اگر شاہ رخ جتوئی امیر نہ ہوتا؟۔۔کامریڈ فاروق بلوچ

“تھوڑی دیر کے لیے فرض کریں کہ شاہ رخ جتوئی ایک امیرزادہ نہیں ہے تو آج کیا منظرنامہ ہوتا؟”

میری نظر میں میڈیا اور “سول سوسائٹی” کی موجودگی میں ریاست کے نظامِ انصاف کے لیے شاہزیب قتل کیس ایک ٹیسٹ کیس تھا. میرا ذاتی خیال تھا کہ ریاست اپنی تھوڑی بہت ساکھ بچانے اور کچھ نہ کچھ اقدار کی نمائش کے لیے اِس کیس کا میرٹ پہ فیصلہ کرے گی. میں یہاں ریمنڈ ڈیوس والا معاملہ بطور نظیر پیش نہیں کروں گا کیونکہ وہاں عالمی برادری کا بہت پریشر تھا، کوئی بھی ہوتا تو نتیجہ یہی نکلتا، لیکن شاہزیب کے کیس کی وجہ سے میرا دل انتہائی رنجیدہ ہے. آخر اچکزئی کی گاڑی کے نیچے کچلے گئے سپاہی کو انصاف کیوں نہیں ملا؟ آخر جتوئی کیوں جیت گیا اور عوام کیوں ہار گئی؟ اِس کا ایک انتہائی سیدھا اور سادہ جواب ہے کہ شاہ رخ جتوئی بےحد امیر شخص ہے.

یہ 20 مارچ 2011ء کا واقعہ ہے جو کیلیفورنیا کے شہر سانتا کلارا میں پیش آیا جب دو انتہائی امیر گھرانوں کے نوجوانوں نے اپنی اپنی مرسیڈیز اور شیورلٹ پہ کار ریس لگا رکھی تھی یہاں تک کہ 23 سالہ ایشلے کریریجر اپنے دفتر سے باہر نکلی، جہاں وہ بطور کلرک کام کرتی تھی، اور انتہائی تیز رفتار مرسیڈیز کے نیچے کچلی گئی. عدالت نے اُس کو ایسی سزا سنائی کہ وہ بمشکل پانچ ماہ جیل میں قید رہ سکتا تھا، حتی کہ گیارہ لاکھ ڈالر دے کر جاں بحق ہونے والی لڑکی کے غریب والد سے معافی نامہ لکھوا لیا گیا اور پانچ ماہ والی قید بھی ناممکن ہو گئی. اِسی طرح سلیکون ویلی میں ہی وہاں کے مشہور علاقائی فٹبالر کیتھ گرین کی قاتل چینی گرل فرینڈ ٹفنی لی کی عدالت میں پیشی سے ہی قبل رہائی ہو گئی کیونکہ اُس کے انتہائی امیر خاندان نے چھ کروڑ ڈالر خرچ کیے۔

میں نے امریکی ریاست کیلیفورنیا کی دو مثالیں اِس لیے پیش کیں تاکہ اُن احباب کو اندازہ ہو سکے جو بےانصافی کو محض تیسری دنیا کا معاملہ سمجھتے ہیں. دنیا بھر میں موجودہ نظام کے تحت جہاں جہاں بھی جو کچھ موجود ہے وہ قابلِ خرید و فروخت ہے. جہاں سالانہ کئی لاکھ نابالغ بچے بیچے اور خریدے جاتے ہیں، وہاں عدالتوں کی خرید و فروخت تو خیر اتنی بڑی بات نہیں ہے. دستیاب دنیا کے نظام میں جیت کےلیے امیر ہونا ضروری ہے ورنہ کسی نہ کسی امیر کے ہاتھوں مرنے کے لیے  تیار رہنا چاہیے اور پھر مقتول کے خاندان کی باری آتی ہے، پیسے لے کر معاف کر دو ورنہ وہ تمھاری پوری نسل مٹا دیں گے، ورنہ وہ تمھاری عورتوں کو اٹھا لیں گے، ورنہ وہ کیا نہیں کر سکتے. عوام کو بےوقوف بنانے کے لیے قانونی اور مذہبی ڈھالیں تو خیر بنی ہی امیروں کےلیے ہیں.

اِس کیس سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ اگر کوئی امیر آدمی آپ کی ماں بہن بیٹی کو سب کے سامنے چھیڑتا ہے تو خیر ہے، کوئی بڑا معاملہ نہیں، آپ اور آپ کی خواتین کو چپ کر کے اپنی راہ لینی چاہیے، اگر وہ امیر آدمی آپ کی عورتوں میں سے کسی کو اپنے ساتھ زبردستی لے جانا چاہے تو اُس کو لے جانے دیجیے. اگر آپ نے کوئی مزاحمت کی تو آپ اپنی جان سے جا سکتے ہیں. اِس لیے بہتر ہے کہ آپ کی عورت بھی آہ و بکا کی بجائے ہنستے ہنستے چلی جائے تاکہ اُس کے مرد زندہ رہ سکیں. کیونکہ آپ کا اور امیروں کا کوئی مقابلہ نہیں ہے. امیر نہ صرف آپ کو جان سے مار دیتے ہیں بلکہ آپ کے خاندان کی زندگی بھی مستقبل میں جہنم  کا روپ  دھار  سکتی ہے. امیروں اور امیرزادوں کو یہ حق ہے کہ جب چاہیں جس جگہ چاہیں جس کی عزت برباد کرنا چاہیں کر سکتے ہیں، جب اور جہاں جس کو قتل کرنا چاہیں کر سکتے ہیں. قتل کرنے کے بعد غریب جیل میں قید ہوتا ہے جبکہ امیرزادے قتل کرنے کے بعد ہسپتالوں میں “قید” ہوتے ہیں. اب بھی اگر کوئی فرد اِس نظامِ زر کے حق میں بات کرتا ہے تو ڈوب مرے. حضرت عیسی علیہ السلام نے بجا طور پر فرمایا تھا کہ “اونٹ سوئی کے سوراخ سے گزر سکتا ہے مگر کسی امیر آدمی سے انصاف کی توقع ناممکن ہے”. (متی کی انجیل 19:23-24)

ایک طبقاتی سماج میں سیاست، مذہب، معیشت، صحافت، انصاف سمیت زندگی کے کسی بھی پہلو سے امیروں کی اجارہ داری کا خاتمہ ممکن نہیں ہے. سود کی لعنت سے لے کر انسانی اسمگلنگ تک، سیاسی بدعنوانی سے لے کر عدالتوں کی بےبسی تک… تمام غلیظ دھندوں کے عقب میں فقط دولت ہی موجود ہے. اِس منظرنامہ کو بدلنے کا صرف اور صرف ایک راستہ ہے، یعنی غیرطبقاتی سماج… امیروں کی شتربےمہار بدمعاشی کو روکنے کا واحد راستہ یہی ہے کہ دنیا بھر سے امیروں کی بےپناہ طاقت کا خاتمہ کیا جائے یعنی اُن کو قوت بخشنے والی دولت کا ذخیرہ اُن سے چھین لیا جائے. اگر شاہ رخ جوئی امیر نہ ہوتا تو کیا ہوتا؟

فاروق بلوچ
فاروق بلوچ
مارکسی کیمونسٹ، سوشلسٹ انقلاب کا داعی اور سیاسی کارکن. پیشہ کے اعتبار سے کاشتکار.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *