کیا فرقہ واریت سے چھٹکارہ ممکن ہوپائے گا؟۔۔شہلا ملک

آج کا مسلمان اتنے فرقوں میں بٹ چکا ہے کہ اس کی حقیقی پہچان کہیں کھو کر رہ گئی ہے۔ ہمارے پاس تو صرف ایک سوال ہے ، کیا ہمیں  وہ پاکستان کبھی واپس ملے گا ، جہاں سنی، شیعہ، ہندو، عیسائی سب ایک ددوسرے کے ساتھ بلا تفریق مذہب رہتے تھے ،وہ پاکستان جہاں ہر فرقے کا مسلمان ایک ہی مسجد میں نمازپڑھتا تھا ، جہاں کی فضاؤں میں نفرت کا کوئی گزر نہیں تھا ، ہمیں تو اپنا وہ بچپن یاد ہے جب ہم اپنے شیعہ دوستوں کے گھر خوشی خوشی کونڈے کھانے جاتے تھے ، کرسچین اور ہندو دوست ہمارے ساتھ عید مناتے تھے ، ایک دوسرے کی سالگرہوں  پر ہم سب مل کے خوشیاں مناتے تھے ، لیکن پھر بدعت کے نام پر ہم سے ہمارے تہوار، جشن ، خوشیاں،رونقیں، قہقہے سب کچھ چھین لیا گیا۔سالگرہ بدعت، میلاد بدعت، نعت پڑھنا بدعت ، موسیقی بدعت، شاعری بدعت، شادی کی رسم و رواج مہندی مایوں بدعت ،غرض یہ کہ  ہمارا ہنسنا بولنا بھی  بدعت ٹھہرا۔۔۔

اب سعودی عرب میں خواتین کے کانسرٹ ہو آرہے ہیں ۔ عورتوں کو گاڑیاں چلانے کی اجازت ملی، عورتوں کی میراتھن ریس ہوئی ۔ خواتین کو بیچز پہ جس لباس میں چاہیں جانے کی اجازت  دے دی گئی ۔ کسینو بھی کھل گئےاور جس کا افتتاح انتہائی محترم  ہستی سے کرایا گیا۔ اگلے چھ مہینوں میں مزید چالیس کسینو کھلنے کی خبر ہے ۔ خبر یہ بھی ہے کہ  جس عالم نے کسینو کی افتتاحی تقریب میں شرکت سے انکار کیا ، ان کو جیل جانا پڑا ، میری رائے  میں کسینو کھولنے میں کوئی قباحت نہیں تھی ، ان کا ملک ان کی مرضی لیکن  ایک معزز ہستی سے  اس کا افتتاح کرانا  انتہائی غلط  ہے ۔ موسیقی پر بھی فتوی لے لیا گیا ہے کہ حلال ہے (چاہے  کسی نوعیت کی ہو)۔ عبایا بھی غیر ضروری کہلایا اور اس کے ساتھ  سعودی شہزادے نے یہ بھی تسلیم کیا کہ پاکستان میں وہابیت ہم نے امریکہ  کے کہنے پر پھیلائی  یعنی ہمیں  درس کے نام پر ایک دوسرے سے نفرت کرنا امریکہ  کے کہنے پر سکھایا گیا تھا ۔

جگہ جگہ مدرسے کھلے اور اپنے اپنے عقیدوں کی الگ الگ مسجدوں کا اہتمام ہوا ، اسی کے ساتھ  خواتین نے گھروں میں بھی درس کا انتظام کیا اس سعودی ماڈل نے ہمارے معاشرے کی شکل و صورت بدل کے رکھ دی۔باہمی نفرت اور عدم برداشت کے کلچر نے جنم لیااور اسی تعلیم کے زیر ا اثر ہم نے  دیگر  مذاہب  کا  اپنے ہی ملک میں  جینا  دوبھر  کر دیا۔ ایک دوسرے کی عبادت گاہوں میں جا کر قتل و غارتگری کو جنّت جانے کا آسان راستہ سمجھ لیا۔ کیا سعودی عرب کے راہ بدلنے کے بعد اور شہزادے کے تسلیم کرنے کے بعد کہ  یہ ملائیت کے درس ہم نے پاکستان میں امریکہ  کے حکم پر دلوائے ، کیا ہم پھر سے ایک بار اپنے تہوار، جشن ، خوشیاں،رونقیں، قہقہے واپس لا سکیں گے؟

کیا ہم اپنے غیر مسلک و مذہب بھائیوں سے پہلے جیسا خوشگوار تعلق قائم کرسکیں گے؟ کیا ہم اپنی اقلیت کے وہ آنسو کبھی صاف کر سکیں گے جو ہماری ذات سے انھیں ملے۔ کیا ہمارا وہ پاکستان ہمیں کبھی واپسی ملے گا جہاں باہمی نفرت کا کوئی گزر نہیں تھا اور جس پاکستان کی مسجد میں ہمارے لوگ بےخطر جاتے تھے اور جہاں ہمیں  یہ پتا نہیں ہوتا تھا کہ کون دیوبندی ہے کون بریلوی اور کون نقشبندی اور کون شیعہ۔ سب مسلمان ہوتے تھے صرف مسلمان۔

دوستو! ہم بھی ایسے پاکستان کا خواب دیکھ سکتے ہیں اگر انفرادی طور پہ نفرتوں کے اس دیس میں اپنے اپنے حصے کی محبت کی شمع جلائیں۔ کیا بہتر پاکستان کے لئے ایک کوشش ہم سب کا فرض نہیں؟ ؟

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *