• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • عمران خاں کے دھرنا سنہ 2014ء اور مولانا فضل الرحمنٰ کے دھرنا سنہ 2019ء میں فرق ۔ صاف ظاہر تو ہے ! غیور شاہ ترمذی

عمران خاں کے دھرنا سنہ 2014ء اور مولانا فضل الرحمنٰ کے دھرنا سنہ 2019ء میں فرق ۔ صاف ظاہر تو ہے ! غیور شاہ ترمذی

SHOPPING
SHOPPING

ابھی تک یاد داشت نے دامن نہیں چھوڑا۔ البتہ یاد دہانی کے لئے دوستوں کے ساتھ شئیر کرتا چلوں کہ دھرنا سنہ 2014ء کے دوران عمران خاں اکیلے کارکنوں کی تعداد اکٹھی نہ کر پائے تھے۔ اُن کے 10/12 ہزار کارکنوں کے مقابلہ میں علامہ طاہر القادری کے 60/70 ہزار کارکنان نہ ہوتے تو عمران خاں میلہ سجا ہی نہیں سکتے تھے۔ جسے صاحب یا صاحبہ کو یقین نہیں ہو، وہ اُن دنوں کی فوٹیج نکال کر دیکھ لیں کہ علامہ طاہر القادری جب اپنے کارکنوں کو سمیٹ کر دھرنے کے 70 دنوں بعد واپس چلے گئے تو اگلے تقریباْْ 60 دن تک عمران خاں کتنے سامعین کے ساتھ میڈیا سے ملنے والے دن رات پروجیکشن کی وجہ سے کیسے دھرنا دھرنا کرتے رہے۔

اس دوران عمران خاں اور تحریک انصاف نے کیا نہیں کیا۔ وزیراعظم میاں نواز شریف کو گریبان سے پکڑ کر اقتدار کی کرسی سے اتارنے، وزیراعظم کا استعفیٰ لینے اور نیا پاکستان بنانے کے لئے اعلانات کرتے رہے۔ اُن کا یہ حلال دھرنا کیل لگے ڈنڈوں، کٹرز، کرینوں اور ڈی جے بٹ سے لیس تھا۔ عمران خان نے کنٹینر پر کھڑے ہو کر بجلی کے بل بھی جلائے، سول نافرمانی کا اعلان بھی کیا اور عوام سے بل ادا نہ کرنے کی اپیل بھی کی (حالانکہ اس دوران بنی گالہ کے بل ادا کئے جاتے رہے)۔ عمران خان کے ٹائیگرز پارلیمنٹ ہاؤس کے جنگلے توڑ کر اسمبلی کے احاطے، ایوان صدر کا گیٹ توڑ کر ایوان صدر، وزیراعظم ہاؤس کی حدود پھلانگ کر وزیراعظم ہاؤس اور پی ٹی وی کی باؤنڈری کراس کر کے سرکاری ٹیلی ویژن کے سٹوڈیوز میں بھی داخل ہوگئے۔ اس دوران مظاہرین نے ایس ایس پی اسلام آباد کو بھی سڑک پر لٹا کر ڈنڈوں سے زخمی کر دیا۔ اُن کے کارکنوں نے ریڈزون کی مت مار کر رکھ دی تھی، خندقیں بھی کھودی گئی تھیں، قبریں بھی ۔ بلین ٹری لگانے کا دعویٰ کرنے والوں کے ہاتھوں سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں درخت اور پودے بھی برباد کئے گئے تھے۔ سرکاری املاک کو بھی کھل کر نقصان پہنچایا گیا تھا۔ پانی کی مین لائین تک توڑ دی گئی تھی اور بجلی براہ راست کھمبوں اور مین لائینز سے اڑا لی گئی تھی جس سے ڈی جے بٹ کے میوزک سے’’حلال‘‘ ترانے بھی بجائے جاتے تھے اور ناچ گانا بھی چلتا رہتا تھا۔

عمران خاں کے دھرنے سے حاصل نتائج:۔
منفی معاملات کے علاوہ یہ بھی تسلیم کر لینا چاہئے کی عمران خان کی اس یلغار نے اُس وقت کے وزیر اعظم میاں نواز شریف کو اچانک پارلیمنٹ اور اپوزیشن دونوں کی اہمیت یاد دلا دی۔ یہ قومی اسمبلی پہنچ گئے جہاں جانا نون لیگی حکومت نے اپنی توہین سمجھا ہوا تھا۔ پارلیمنٹ کا ایک جوائنٹ سیشن تھا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے چودھری اعتزاز احسن نے تقریر کی۔ یہ ایک دھواں دھار مگر توہین آمیز تقریر تھی لیکن آپ سیاست کی مجبوریاں دیکھئے کہ میاں نواز شریف کے پاس یہ تقریر برداشت کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ یہ دل پر پتھر رکھ کر وہ تقریر سنتے رہے۔ چودھری نثار نے اچھلنے کودنے کی کوشش کی مگر نون لیگ کے وزراء نے انہیں پکڑ کر بٹھا دیا۔ میاں نواز شریف کا چہرہ غصے سے سرخ تھا لیکن یہ چپ چاپ تقریر سنتے رہے۔ یہ درست ہے کہ چودھری اعتزاز احسن کی تقریر توہین آمیز تھی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے اپنے لوگوں نے بے عزت کر کے حکومت کا ساتھ دینے کی حکمت عملی کو پسند نہیں کیا تھا مگر اس کے باوجود چودھری صاحب کی بات ٹھیک تھی کہ ہماری حکومتیں صرف اس وقت پارلیمنٹ کو یاد کرتی ہیں جب ان کے پاس کوئی دوسرا آپشن نہیں بچتا۔ اس تقریر کے بعد اگرچہ پیپلز پارٹی نے عمران خاں کے مقابلہ میں متحدہ اپوزیشن بنا کر ایمپائیر کی انگلی کھڑی ہونے کے آگے بند باندھ دیا مگر نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے مابین اس کے بعد تعلقات اچھے نہیں رہ سکے۔ نون لیگ کے وزیر داخلہ نے اس کے بعد کروڑوں، اربوں روپے کے جعلی اکاؤنٹس دریافت کئے اور ان کا سرا آصف علی زارداری تک پہنچانے کی کوشش کی۔حیرت کی بات ہے کہ کروڑوں اربوں روپوں کے ان مبینہ جعلی اکاؤنٹس کھولنے والے بنک افسران کہاں ہیں، ان کے خلاف کیا کاروائی ہوئی، یہ کسی کو نہیں پتہ مگر ساری میڈیا گردی کا ہدف آصف علی زارداری اور فریال تالپور ہیں جو اِن مبینہ فیک اکاؤنٹس میں صرف ڈیڑھ کروڑ کی ایک ٹرانزیکشن میں دستخط کنندہ یا بااختیار دستخطی نہیں ہیں۔ ابھی تک یہ کروڑوں اربوں روپے کس کے پاس ہیں، کیا حکومت نے انہیں ضبط کیا یا نہیں، کچھ معلوم نہیں مگر چوہدری نثار کی وجہ سے بنائے ان بے بنیاد کیسوں میں آصف زارداری اور فریال تالپور کو رگڑا لگانا فرض سمجھ لیا گیا ہے۔

مولانا فضل الرحمنٰ کا دھرنا اور اُس کے نتائج:۔
اب آتے ہیں مولانا فضل الرحمنٰ کے دھرنا سنہ 2019ء کی طرف۔ آزادی مارچ کراچی سے شروع ہوا اور یہ ساڑھے چودہ سوکلو میٹر کا فاصلہ طے کر کے اسلام آباد پہنچا۔ مولانا کے آزادی مارچ نے واقعی راستے میں کوئی پتا توڑا اور نہ ہی گملا۔ پوری قوم نے دیکھا لاہور میں میٹرو کے ٹریکس پر بھی لوگ موجود تھے اور پلوں پر بھی۔ تقریریں بھی چل رہی تھیں اور میٹرو بس بھی رواں دواں تھی۔ کسی بس کے سفر میں کوئی تعطل نہیں آیا۔ ایمبولینس کو بھی خود انصار الاسلام کے کارکنان راستہ کلئیر کروا کے دیتے رہے بلکہ اسلام آبادقیام کے دوران بھی یہ عمل جاری رہا۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا پہلا مارچ، دھرنا ہے جس میں اب تک کوئی شیشہ نہیں ٹوٹا، کسی نے کسی سرکاری یا پرائیویٹ پراپرٹی پر حملہ نہیں کیا۔ آزادی مارچ کے شرکاء نے کوئی سڑک بلاک نہیں کی اور کسی گاڑی کو نہیں روکا۔ یہ بات البتہ الگ ہے کہ حکومت نے پورے شہر کو کنٹینرستان بنا دیا ہے۔ لوگ مولویوں کو غیر تہذیب یافتہ اور ان پڑھ سمجھتے تھے لیکن ساری عوام نے اس آزادی مارچ میں علماء کرام، مدارس کے طلباء اور م ذہبی طبقے کا ایک نیا روپ دیکھا جس نے اپنے نظم و ضبط اور تنظیم سازی سے سب کو حیران کر کے رکھ دیا ہے۔

مولانا فضل الرحمنٰ کا آزادی مارچ ایک تزویراتی کام تھا جس کے اکثر اہداف حاصل ہوچکے ہیں۔ میاں نواز شریف جیل سے ہسپتال سے جاتی امراء میں اپنے انتہائی نگہداشت کے کمرے میں پہنچ چکے ہیں جہاں سے وہ لندن روانگی کے لئے تیار ہیں۔ انہیں مریم نواز کی تیمارداری اور ہمراہی کی سہولت بھی میسر ہوگی۔ آصف زرداری صاحب بھی جلد سندھ روانہ ہونے کو ہیں۔ اُن کا یہ مطالبہ مان لیا گیا ہے کہ اُن کے علاج کے لئے پاکستانی ڈاکٹروں کی سہولت انہیں مہیا کی جائے۔ مولانا فضل الرحمنٰ کے بارے میں بھی جو کسر رہ گئی تھی وہ بھی پوری ہوگئی۔ ابتدائی طور پر مولانا کی منفی پوسچرنگ کے بعد اسٹیبلشمنٹ اور مولانا کے درمیان معانقہ بھی ہوگیا ہے اور ان کی قومی خدمات کا اعتراف بھی کر لیا گیا ہے۔ عمران خان کو بتادیا گیا ہے کہ ادارے مزید ‘بدنامی’ افورڈ نہیں کرسکتے لہذاٰ مولانا فضل الرحمنٰ سے معاملات ویسے ہی طے کر لئے جائیں جیسا کہ اسٹیبلشمنٹ کے نمائندگان چوہدری برادران اور مولانا فضل الرحمنٰ کی مقرر کردہ رہبر کمیٹی کے درمیان طے پاتے ہیں۔ اس سلسلہ کی پہلی کڑی کے طور پر ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کر دی گئی ہے۔ معروف کالم نگار جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ ’’ہم اگر چودھری اعتزاز احسن کی مثال کو آج کے پس منظر میں رکھ کر دیکھیں تو ہمیں آج بے اختیار یہ ماننا پڑے گا کہ مولانا نے کم از کم حکومت کا سریا تو نکال دیا۔یہ حکومت پاکستان کی تاریخ کی وہ گمراہ کن حکومت ہے جس کی پرفارمنس صفر، ڈیلیوری صفر، عقل صفر، قوت فیصلہ صفر اور میرٹ صفر۔ یوٹرن میں گولڈ میڈل، حماقتوں میں سپر سٹار، زبان درازی کے امام اور کم عقلی کے پیغمبر! یہ ہے ہماری حکومت۔ یہ کمبی نیشن اگر یہاں تک رہتا تو بھی شاید قوم برداشت کر جاتی لیکن آپ ان کا تکبر، ان کا غرور، ان کی غیر سنجیدگی اور ان کی انا ملاحظہ کیجئیے، یہ روز اٹھ کر آسمان کی طرف تھوکتے تھے۔ آپ کسی وزیر کی گفتگو سن لیں آپ کو یوں محسوس ہو گا یہ ابھی کرسی سمیت پرواز کرے گا اور سیدھا جا کر مریخ پر لینڈ کر جائے گا۔ میں 27 سال سے صحافت میں ہوں (22 سال سے تو راقم بھی جز وقتی بنیادوں پر ہے) ۔ میں نے آج تک کوئی حکومت اتنی من حیث المتکبر نہیں دیکھی۔ خان تو خان، خان کے چپڑاسیوں کی گردنوں میں بھی فولاد تھا۔ ان لوگوں نے 14 ماہ میں پورے ملک کی چولیں ہلا کر رکھ دیں مگر آپ اس کے باوجود ان کی گفتگو سنیں۔ یہ اپنی ہر حماقت کو بھی ماضی کی جھولی میں ڈال دیں گے اور سیاہ کو سفید ثابت کرنے میں بھی ایڑی چوٹی کا زور لگا دیں گے اور اگر آپ یہ گستاخی کر بیٹھیں کہ جناب آپ کا سفید تھوڑا سا میلا ہے تو یہ آپ سے لڑ پڑیں گے۔ قوم ایک سال سے پرویز خٹک اور شفقت محمود جیسے مفکرین کی شکل کو ترس گئی تھی۔ یہ اپنے دفتر کو بھی تشریف آوری کے قابل نہیں سمجھتے تھے لیکن مولانا کے صدقے جائیں ان کی برکت سے قوم کو پوری حکومت کی زیارت بھی ہو گئی۔ قوم نے وزراء کی آوازیں بھی سن لیں اور ان کی گردنوں کے سریے بھی نکل گئے۔ یقین کریں قوم کو سریوں کے بغیر گردنیں دیکھ کر جتنی خوشی ہو رہی ہے ہم یہ سوچ بھی نہیں سکتے چنانچہ میں پوری قوم کی طرف سے مولانا کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ صدقے جاواں مولانا آپ کی برکت سے سریے بھی غائب ہو گئے اور قوم کو پرویز خٹک، اسد عمر اور شفقت محمود کے منہ سے یہ سننے کا موقع بھی مل گیا کہ لانگ مارچ اور دھرنا برا ہوتا ہے‘‘۔

SHOPPING

مولانا فضل الرحمنٰ کے آزادی مارچ کا ممکنہ اور منطقی انجام:۔
سنہ 2011ء کے دوران لندن میں منعقدہ ایک بین الاقوامی کانفرنس میں مولانا فضل الرحمنٰ نے سفارتکاروں اور شرکاء کو اپنے خطاب کے آغاز میں ایک جملہ کہہ کر اپنا گرویدہ کر لیا تھا کہ ’’میں یہاں پر مشرق اور مغرب کو ملانے کے لئے آیا ہوں۔ آپ مغربیوں کے پاس علم ہے، سائنس ہے، ٹیکنالوجی ہے، جبکہ ہمارے پاس تہزیب ہے، وزڈم ہے، آئیں ہم دونوں کہیں درمیان میں مل لیتے ہیں‘‘۔ یہ سب لوگ جو مولانا فضل الرحمنٰ کو طالبان کا نمائندہ سمجھ کر سُننے آئے تھے، اُن کے اس ابتدائی جملے سے فورا’’ متوجہ ہو گئے اور اُن کی بقیہ گفتگو سُن کر انہیں بلا مبالغہ پاکستان کے ذہین ترین اور موسٹ ایموشنلی انٹیلیجنٹ سیاستدان کے طور پر تسلیم کر لیا۔مولانا فضل الرحمنٰ کے استاد اور مشہور سیاسی راہنماء خان عبدالولی خاں نے انہیں سیاست کا سبق دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ ’’سیاست میں جس لمحے مایوسی کے بادل منڈلاتے ہیں، وہی لمحہ پیش قدمی کا ہوتا ہے۔ اُس لمحے جو بیٹھ گیا، وہ رہ گیا‘‘۔ اب پیش قدمی کا وقت ہے اور یہ پیش قدمی ڈپلومیٹک ایونیو پر چڑھائی کر کے، وزیر اعظم ہاؤس، صدر ہاؤس اور سرکاری عمارتوں پر یلغار کرنے والی ہڑبونگ مچانے کی نہیں بلکہ سیاسی عمل میں پیش قدمی کی طرف ہے۔ حکومت کی گردن سے سریا نکال کر میاں نواز شریف، آصف زارداری اور دوسرے سیاستدانوں کے خلاف کھڑی اسٹیبلشمنٹ کو انقامی کاروائیوں سے باز رکھنے جیسے بڑے اہداف کے حصول کے بعد اگر مولانا فضل الرحمن کوئی مزید مطالبات مانے بغیر بھی اسلام آباد سے واپسی کرتے ہیں تو انہیں زیرک اور سمجھ دار سیاست دان سمجھا جائے گا۔ یہ کتنی حکمت کی بات ہے کہ مولانا فضل الرحمن اداروں سے ٹکرائے نہیں اور نہ ہی کبھی اپنے کارکنوں کو مروایا ، ایک دائرے میں رہ کر جائز سیاست کی ، دھرنے ، بھڑک بازی اور ڈائیلاگ مارنے سے دور رہے ، اب جس سیاست کی طرف آ رہے تھے اس کا نتیجہ سوائے ٹکراؤ کے کوئی دوسرا نہیں تھا ۔ مولانا نے اچھا کیا جو واپسی کے اشارے دئیے ۔ مولانا کی واپسی بھی بصیرت کہلائے گی کیونکہ بصیرت بہرحال بصیرت ہوتی ہے ۔ کسی وقت بھی ٹکراؤ سے بچنا دانشمندانہ فیصلہ ہوتا ہے۔ دھرنا سمیٹنے کا وقت آگیا ہے اور پنجاب کے پرانے ڈاکو (چوہدریوں) کے ساتھ شہید ہوئے بغیر معاہدہ طے ہونے کو ہے جس کی وجہ سے مولانا فضل الرحمن میلہ لوٹنے کے بعد جاتے جاتے عمران خان حکومت کا خاطرخواہ حصہ اپنے ساتھ لیتے جائیں گے.

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *