عمل بلا شک و شبہ  حرابہ کا عمل تھا۔ وہ بنو نضیر کی جانب سے دستخط شدہ دستور مدینہ یا میثاق مدینہ کے مطابق پہلے تو مسلمانوں کے لشکر کا حصہ بن کر قریش مکہ کے لشکر کے خلاف لڑنے کا پابند تھا ۔ اسکے بعد جنگ کے مصارف میں حصہ ڈالنے کا بھی پابند تھا۔ جبکہ یہ اس معاہدے کے برخلاف کعبے کے غلاف پکڑوا پکڑوا کر مشرکین مکہ سے مدینہ پر چڑھائی  کے عہد لے رہا تھا اور خود بھی موقع  ملتے ہی رسول اللہ ﷺ کو شہید کردینے کے عہد دے رہا تھا۔

اسکے اس سارے عمل کا ذکر کرکے زرقانی جلد دوم صفحہ ۱۰ سے ۱۲ میں رسول اللہ ﷺ کا یہ تبصرہ نقل کیا گیا ہے کہ “ اس کعب نے کھل کر ہمارے خلاف دشمنی کا اعلان کردیا ہے ، اس نے ہمارے خلاف بہت بری باتیں کیں اور موحدین پر محارب مشرکین کو ترجیح دی اور انھیں ہمارے خلاف اکھٹا کر آیا ہے” ۔ زرقانی نے اسی جلد دوم کے صفحہ ۱۲ پر اور فتح الباری نے بھی یہ حوالے دے کر یہ بھی لکھا کہ مدینہ واپس آکر اس نے اپنے قبیلے کے کچھ یہود کی ایک دعوت کی جس میں اس نے ان کے ساتھ یہ سازش تیار کی کہ وہ محمد ( ص) کو ایک کھانے کی دعوت پر بلائے گا اور جونہی وہ کمرے میں داخل ہوں ان پر جھپٹ کر حملہ کرکے شہید کردینا ہے۔ بخاری و مسلم میں کعب بن اشرف کے قتل کے واقعہ کی روایت حضرت جابر بن عبداللہ سے ہے جو قتل کے اسباب کی بجائے ترجمہ الباب کی وجہ سے واقعہ کی متعلقہ تفصیل سے متعلق ہے۔ اس میں صرف یہ کہا گیا ہے کہ وہ اللہ اور رسول (یعنی حکومت الہیہ) کے لئے موذی بن گیا تھا۔ جبکہ ابو داؤد کی روایت جو حضرت کعب بن مالک نے اپنے والد ابئ بن کعب ( قرآن کے عالم ، رسول اللہ کے کاتب اور بیعت عقبہ میں ایمان لانے والے) سے سنی ہے میں یہ اضافہ ہے کہ اس نے رسول اللہ کی شان میں ہجو کرکے قریش مکہ کو آپ سے بدلہ لینے پر اکسایا تھا۔

بخاری و مسلم کی روایت سے اندازہ ہوتا ہے کہ جیسے رسول اللہ ﷺنے بھری مجلس میں یہ معاملہ رکھ کر پوچھا تھا کہ اسے کون قتل کرے گا؟ اسکے برعکس ابو داؤد کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ نے اس معاملے کو بنو اوس کے سردار حضرت سعد بن معاذ کے ذمے لگادیا تھا۔ امام زرقانی نے بھی مذکورہ بالا حوالے میں تصریح کی ہے معاملہ مکمل طور پر حضرت سعدکے ذمے کردیا گیا تھا۔ ابو داؤد کی روایت  زیادہ مفصل اور قرین قیاس ہے  کیونکہ بنو نضیر والے بنو اوس کے موالی تھے اس لئے معاملے کی تحقیق اور کعب بن اشرف سے متعلق کوئی  فیصلہ کرنے سے پہلے میثاق مدینہ کے بنو نضیر اور بنو قریظہ کے سرداروں کو اعتماد میں لینے کے لئے معاملے کو حضرت سعد کے حوالے کرنا ہی قرین قیاس ہے ۔ ابو داؤد کی روایت میں یہ بھی اضافہ ہے کہ صبح اسکے قبیلے کی عوام کو اعتماد میں لیکر انکے ساتھ میثاق مدینہ سے ہٹ کر خاص طور پر ایک معاہدہ لکھا گیا۔ بنو نضیر اور بنو قریظہ چونکہ مسلمانوں کا رخ بنو قینقاع سے پھیر کر اپنی جانب نہیں کرنا چاہتے تھے اور کعب بن اشرف کے بطور محارب کے اقدامات کو میثاق مدینہ کی روشنی میں جسٹیفائی  کرنا بھی ممکن نہ تھا اس لئے غالباً یہود سرداروں اور حضرت سعد کی سطح پر اسکے خفیہ قتل پر اتفاق طے پاگیا تھا۔ اسکی تقتیل کے واقعہ میں یہ بات موجود ہے کہ اسکے قتل کے  ذمہ دار ( اسکے رضاعی بھائی  حضرت ابو نائلہ اور حضرت محمد بن مسلمہ ) اسے اسکے قلعے سے دور شعب عجوز کی جانب لیکر گئے تھے اور حملے کے دوران وہ اتنے زور سے چیخا کہ گردو پیش میں ہلچل مچ گئی  تھی اور کوئی  ایسا قلعہ نہ بچا تھا کہ جس پر آگ روشن نہ کی گئی ہو لیکن جوابی طور پر کچھ بھی نہ ہوا۔ اور ابو داؤد کی روایت میں ہے کہ اسکے اپنے قبیلے ( باپ کی طرف ) سے لوگ صبح رسول اللہ ﷺ کے پاس اپنے سردار کی موت کی خبر لے کر آئے۔ وہ لوگ بنو نضیر کے موالی تھے اس لئے یقیناً پہلے انہی کے پاس گئے ہونگے اور انھوں نے معاملے کی تفصیل خود بتانے کی بجائے رسول اللہﷺ کے پاس بھیج دیا ہوگا۔ رات کو بنو نضیر کے قلعوں میں اسکے قتل کا شور سن کر آگ بھی روشن ہوئی  مگر کوئی  اسکی مدد کو اس لئے نہیں آیا کہ بنو نضیر کے سرداروں اور حضرت سعد کے مابین پہلے ہی معاملات طے پاچکے تھے۔

ان تفصیلات سے یہ بات سامنے آئی  کہ کعب بن اشرف کا اصل جرم معاہدے کا پابند ہونے کے  باوجود نقض عہد کرکے مشرکین عرب کو ریاست مدینہ کے خلاف ابھارنا اور اس ضمن میں انکے ساتھ ہر طرح کے تعاون کی یقین دہانی کیساتھ ریاست کے سربراہ یعنی محمد رسول اللہﷺ کے قتل کے اقدامات کرنا تھا۔ اس سب کے دوران اگر وہ رسول اللہ اور اصحاب رسول کی ازواج کے لئے ہجو بھی   کررہا تھا تو بطور محارب کے کررہا تھا۔ لیکن اسکا اصل جرم ریاست اور سربراہ ریاست کے خلاف محارب بن کر عملی اقدامات کرنا ہی تھا۔ محدثین نے عموماً اس سے متعلق واقعہ کو سناتے ہوئے اپنے ترجمہ الباب سے مقصود فقہ مثلا ًجواز الکذب فی الحرب یا الحرب خدعہ یا باب الرخصہ فی الکذب الحرب یا ما حرم علیہ من خائنہ الاعین من دون المکیدہ فی الحرب( جنگ میں دھوکے یا چال کی اجازت) وغیرہ کے موافق حصوں کو بیان کردیا ، لیکن انکے ترجمہ الباب کے موافق غیر متعلقہ تفصیل کو حذف کرتے ہوئے بھی انہوں نے پورے واقعہ کی تفصیل کے تحت اسے قتل کی بجائے “ حرب” یعنی جنگ/ حرابہ کے تحت ہی لیا ہے۔ جس سے واضح ہے کہ اگرچہ انھوں نے پورا واقعہ نہ بھی بیان کیا ہو لیکن انکے نزدیک پورے واقعہ کی تفصیل قتل کے بجائے حرابہ کے تحت ہی تھی۔

مثلاً مالکی امام المارزی نے اس واقعہ کی تفصیل دے کر ثابت کیا ہے کہ اسکا قتل اپنی ریاست سے نقض عہد کرکے محارب دشمن سے مل کر نقصان پہنچانے کی وجہ سے تھا ( المعلم فی فوائد مسلم للمازری ۳/۴۱) یہی بات اکثر فقہاء و علماء کے حوالوں سے شافعی امام ابو سلیمان خطابی نے لکھی ہے ( معالم السنن للخطابی۲/۲۳۷ اور اعلام الحدیث للخطابی ۲/۱۲۶۰، شرح السنہ للبغوی ۱۱/۴۵، فتح الباری ۶/۱۶۰)۔ اسی طرح ایک اور شافعی امام ابو الحسن ابن بطال البکری القرطبی نے شرح صحیح البخاری (۷/۲۷) میں بانہ اذی اللہ و رسولہ کی تشریح میں کہا کان الکعب عھد لنقضہ بالاذی ولوجب حربہ۔ اسی طرح اگرچہ امام ابن تیمیہ نے الصارم المسلول میں جابجا دلیل کی بجائے دھاندلی سے کام لیا ہے لیکن انھوں نے کعب بن اشرف کو نقض عہد کے تحت ہی گنوایا ہے ( ثم نقضت بنو قینقاع عھدہ فحاربھم، ثم نقض عھدھ کعب بن الاشرف، ثم نقض عھدھ بنو النضیر ثم بنو قریظہ۔ الصارم المسلول ۲/۱۵۲)۔ اسکو معاند حربی کی لسٹ سے کسی قدیم اہل علم نے کبھی نہیں نکالا۔ یہی اسکا اصلی جرم تھا جو حرابہ کے تحت قتل کی سزا کا مؤجب بنا۔ جبکہ باقی معاہد یہود میں سے لوگ لاکھ رسول اللہ کے متعلق نقد و تنقیص کرتے تھے لیکن ان میں سے کبھی کسی کو اس جرم پر قتل نہیں کیا گیا۔
ختم شُد ۔۔

مکالمہ ڈونر کلب،آئیے مل کر سماج بدلیں

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *