حقوقِ نسواں اور نئی تہذیب کا فلسفہ!

اگر ایک عورت اپنے گھر میں اپنے لیے، اپنے شوہر اور بچوں کے لیے کھانا تیار کرتی ہے تو یہ رجعت پسندی ہے اور اگر وہی عورت ہوائی جہاز میں ائیر ہوسٹس بن کر سینکڑوں انسانوں کی ہوس ناک نگاہوں کا نشانہ بن کر ان کی خدمت کرتی ہے تو یہ جدت پسندی ہے۔ اگر ایک عورت گھر میں رہ کر امور خانہ داری سرانجام دیتی ہے تو یہ ذلت ہے اور اگر وہی عورت دفتر میں باس کی نازبرداری کرے، دن بھر فائیلیں لیے آگے پیچھے بھٹکتی رہے تو یہ آزادی ہے۔ اگر عورت پردہ کرتی ہے اور حدود میں رہتی ہے تو یہ دقیانوسیت ہے اور اگر وہی عورت عریاں ہو کر سائن بورڈز، فلم، تھیٹر اور ٹی وی کمرشلز کی زینت بنتی ہے تو یہ جدت پسندی ہے۔ اگر ایک عورت اپنے ماں، باپ، بہن، بھائیوں کے لیے خانہ داری کا انتظام کرے تو یہ قید اور ذلت لیکن دکانوں پر سیلز گرل بن کر اپنی مسکراہٹوں سے گاہکوں کو متوجہ کرے تو یہ آزادی اور اعزاز ہے۔ معاشرے میں عورت صرف ایک شو پیس بن کر رہ گئی ہے جسے دکھا دکھا کر ہر کوئی اپنا مال بیچتا ہے، کوئی بھی اشتہار اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک نیم عریاں عورت کو اس کی زینت نہ بنایا جائے۔۔ستم ظریفی کی انتہا ہے کہ مرد نے کس عیاری سے ایک خوبصورت نعرے میں پھانس کر عورت کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کیا، عورت کو خود بھی پتا نہیں کہ دراصل جس میدان میں وہ آزادی کے لیے کودی تھی وہ تو خود اس کی بربادی کا سامان ہے، مغرب نے آزادیء نسواں کو لے کر خوب پروپیگنڈہ کیا لیکن ذرا دیکھیے کتنی عورتوں کو انہوں نے اعلیٰ منصب پر بٹھایا، کتنی خواتین صدر یا وزیراعظم بنیں، کتنی خواتین کو جج کے منصب پر فائز کیا گیا۔۔ ہیلری کلنٹن کے صدارتی انتخابات ہارنے پر ایک صاحب نے کچھ یوں تبصرہ کیا ” امریکی عورت کو اپنے سر پر بٹھانے کو تیار ہیں لیکن مسندِ صدارت پر بٹھانے کے لیے نہیں، امریکی قوم کو عورت کی حکمرانی قبول نہیں ہے” آج یورپ اور امریکہ میں جا کر دیکھیے دنیا بھر کے تمام نچلے درجے کے کام عورت کے سپرد ہیں،آزادیء نسواں کے پرکشش نعرے کو استعمال کر کے عورت کو بےدردی سے گھسیٹ کر سڑکوں بازاروں میں لایا گیا۔۔لیکن وہ وقت دور نہیں جب فطرت اپنا آپ منوا لے گی اور عورت اپنا اصل مقام پہچان لے گی۔
اصولی طور پر دیکھا جائے تو مرد کی طرح عورت بھی اس معاشرے کا حصہ ہے، جیسے مرد کو مرتبہ اور حقوق حاصل ہیں ایسے عورت کا بھی ایک مقام و مرتبہ ہے لیکن مقصد تخلیق جدا جدا، دونوں کا اپنا الگ الگ دائرہ کار ہے اسی اعتبار سے جسمانی ڈھانچہ، قوت، اعتماد غرض دیگر تمام خصوصیات اپنے اپنے دائرہ کار کے حساب سے ہیں۔۔اور زندگی میں توازن برقرار رکھنے کے لیئے دونوں کو ایک دوسرے کی ضد بننے کی بجائے اپنے اپنے دائرہ ء کار میں رہ کر کام کرنا ہوگا!

عبدالقدوس قاضی
عبدالقدوس قاضی
اپنا لکھا مجھے معیوب لگے ۔ ۔ ۔ ۔ وقت لکھے گا تعارف میرا ۔ ۔ ۔ !

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *