• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • عدم اِقدار ۔ہماری تعلیم غلط،نامکمل اور گمراہ کُن ہے۔۔۔اسد مفتی

عدم اِقدار ۔ہماری تعلیم غلط،نامکمل اور گمراہ کُن ہے۔۔۔اسد مفتی

پست،گھٹیا اور جاہل قسم کے لوگ صرف یہ دیکھتے ہیں کہ کہنے والے نے ان کی موافقت میں بات کہی ہے یا ان کی مخالفت میں ۔جبکہ وہ موافق کو دوست گردانتے اور نوازتے ہیں۔ اور مخالف کے دشمن بن جاتے ہیں ۔ مگر بلند حوصلہ اور عالی ظرف لوگ مواقفت سے اور اوپر اٹھ کر سوچتے ہیں ۔  اصل میں بات کو دیکھتے ہیں نہ کہ یہ   جو کہا گیا ہے وہ ان کے مواقف ہے یا ان کےخلاف او ر جسے یہ سب کچھ کہا گیا ہے وہ صاحبِ اقتدار ہے یا محض مجبور و مقہور، اس بات کو اعلی اقدار ،عالی ظرف و حسنِ کردار کہتے ہیں ۔آج  جب کہ اقدار کا نہیں اقتدار کا زمانہ ہے،خلوص کا نہیں خلوص کے اظہار کا زمانہ ہے،آئیے آپ کو ان مٹتی ہوئی اقدار کی چند مثالوں سے روشناس کراؤں کہ میں خود بھی ایسی ہی اقدار پر عمل پیرا ہوں ۔

دورِ نبوی کے بعد  بہت سے دو رہے ہیں ، دورِ خلافت راشدہ، دورِ بنی امیہ، دورِ عباسیہ، دورِ فاطمیہ، دورِ عثمانیہ، دورِغزنویہ اور دورِ مغلیہ، وغیرہ وغیرہ۔۔ یہ واقعہ دورِ عباسیہ کا ہے۔
خلیفہ منصور عباسی نے ایک روز شام کے اعراب کی ایک جماعت کے سامنے تقریر کی اس نے کہا ،
اے لوگو! تم کو چاہیے کہ تم میرے جیسے خلیفہ کے ملنے پر اللہ تعالی کا شکر ادا کرو کہ جب سے میں خلیفہ بنا ہوں ،اللہ نے تم پر سے طاعون دور کردیا ہے”۔۔۔ اس کے بعد سننے والوں میں سے ایک نے  کہا “ اللہ اس سے زیادہ کریم ہے کہ وہ ایک وقت میں ہمارے   اوپر طاعون اور منصور دونوں کو جمع کردے۔ “اعرابی کا یہ جملہ سخت توہین آمیز تھا، عام طریقہ کے مطابق چاہیے تھا کہ خلیفہ منصور بن عباسی اس کو سن کر بھڑک اٹھے اور مذکورہ شخص کے قتل کا حکم دے دے مگر خلیفہ منصور نہایت بلند حوصلہ آدمی تھا۔ اس نے اعرابی کے جملہ میں گستاخی کا پہلو دیکھنے کے بجائے جرات اور ذہانت کے پہلو کو دیکھا اس نے اس کی قدر کی اور حکم دیا کہ اس شخص کو خزانہ خاص سے انعام دیا جائے اور اس کو عزت کے ساتھ رخصت کیا جائے۔

دوسری مثال آج کے زمانے کی ہے ۔فوج کا ایک افسر عالی کسی رجمنٹ کا معائنہ کررہا تھا ،گھومتے گھومتے وہ ایک لیفٹننٹ کے پا س پہنچا ،دوران معائنہ اس نے دیکھا کہ اس کی وردی میں ایک بڑا نقص ہے ۔افسر عالی  نے لیفٹیننٹ کو سختی سے ڈانٹا، قریب تھا کہ منہ سے جھاگ اڑاتا ،افسر کچھ اور کہتا کہ نوجوا ن لیفٹین جذبات سے  مغلوب ہوگیا۔ اس نے پستول نکالا اور افسر عالی پر فائر کرنا چاہا، لیکن پستول نہ چلا۔ یہ صورت حال دیکھتے ہوئے اس افسر نے اسی وقت حکم دیا کہ لفٹیننٹ کو ایک ہفتے تک کوارٹر گارڈ میں رکھا جائے کہ اس کا پستول صحیح حالت میں نہ تھا ۔

ایک اور واقعہ سنیے۔ ہمارے ہمسائے بھارت میں پنڈت جواہر لال نہرو جب وزیراعظم بنے تو انہوں نے پولیس کے چیف سے کہا کہ انگریزوں کے دور میں ان کے خلاف جو فائل تیار کی گئی وہ انہیں دکھائی جائے، کافی دنوں کے بعد جب پولیس چیف نے پنڈت نہرو کے حکم کی تعمیل  نہ کی تو انہوں نے دوبارہ پولیس کے چیف کوطلب کیا ۔ تم نے کوئی وعدہ کیا ہوا تھا؟پنڈت جی نے کہا

“جناب ہم وہ فائل تلاش کررہےہیں”۔۔چیف نے جواب دیا۔

وزیراعظم ہند نے ذرا تلخی سے پوچھا۔۔“آخر وہ فائل کہاں چلی گئی۔مل کیوں نہیں رہی؟پولیس نے جواب دیا“سر !پولیس کی فائلیں سیاسی لوگوں کےخلاف ہوتی ہیں اور خلاف ہی رہتی ہیں”۔
ہوتا یوں ہے کہ جب لوگ  نیچے چلے جاتے ہیں تو فائلیں اوپر آجاتی ہیں ۔اور جب لوگ اوپر آجاتے ہیں تو فائلیں نیچے چلی جاتی ہیں۔ “پنڈت نہرو مسکرا کر رہ گئے۔۔

اب ایک حالیہ واقعہ سنیے ۔۔۔مندرجہ بالا واقعات گزشتہ دنوں ایک ڈچ ٹی وی پروگرام دیکھتے ہوئے مجھے یاد آئے۔ یہ حالیہ واقعہ اور ڈچ ٹی وی پروگرم یہ تھا کہ  برطانیہ کے سابق وزیر خارجہ جیک سٹرا جن    دنوں ہوم سیکرٹری تھے،ان دنوں کا ذکر کرتے ہوئے جیک سٹرا نے بتایا کہ 1970ء کے عشرے میں انہیں (جیک سٹرا) ایک سیاسی تخریب کار سمجھا جاتا تھا، اس وقت وہ نیشنل سٹوڈنٹس کے صدر تھے اور ایک آئی فائیو نے ان کی سرگرمیوں کے بارے میں ایک فائل بنا رکھی تھی اور آج جب وہ ہوم سیکرٹری ہیں او رایک با اختیار عہدہ پر فائز ہیں  انہوں نے محکمہ پر واضح کردیا کہ وہ اپنے دورِ تخریب کی فائلیں نہیں دیکھنا چاہتے کہ ایسا کرنا بطور ہوم سیکرٹری اپنی پوزیشن سے فائد ہ اٹھانا ہے۔

انہوں نے انٹرویو میں اعتراف کیا کہ جیسا ایک عام شہری کو اس کا حق حاصل نہیں ہے ویسا ہی انہیں بھی اس فائل کو دیکھنے کا حق حاصل  نہیں ہے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ نہ صرف انہیں تخریب کار سمجھا جاتا  تھا بلکہ انکی ڈاک سنسر کی جاتی تھی اورٹیلی فون ٹیپ کیے جاتے تھے۔ اور کہیں آنے جانے پر سفید کپڑوں میں پولیس ا ن کا پیچھا کرتی تھی ۔وغیرہ وغیرہ۔۔۔

میرے حساب سےان سب باتوں کے جواب میں  ہوم سیکرٹری یعنی سابق وزیر خارجہ کا اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال نہ کرنے کی یقین دہانی ہی برطانوی معاشرہ کی اعلی اقدار کا پتا دیتی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہر واقعہ کے دو پہلو ہوتے ہیں ایک منفی اور دوسرا مثبت۔۔

منفی یہ کہ آدمی کے اندر صرف  تخریبی نفسیات کو جگاتا ہے  اور مثبت پہلو یہ  کہ اس کے اندر تعمیری نفسیات کو جگا کر اس قابل بناتا ہے کہ وہ اپنے لیے بھی کارآمد بنے اور دوسروں  کے لیے بھی  ۔اس دنیا میں کوئی بڑا کام وہی لوگ کرتے ہیں  جو واقعات کے مثبت پہلو کو دیکھتے کی صلاحیت رکھتے ہیں ،لیکن یہاں سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ تخریب کس کو کہتے ہیں اور تعمیر کیا ہے؟ میں بھی یہ سوچتا ہوں آپ بھی سوچیے۔۔۔

اسد مفتی
اسد مفتی
اسد مفتی سینیئر صحافی، استاد اور معروف کالم نویس ہیں۔ آپ ہالینڈ میں مقیم ہیں اور روزنامہ جنگ سے وابستہ ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *