منہ میرا وزیراعظم ہاؤس کی طرف ۔،اللہ اکبر۔۔ساجد ڈاڈی

تبلیغی جماعت کے بارے میں ہمیشہ یہ ہی تصور رہا کہ یہ ایک غیر سیاسی جماعت ہے اور لوگوں کی اصلاح کرنا اور انہیں راہِ  راست پر لانے کی کوشش کرنا ان کا کام ہے۔جبکہ حقیقت بھی یہ ہی ہے کہ تبلیغی لوگ کسی پر تنقید کیے بغیر اسے سیدھے راستے کی تلقین کرتے ہیں۔تبلیغی جماعت پر عوامی تنقید بھی نہیں ہوتی ، وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ نہ کسی کو چور بولتے ہیں نہ ہی کسی کو ڈاکو، نہ کسی کو قاتل نہ کسی کو زانی۔ ظاہر ہے کہ جب آپ کسی کو برا بھلا نہیں کہیں گے تو آپ کو بھی کوئی برا بھلا نہیں کہے گا۔یہ ہی ایک عمل ہے جس نے اس جماعت کو ہمیشہ تنازعات سے دور رکھا اور عوام میں زبردست پذیرائی کا باعث بھی بنا۔

اکثر اوقات تبلیغی اکابرین یا کارکنان کے منہ سے اس طرح کی باتیں سننے کو مل جاتی ہیں کہ حکمران اس جماعت کی ہمدردی اور حمایت چاہتے ہیں لیکن اکابرین اپنی سیاسی رائے کا نہ تو اظہار کرتے ہیں اور نہ ہی کسی جماعت کی حمایت کا اعلان کرتے ہیں یہ بس اپنے مقصد کے حصول کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ نہ یہ میڈیا کو اپنی  تشہیر کا ذریعہ بناتے ہیں اور نہ ہی سرمایہ دار سے فنڈنگ کا مطالبہ کرتے ہیں۔

تبلیغی جماعت کی یہ خصوصیت کہ وہ حکمراں طبقے سے دور رہتی ہے عقلی اعتبار سے بھی درست ہے ،کیونکہ اگر علماء اور حاکم ہم نوالہ و  ہم پیالہ ہوجائیں تو عوام کی شنوائی کے لئے اور ا ن کے حقوق کی حفاظت کے لیے در ہی کون سا بچتا ہے پھر ۔ شاید یہ ہی وجہ ہے کہ احادیث کا ایک بڑا ذخیرہ اس جانب علما  کی توجہ دلاتا ہےکہ وہ حاکم وقت سے اپنے تعلقات کو اس قدر نہ بڑھائیں کہ حاکم کے دل سے علما  کا خوف اور رعب ودبدبہ جاتا رہے ۔

امام بخاری ؒ نے اپنی کتابِ تاریخ میں اور امام ابن سعد نے ’’طبقات‘‘ میں نقل کیا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
“آدمی حکمران کے پاس اپنے دین کے ہمراہ جاتا ہے لیکن جب نکلتا ہے تو اس کے پاس کچھ بھی باقی نہیں ہوتا‘‘۔

امام ابو عمرو الدانی ؒنے کتاب الفتن میں حسن سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
“یہ امت اس وقت تک اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں اور اس کے سایہ رحمت میں رہے گی جب تک کہ اس کے قاری (یعنی علما) اس کے امراء سے نہ لپٹیں گے‘‘۔

امام ابن عدی ؒ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاان ابغض الخلق الی اللّٰہ عالم السلطان
’’اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض ترین مخلوق حاکم کا (درباری ) عالم ہے‘‘۔

امام بیہقی ؒ نے ہی روایت نقل کی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
اتقوا ابواب السلطان
“حاکم کے دروازوں پر جانے سے بچو‘‘۔

بے شمار احادیث اس حوالے سے موجود ہیں جو علما  کرام کو بادشاہ وقت سے تعلقات بڑھانے سے روکتی ہیں ،کیونکہ اگر یہ دو اکائیاں ایک ہی ڈگر پر چل پڑیں تو پھر معاشرے میں فساد برپا ہونے کے امکانات پیدا ہوجاتے ہیں ۔عالم کا حکمرانوں سے قربت رکھنا،علما کا حاکموں سے مراسم رکھنا،اور سب سے بڑھ کر یہ کہ علما  کا حاکمِ  وقت کی حمایت اور دفاع کرنا، یہ وہ عوامل ہیں جو علما  سے حق گوئی کی صفت چھین لیتے ہیں جبکہ علما  کا خاصہ کلمہ حق بلند کرنا ہے۔

بدقسمتی سے ہمارے ملک میں بھی آج کل یہ رواج عام ہوچکا ہے یا عام ہورہا ہے جس میں علما حاکم ِ وقت کے دفاع اور ان کی خوبیاں(جو عوام کوتو نظر نہیں آتیں ) بیان کرنے میں اپنی توانائیاں صرف کرتے نظر آتے ہیں اور عوام کو یہ یقین دلانے کی ہر ممکن کوشش کررہے ہیں کہ ان کا حکمراں امانت داری اور دیانت داری کے اعلیٰ  مقام پر فائز ہے۔اگر تو واقعی ایسا ہے بھی تو یہ کام علما کا ہرگز نہیں ہے کہ وہ یہ بات عوام کو بتلائیں کیونکہ جو گزر رہی ہے وہ تو عوام پر ہی گزر رہی ہے اس لیے بہتر فیصلہ بھی عوام ہی کرسکتے ہیں نہ کہ علما کرام۔

دوسری بات یہ کہ کسی عالم کی جانب سے جب کسی حکمران کی تعریف وتکریم کی جائیگی اور ان کے مخالفین کو یاپھر پچھلے حکمرانوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جائیگا تو پھر ایک نئی محاذآرائی جنم لے گی جس میں عوام کا کچھ جائے نہ جائے یہ ضرور ہوگا کہ عوام کا اعتماد علماکرام سے اٹھتا جائےگا اور علما کرام کو تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑے گا جو کہ کوئی قابل ستائش بات تو ہے نہیں۔

اس تمام صورتحال میں علما کرام کا فرض ہے کہ خود کو متنازع ہونے سے بچائیں اور عوام میں اپنی ذاتی رائے پسند نا پسند کے اظہار سے اجتناب کریں کیونکہ عوام اپنے علماء سے عقیدت رکھتی ہے اور اپنی پسند و ناپسند کا معیار بھی وہ علماء کی تقلید کرکے ہی طے کرتی ہے۔اگر یہ سلسلہ چل نکلا تو پھر ہر سیاسی جماعت علماء کی خوشنودی حاصل کرنے کی تگ ودو میں مصروف عمل ہوجائے گی اور ہر حاکم وقت ایسے علما  کی تلاش میں رہے گا جو اس کی تعریف عوام میں بیان کرے اور جب کبھی حاکم کو کسی پریشانی یا عوامی تنقید کا سامنا ہو تو عالم نیت کرے کہ ” منہ میرا وزیراعظم ہاؤ س کی طرف اللہ اکبر۔”

ساجد ڈاڈی
ساجد ڈاڈی
فیس بک پر "اقبال جرم" کے نام سے موجود ہیں۔سیاسی معاملات پر اپنا نقطہ نظر برملا پیش کرتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *