مضبوط ادارے مستحکم جمہوریت

ایک ریاست کے اندر مختلف اداروں کی تشکیل میں بیک وقت کئی مقاصد ہوتے۔ ایک نئے ادارے کی تشکیل سے فوری طور پر عوام کے مختلف طبقات( یعنی پڑھے لکھے ، کم پڑھے لکھے اور بالکل ان پڑھ) سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے لیے مختلف مراتب اور درجوں کے روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں جیسے کہ “سی پیک “سے پاکستان میں سینکڑوں لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں ، لوگ خود اپنے تئیں بھی چینی زبان سیکھنے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور حکومت کی جانب سے بھی چینی زبان سکھانے کا اہتمام کیا جا رہا ہے ۔
اداروں کی تشکیل میں بنیادی اہمیت اس بات کو حاصل ہوتی ہے کہ کیسے ریاست کے نظم و نسق کو بہتر سے بہترین بنایا جائے، کیسے ریاستی امور کو جلد از جلد اور احسن طریقے سے انجام دیا جائے اورکیسے عوام کو بنیادی سہولیات ، ضروریات اور حقوق فراہم کیے جائیں ؟ اداروں کی تشکیل کے وقت بنیادی اصول اور ضوابط کے ساتھ اداروں کی حدود و اختیارات کا بھی خوب تعین کیا جاتا ہے تاکہ مختلف اداروں میں باہمی ٹکراؤ کی صورت پیدا نہ ہو۔اداروں کی تشکیل کے بعد بنیادی اہمیت اور توجہ اس بات پر صرف کی جاتی ہے اور فی الواقع کی بھی جانی چاہئیے کہ ادارے مکمل بااختیار بھی ہوں اور اداروں کا مجموعی نظام صاف و شفاف بھی ہو۔ایک ریاست کے اندر اریاستی ادارے نہ صرف حکومتی رٹ کو برقرار رکھتے ہیں بلکہ حکومتی کارکردگی ریاستی اداروں کی مجموعی پراگرس میں ہی بولتی ہے ۔
اداروں کی تشکیل کے بنیادی ضوابط اور اصول سمجھ لینے کے بعد اگر پاکستانی اداروں کا جائزہ لیا جائے تو صورت حال مایوس کن ہی نہیں بلکہ دل ہوتا ہے سی پارہ کی سی کفیت ہے۔ کرپشن ، رشوت، سفارش، اختیارات کا بے جا استعمال اور سیاسی اثر ورسوخ تو گویا ہمارے نظام کی رگ و جاں میں سرائیت کیے ہوئے ہے ۔ ہمارے ہاں اگرچہ اداروں کی تشکیل کے وقت اداروں کو مکمل غیر جانبدار اور کلی مختار بنایا جاتا ہے لیکن عملی طور پر صورتحال اس سے یکسر مختلف ہے، ہمارے اداروں کے پاس کسی بھی بڑی شخصیت کے خلاف کارروائی کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے بلکہ خود ادارے ہی انہیں تحفظ فراہم کرتے ہیں ۔
اس حقیقت کا اعتراف سپریم کورٹ آف پاکستان کے ایک جج جسٹس شیخ عظمت سعید نے نیب کے پلی بارگین کیس میں ریمارکس دیتے ہوئے یوں کیا کے 250 روپے کی کرپشن کرنے والے کلرک کو تو جیل بھیج دیا جاتا ہے لیکن اربوں روپے کرپشن کرنے والوں کو چھوڑ دیا جاتا ہے ۔ سپریم کورٹ نے تو فقط ایک مثال کو حوالہ بنایا لیکن ایسے ہی درجنوں واقعات ہم خود صبح وشام اخبارات اور ٹی وی میں دیکھتے اور سنتے ہیں ، درجنوں ایسے واقعات برائے راست خود ہمارے مشاہدے میں آتے ہیں اور لاتعداد ہیں وہ لوگ جو آئے روز قانون و انصاف کی اس تفریق و امتیاز کا شکارہوتے ہیں ۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نےہی پانامہ کرپشن سکینڈل کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے نہ صرف نیب اور دوسرے اداروں کی کارگردگی پہ سوال اٹھایا بلکہ برہمی کا اظہار کیا اور اس بات کا اقرار کیا کے ادارے اپنی ذمے داریاں پوری نہیں کر رہے۔سانحہ کوئٹہ کی رپورٹ میں جب ذمے داروں کے تعین میں وفاقی وزارت داخلہ اور چوہدری نثار علی خان کو ذمے دار قرار دیا گیا تو اس دوران نیکٹا کے متعلق کچھ ایسی باتیں میری نظر سے گزریں جو واقعی حیراں کر دینے والی تھیں یعنی یہ کے چوہدری نثار علی خا ن نے جب وزارت کا چارج سنبھالا تو نیکٹا کا دفتر کرائے کی عمارت میں قائم تھا، چھ ماہ کا کرایہ بھی واجب ادا تھا اور نیکٹا میں فقط چھ افراد ملازم تھے۔چوہدری نثار نے ان کی تعداد میں اتنا اضافہ کیا کہ اب انکی تعداد چھبیس ہو گئی ہے جبکہ نیکٹا کا کہنا ہے کہ انہیں کم از کم آٹھ سو افراد کی ضرورت ہے۔
پاکستان کو درپیش چیلنجز میں سب سے بڑا چیلنج دہشت گردی اور کرپشن ہے اور ان دونوں چیلنجز سے نمٹنے والے اداروں کی روداد آپ نے جان لی اور یہ کسی مخالف سیاسی جماعت کا بیان یا اخباری رپورٹ نہیں ہے بلکہ ملک کی سپریم کورٹ کے الفاظ ہیں جو دوران سماعت ادا کیے گئے ہیں ۔ پاکستان کی تما م سیاسی جماعتیں اگرچہ کرپشن فری پاکستان کا منشور لیے انتخاب میں اترتی ہیں بلکہ اس وقت تو کرپشن کے خلاف باقاعدہ احتجاجی سلسلے بھی شروع کر رکھے ہیں ، تمام سیاسی جماعتیں اداروں کی خود مختاری اور مضبوط جمہوریت کی بات کرتی ہیں بلکہ ہر جماعت خود کو کسی نہ کسی صورت میں جمہورت کی چمئین قرار دیتی ہے لیکن تلخ حقائق یہ ہیں کہ یہ محض ہاتھی کے دانت ہیں جو کھانے کے اور دکھانے کے اور ہیں ۔
یہ تو پاکستان کے چند بڑے اداروں کی مثالیں ہیں، باقی وہ ادارے جنکے ساتھ عوام کا برائے راست واسطہ پڑتا ہے خود اپنی ذات میں ایک الف لیلا ہیں مگر یہ صفحات طوالت کے خوف سےان کے متحمل نہیں ہو سکتے لیکن اخبارات ، ٹی وی اور ذاتی مشاہدے سے ہر شخص حقیقت حال سے خوب واقف ہے ۔پاکستانی عوام ( باشمول سیاست دان) کا تصور جمہوریت نہائیت محدود ہے جو محض انعقاد الیکشن تک ہی محدود ہے حالانکہ محض بر وقت الیکشن کا ہونا ہی مکمل جمہوریت نہیں ہے ۔ الیکشن اور ریفرنڈم تو دور آمریت میں ہوتے رہے لیکن ایسے کسی بھی انتخابی عمل کو آج تک شرف قبولیت حاصل نہیں ہو سکا ۔ دور آمریت کے انتخابی عمل کو شرف قبولیت حاصل نہ ہونے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ آمریت شخص واحد کی حکومت ہوتی ہے جس میں افراد اور اداروں سے آزادی ، خودمختاری اور غیر جانب داریت چھین کر فرد واحد سے وفاداری کا حلف لیا جاتاہے اور من پسند نتائج حاصل کیے جاتے ہیں۔
مضبوط ادارے نا صرف جمہوریت کو آمریت سے ممتاز کرتے ہیں بلکہ مضبوط ادارے جمہوریت کی بنیادہیں ۔ اگر ادارے صاف شفاف اور غیر جانبدار ہوں گے تو ریاست کا مجموعی نظام بہتر ہوگا، عوام کا ریاست اور ریاست کے اداروں پر اعتماد بحال ہوگا جس سے معاشرے میں رائج ناجائز ذرائع سے کام نکلوانے کا عملی طور پر سدباب ہوگا۔
پاکستان میں اداروں کی موجودہ صورت ہی اگرچہ خود ایک المیہ ہے لیکن اس پر مزید المیہ یہ کہ حکام بالا اور ہمارے سیاست دانوں کی اس جانب نہ صرف توجہ ہی نہیں ہے بلکہ انہیں اپنی اس ذمے داری کا احساس تک نہیں ہے توگویا
حادثے سے بڑھ کر سانحہ یہ ہوا
لوگ ٹھہرے نہیں حادثہ دیکھ کر
اداروں کی اصلاحات حکومت وقت کی بنیادی ذمے داری ہے ،اگر ہم نےریاست کو حقیقی معنوں میں اندرونی طور پر مستحکم کرنا ہے تو ہمیں اپنے اداروں کے مجموعی نظام کو بہتر کرنا ہوگا۔ اس مقصد کے لیے اس وقت پاکستان میں اگرچہ مختلف اداروں میں اصلاحات کے لیے کمیٹیاں بنائی گئی ہیں لیکن ان کمیٹیوں کی موجودہ کارکردگی مایوس کن ہے۔ البتہ مستقبل کے بارے میں ان الفاظ کے ساتھ کے آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا اور نیک دعاوں کے ساتھ انتظار کیا جا سکتا ہے ۔

اعزاز کیانی
اعزاز کیانی
میرا نام اعزاز احمد کیانی ہے میرا تعلق پانیولہ (ضلع پونچھ) آزاد کشمیر سے ہے۔ میں آی ٹی کا طالب علم ہوں اور اسی سلسلے میں راولپنڈی میں قیام پذیر ہوں۔ روزنامہ پرنٹاس میں مستقل کالم نگار ہوں ۔ذاتی طور پر قدامت پسند ہوں اور بنیادی طور نظریاتی آدمی ہوں اور نئے افکار کے اظہار کا قائل اور علمبردار ہوں ۔ جستجو حق اور تحقیق میرا خاصہ اور شوق ہے اور میرا یہی شوق ہی میرا مشغلہ ہے۔ انسانی معاشرے سے متعلقہ تمام امور ہی میرے دلچسپی کے موضوعات ہیں مگر مذہبی وقومی مسائل اور امور ایک درجہ فضیلت رکھتے ہیں۔شاعری سے بھی شغف رکھتا ہوں اور شعرا میں اقبال سے بے حد متاثر ہوں اور غالب بھی پسندیدہ شعرا میں سے ہیں ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *