فکری جمود کا شکار معاشرہ

محترم قارئین میرا تعلق ایک ایسے معاشرے سے ہے جس کے بارے میں ہمارے ایک ممتازشاعر نے کیا خوب فرمایا، پہاڑی سلسلے چاروں طرف اور بیچ میں ہم ہیں۔۔مثال گوہر نایاب ہم پتھر میں رہتے ہیں۔ قدرت کے اس عظیم شاہکار کا نام گلگت بلتستان ہے۔ پروردگار نے اس عظیم خطے کو وہ سب کچھ عطا کیا ہوا ہے جو شاید ہی دنیا کے ترقی یافتہ ممالک اور خطوں کو میسر ہو۔ کہتے ہیں قطبین کے بعد دنیا کے سب سے زیادہ آبی ذخائر گلگت بلتستان میں گلیشرز کی شکل میں موجود ہیں، سیاحت،معدنیات اور جنگلات کے حوالے سے بھی اس خطے کا پاکستان میں کوئی ثانی نہیں۔ ہائیڈرو الیکٹرک پروڈکشن کے حوالے سے بھی یہاں 52 ہزار میگاواٹ پن بجلی کے مواقع موجود ہیں لیکن ستم ظریقی یہ ہے کہ یہ معاشرہ آج بھی تعلیم کے میدان میں بہت پیچھے ہے، صحت کا معاملہ بھی اس معاشرے کیلئے ایک امتحان سے کم نہیں، تعلیم حاصل کرنے کے بعد بغیر رشوت اور سفارش کے حقدار کو حق ملنا ایک چیلنج ہے۔ مسئلہ کشمیر سے مربوط یہ عظیم خطہ جو چار ایٹمی ممالک کے درمیان انتہائی اہم جعرفیائی اور دفاعی اہمیت کے ساتھ بغیر کسی شناخت کے پاکستان کا غیرآئینی صوبہ کہلاتا ہے لیکن یہاں پر سوشل ڈویلپمنٹ صفر ہے۔ یونیورسٹی، کالج اچھے ہسپتالوں کا ہونا تو دور کی بات ہے آج اکسویں صدی میں دنیا مریخ سے بھی آگے نکل چُکی ہے لیکن اس خطے کے عوام کو 3G انٹرنیٹ کی سہولیات بھی میسر نہیں۔ان تمام مسائل کے باوجود ستم ظریفی یہ ہے کہ مقامی حکومت کی جانب سے ترقی اور تعمیر کی باتیں صرف اخباری بیانات ،درباری لکھاریوں کے قلم سے لا محدود ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ کہتے ہیں فکری جمود سے انسان نہ صرف علمی و اخلاقی طور پر پسماندہ ہو جاتا ہے بلکہ معاشرہ مجموعی طور پر معاشی و سیاسی زبوں حالی کا شکار ہو جاتا ہے۔علامہ اقبالؒ نے کیا خوب فرمایا تھا کہ
آئین نو سے ڈرنا طرز کہن پہ اڑنا
منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں
یقیناً دنیا کی کوئی بھی قوم اس وقت تک ترقی کے مراحل نہیں طے کر سکتی جب تک کہ وہ فکر کو جمود اور انسانی جذبات کو شعورِ جاریہ سے ہم آہنگ نہیں کر لیتی لیکن بدقسمتی ہے یہاں غلطیوں سے سیکھ کر اپنے عمل اور طرز سیاست میں تبدیلی لانے کی کوشش کرنے کی بجائے جمہور کو مزید گمراہی اور فکری جمود کی طرف دھکیلا جارہا ہے۔ یہ خطہ تاریخی اعتبار سے سابق ریاست جموں کشمیر کی ایک اکائی تھی لیکن تقسیم برصغیر کے نتیجے میں مہاراجہ کشمیر نے عوامی امنگوں کے برخلاف بھارت کے ساتھ الحاق کرکے اس خطےکو سیاسی طور پر غیر مستحکم کیا جس کے نتیجے میں یہ ریاست ٹوٹ کر بکھرگئی ۔ اُس غیر مستحکم سیاسی صورت حال اور الحاقِ بھارت کے نتیجے میں ریاست جموں کشمیر تین حصوں میں تقسیم ہوگئی اُس میں سے ایک ریاست جمہوریہ گلگت کے نام سے یکم نومبر اُنیس سو سنتالیس کو معرضِ وجود میں آئی اور اس ریاست نے انتظامی طور چودہ دن کام کیا ۔ ابھی اس ریاست کے مستقبل کے حوالے سے فیصلہ کرنا باقی تھا کہ انگریز سامراج نے ایک سازش کے تحت مقامی انقلابیوں کے درمیان فرقہ واریت کو ہوا دی جس کے نتیجے میں انقلاب کے مرکزی ہیرو کرنل حسن خان کو اپنے ہی لوگوں نے دھوکھا دیا اور ایک غیر مقامی تحصیلدار اور سامراجی ایجنٹ کی ملی بھگت سے بغیر کسی قانونی معاہدے کے الحاق کا ڈرامہ رچایا ، یقیناً اس خطے کی عوام کے دلوں میں اُس نومولود اسلامی ملک پاکستان کیلئے ایک فطری جذبات تھے جس کا ناجائز فائدہ اٹھایا گیا۔ الحاقِ بھارت سے انکار کو سمجھے بغیر اور قانونی تقاضوں کو پس پشت ڈال کر جنگ آزادی کے ہیرو کو دیوار سے لگا کر ایک تحصیلدار نے آتے ہی ایف سی آر جیسا کالا قانون نافذ کیا ،بعدازاں میں اُس الحاق کے غبارے سے بھی ہوا نکال کر کشمیریوں نے اس خطے کے عوام سے کسی قسم کی رائے لئے بغیر اٹھائیس اپریل انیس سو انچاس کو معاہدہ کراچی کے تحت اس خطے کو ایک دفعہ پھر کشمیر کا حصہ قرار دیکر مسئلہ کشمیر کے حل تک کیلئے پاکستان کے حوالے کیا لیکن آزاد کشمیر میں پہلی بار جب بطور ریاست الیکشن ہوئے تو یہاں کے عوام کو اُس الیکشن میں بطور ایک اکائی یا حصہ ووٹ کاسٹ کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ ایک اور آہم پہلو قانون باشندہ جو آج بھی بھارتی مقبوضہ کشمیر آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کا ایک حصہ لداخ جو بھارت کے قبضے میں ہیں وہاں نفاذ ہیں اور گلگت بلتستان میں بھی یہ قانون بھٹو کے آنے تک فافذ تھے لیکن بھٹو نے اس قانون کی خلاف ورزی کی جس کی وجہ سے آج یہ خطہ بغیر کسی قانونی شناخت کے غیر مقامی افراد کی کالونی بنتی جارہی ہے، یہ تمام واقعہ پانی سے بھی صاف اور شفاف ہونے کے باوجود ہماری فکری جمود کی انتہاء یہ ہے کہ ہمارے عوام اور سیاست دان ایک جھوٹی کہانی کی بنیاد پر اس خطے کیلئے آئینی حقوق مانگنے سے گریزاں ہیں۔ آج بھی صاحبِ محراب منبر سے لیکر سیاست کے ایوانوں تک اس آہم ایشو کے حوالے سے جھوٹ بولا جاتا ہے اور اس ایشو پر لکھنے بولنے والوں کو کسی نہ کسی طور زودوکوب کیا جاتا ہے جس کے سبب اس وقت معاشرے میں ایک بے چینی اور عدم تحفظ کا ماحول ہے۔ گلگت بلتستان کے وہ لوگ جن کے ہاتھ میں اقتدار ہے اُنہیں فیصلہ سازی کا کوئی اختیار نہیں یہاں تک کہ کسی بڑے ایونٹ کی کوریج کیلئے بھی اسلام آباد سے صحافی امپورٹ کئے جاتے ہیں مقامی صحافت زبوں حالی کا شکار ہے، لیکن ہم چونکہ فکری جمود کا شکار ہیں لہذا ہمیں احساس نہیں ہوتا کہ ہم سونے کی کان پر بیٹھ کر روٹی کیلئے آخر کب تک ہاتھ پھیلاتے رہیں گے۔یہاں جمہوریت کے نام پر ایک طرح سے دربار اکبری کا میلہ سجا کر جمہور اور جمہوریت کا گلہ دبایا جاتا ہے۔ اس خطے کے نئی نسل میں بڑھتے ہوئے احساس محرومی کو روکنے کیلئے انہیں مطمئن کرنے کی بجائے سیاسی جدوجہد کرنے والوں پر غداری کے الزامات لگائے جاتے ہیں۔ یہاں انسانی حقوق کی پامالی عروج پر ہے اس حوالے سے گزشتہ ہفتے انسانی حقوق کمیشن نے بھی گلگت بلتستان کے حوالے سے فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ پیش کی جس کے مطابق نیشنل ایکشن پلان کے تحت خفیہ اداروں کو اختیارات دئیے گئے ہیں کہ وہ لوگوں پر نظر رکھیں اور جب بیس بائیس برس کے نوجوان واچ لسٹ پر ہوں گے تو اس سے خوف کی فضا تو پیدا ہو گی۔ اگر کوئی ذرا سی بھی تنقید کرے ایجنسیاں انہیں انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت فوراً گرفتار کر لیتی ہیں۔رپورٹ کے مطابق درجنوں نوجوان اور سیاسی کارکن انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت جیلوں میں ہیں اور گلگت بلتستان کی عوام کے حقوق کے لیے اٹھنے والی ہر آواز کو دبا دیا جاتا ہے۔ رپورٹ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور خفیہ ایجنسیوں کے اختیارات کی نگرانی کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ اُس رپورٹ میں کمیشن نے کہا ہے کہ سی پیک کے لیے گلگت بلتستان کی حکومت نے مبینہ طور پر مقامی شہریوں کے خلاف طاقت کا استعمال کرتے ہوئے انہیں زبردستی گھروں سے نکالا ہے اور ان کی زمینیں ہتھیا لی ہیں جبکہ چیف سیکریٹری نے شہریوں کی زمینیں ریاستی اداروں کو الاٹ کرنے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کیا ہے۔ اس تمام صورت حال کے باوجود فکری طور میں جمود کے شکار اس معاشرے میں شعور نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی کیونکہ یہاں خوف کی ایک فضاء قائم ہے جس کے سبب اہلِ منبر سے اہل قلم تک سب مجبور ہیں مقامی پرنٹ میڈیا اپنی ہی غیر ذمہ دارانہ رویوں کے سبب تنزلی کا شکار ہیں ۔ انسانی حقوق کمیشن نے یہ بھی سفارش کی ہے کہ گلگت بلتستان کے شہریوں کو پاکستانی آئین کے مطابق فوری طور پر بنیادی حقوق مہیا کیے جائیں۔ بیوروکریسی ختم کرکے مقامی سیاسی کارکنوں کو اختیارات دیے جائیں تاکہ وہ عوام کے مسائل حل کر سکیں۔ لہذا پالیسی ساز اداروں سے یہی گزارش ہے کہ اس علاقے کو بلوچستان بننے سے بچائیں جس کا فائدہ پاکستان دشمن عناصر کو اور نقصان پورے پاکستان کو ہوگا۔ گلگت بلتستان کے عوام کو ان کا آئینی اور سیاسی حق دینے سے فیڈریشن مضبوط ہوگی اور یہی ہماری خواہش ہے۔

شیر علی انجم
شیر علی انجم
شیرعلی انجم کا تعلق گلگت بلتستان کے بلتستان ریجن سے ہے اور گلگت بلتستان کے سیاسی،سماجی اور معاشرتی مسائل کے حوالے سے ایک زود نویس لکھاری ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *