تھیٹر کا بے تاج بادشاہ نہیں رہا۔۔مائرہ علی

فنونِ لطیفہ کی کئی ایک قسمیں ہیں مگر تفریحِ طبع اور فی زمانہ نامساعد حالات کے پیشِ نظر جس قدر مشکل کام مزاح ہے, شاید ہی کوئی اور فن ہو۔۔ اس مصائب و آلام سے بھرپور دور میں اگر کوئی کسی کے چہرے پر مسکراہٹ لاتا ہے تو یقیناً وہ بہت بڑا فنکار ہے۔۔ اور اگر ایک شخص تن تنہا چالیس سال لوگوں کو ہنسانے کا کام پوری شدت اور آب و تاب سے انجام دے تو اس کی عظمت کا اندازہ خود ہی لگا لیجیے۔ ایسا ہی ایک شخص ہم میں سے اٹھ گیا جس نے ساٹھ کی دہائی سے آج تک کروڑوں لوگوں کے ستے ہوئے چہروں پر مسکراہٹیں نہیں بلکہ قہقہے بکھیرے, جس نے تھیٹر کی دنیا میں ایسا مزاح متعارف کرایا کہ کوئی آنے والا فنکار اس کے دائرے سے نہ نکل پایا, جس نے دو ہزار سے زائد سٹیج ڈرامے, ہزاروں ٹی وی شو, سینکڑوں ون مین شو کیے اور ہر طبقے کے لوگوں کو ہنسایا۔ دنیا اسے امان اللہ خان کے نام سے جانتی ہے۔ اگر تھیٹر کے مزاح کو ایک دبستان سے تشبیہ دی جائے تو اس دبستان کا سرخیل بلاشبہ امان اللہ خان تھے اور رہیں گے۔ انہوں نے اپنے بے حد عمیق اور باریک مشاہدے کی بنیاد پر ہمیشہ ایسا مزاح پیدا کیا جس نے ہر سننے والے کو لوٹ پوٹ کیے رکھا۔

منور ظریف کے بعد اگر پاکستان میں کوئی بڑا کامیڈین پیدا ہوا ہے تو میری نظر میں وہ بلاشبہ امان اللہ خان ہے۔۔امان اللہ ایک شخص نہیں بلکہ مزاح کا ایک پورا مکتبہ فکر ہے ،جو مشاہدے کو اس قدر خوبصورتی سے مزاح کا حصہ بناتا تھا کہ عقل دنگ رہ جاتی ۔ جو ایک کامیڈین سے کہیں بڑھ کر ایک سماجی سائنسدان تھا جس کی معاشرے کی ہر اونچ نیچ پر گہری نظر ہے اور جو معاشرتی ناہمواریوں پر مزاح کی صورت طنز کرتا محسوس ہوتا ہے۔۔ جو مزاح سے کسی کی دل آزاری نہیں کرتا بلکہ خود کو ہی ہدف بنا کر لوگوں کو لوٹ پوٹ کرتا ہے۔۔ اس مکتبہ فکر کے سحر سے باہر نکلنا کسی بھی کامیڈین کےلیے ممکن ہی نہیں ہے۔۔

فحش مزاح کے اس دور میں امان اللہ صاف ستھرے اور بلند پایہ مزاح کے علمبردار تھے جنہوں نے تمام عمر کسی عورت کی تضحیک نہ کی, جن کے مزاح سے کبھی کسی کی دل آزاری نہ ہوئی اور جو غریب طبقے سے لے کر اشرافیہ تک سب کے پسندیدہ تھے۔۔ سڑکوں پر گولیاں ٹافیاں بیچنے سے آغاز کرنے والے امان اللہ خان پر ایک ایسا بھی وقت آیا جب ان کے چاہنے والوں نے انہیں دولت میں تولا مگر وہ اپنی اصل نہیں بھولے اور عمر بھر عجز و انکسار سے کام لیتے رہے اور دوسروں کی مدد کرتے رہے۔اپنے جونیئرز سے جو رویہ ان کا تھا وہ کسی دوسرے فنکار کے حصے میں نہیں آیا۔ تھیٹر اور مزاح کے آج کے کتنے ہی بڑے نام ان کی مرہونِ منت ترقی کی سیڑھیاں چڑھے اور آج بھی انہیں استاد مانتے ہیں۔

ظاہری طور پر ان پڑھ امان اللہ خان درحقیقت ایک یونیورسٹی تھے جنہوں نے اس فن کو بامِ عروج تک پہنچایا اور اپنی بے پناہ ریاضت اور انتھک محنت سے خود کو جس مقام پر پہنچایا وہ صرف امان اللہ کا ہی خاصہ ہے۔ مارشل لاؤں اور دہشت گردی کا شکار ادوار میں بھی امان اللہ لوگوں کو ہنسانے کا موجب بنتے رہے جس پر ہم انہیں سلام پیش کرتے ہیں۔۔ 6 مارچ 2020 کو اپنے مداحوں اور فن کی دنیا کو سوگوار چھوڑ کر وہ راہِ عدم کو چل دیے۔۔اس دکھوں ماری قوم پر ان کے بے پناہ احسانات ہیں۔۔ مالک انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے
کہانی ختم ہوئی اور ایسے ختم ہوئی
کہ لوگ رونے لگے تالیاں بجاتے ہوئے!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *