کرپشن اور سوچنے والی مرغی

آپ نے توبتہ انصوح کے بارے میں تو سنا ہی ہوگا۔۔۔بنی اسرائیل میں بادشاہ کے دربار میں ایک مسخرا تھا،جس نے ایک بار موقع دیکھ کر بادشاہ کا ہار چرا لیا، بات بادشاہ کے علم میں آئی تو فوراً سب کو جمع کر کے تلاشی لینے کا حکم دیا۔۔اب نصوح کو فکر دامنِ گیر ہوئی کہ پکڑا گیا تو بہت برا حال ہوگا، جب کچھ سمجھ نہ آئی تو وہیں کھڑے کھڑے اللہ کے دربار میں فریاد کی۔۔فریاد کیا تھی بس اک ادائے دلربا تھی جو معبود کو ایسی بھائی کہ اسی وقت توبہ قبول فرمائی۔۔تلاشی کی باری آئی تو ہار کہیں اور سے برآمد ہوا۔۔اللہ نے اس کی توبہ کی بدولت عزت اور پردہ دونوں رکھ لیئے۔۔۔سننے میں آیا ہے کہ کرکٹر عرفان میچ فکسنگ میں پکڑے گئے تو توبہ کرکے وعدہ معاف گواہ بن گے۔۔چونکہ ہمارے منصف بھی خو د کو خدا سے کم درجہ دینے کو تیار نہیں ہیں اس لیئے کاں (کوا) کو چٹا کہیں یا کالا یہ ان کی مرضی ہے، انہیں عرفان کی توبہ بالکل بے معنی معلوم ہوئی اور انصاف کا بول بالا کرتے ہوئے فوراً غریب کے بال کو سزا سنا دی۔۔اب اس بیچارے کو کیا پتا تھا کہ توبہ قبول نہ ہوگی جو سچ بولنے پر نرمی کی امید لگا بیٹھا تھا ،کہ یہ خود ساختہ خدا کرم بھی اپنے منظور ِ نظرپر ہی کرتے ہیں۔۔جس کا چاہیں سفینہ پار لگا دیں،جس کی چاہیں کشتی ساحل پر ہی ڈبو دیں۔۔۔کون پوچھتا ہے! لیکن خیال غالب ہے کہ حرام منہ کو لگی شراب جیسا ہے،کمبخت چھوٹتا ہی نہیں۔۔۔ہمارے یہاں جن فنکاروں(جو اپنے کام میں طاق ہوں ،چاہے وہ چوری چکاری ہی کیوں نہ ہو) پر پابندیا ں لگ جائیں وہ پھر اپنی اکیڈمیاں بنا لیتے ہیں،حرام کو حلال کرنے کے لیئے۔۔
کہتے ہیں کہ دھوکہ گھوم پھر کر ایک دن دینے والے تک واپس آجا تا ہے،یعنی آپ کسی سے دھوکہ کریں اور غافل ہوجائیں لیکن دھوکہ غافل نہیں ہوتا، وہ پوری دنیا کا چکر لگا کر آپ تک واپس ضرور آتا ہے۔۔۔یونہی موسم کی ادا دیکھ کر اشفاق احمد صاحب کے یہ الفاظ یاد آگئے۔۔ارے بھئی احمد فراز کا موسم نہیں بلکہ کرپشن کا موسم جو ہمارے ملک میں سارا سال ہی سورج کی مانند سوا نیزے پر رہتا ہے۔
خبر تو ایک الہڑ مٹیار سی نیوز کاسٹر نے یہ بھی سنائی ہے کہ این ٹی ایس یعنی نیشنل ٹیسٹنگ سروس پہلے ہی آڈٹ میں پھنس گئی۔آڈٹ جنرل آف پاکستان کا کہنا ہے کہ این ٹی ایس کے کوئی قوائد و ضوابط نہیں ہیں۔اس میں اربوں کی کرپشن ہوئی ہے۔۔2003سے اب تک این ٹی ایس کا صرف ایک آڈٹ ہوا۔ایس ای سی پی کی جانب سے کیا گیا آڈٹ تکنیکی بنیادوں پر این ٹی ایس حکام نے مسترد کر دیا تھا،آڈٹ حکام کا مزید کہنا ہے کہ این ٹی ایس کامسیٹس کا منصوبہ تھا جسے بورڈ آف گورنر کی منظوری کے بغیر شروع کیا گیا تھا،کامسیٹس کا آرڈیننس بھی ایسی کمپنی کے قیام کی اجازت نہیں دیتا،شفافیت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے این ٹی ایس نے پروکیورمنٹ رولز(فراہمی کے اصول) تیار ہی نہیں کیے،این ٹی ایس کو میکنزم کے بغیرملک بھر سے 6.4ارب روپے وصول ہوئے۔این ٹی ایس کے پاس پروجیکٹس کی تٖفصیلات نہیں ہیں۔۔اب بندہ پوچھے بھائی جب یہ سب کچھ ہو رہا تھا تب کہاں تھے؟آج 14سال بعد کیسے ہوش و حواس میں لوٹ آئے سرکار؟پڑے سوئے رہتے کیا حرج تھا بھلا۔۔۔۔؟
یہاں سب چلتا ہے۔۔ملک دے رہا،ہم کھا رہے۔۔
ایک دن میں نے بُوا سے پوچھا۔۔کھانے کی چیزوں میں ایک چیز ایسی بھی ہے جو زبان پر میٹھی لیکن تاثیر میں انتہائی کڑوی ہے۔۔بوجھو تو جانیں؟
بُوا بولیں۔۔۔۔ارے بٹیا یہ کیا ہووے ہے؟
میں نے کہا۔۔دھوکہ!۔۔۔تو بڑی دیر تک ہنستی رہیں اور کہنے لگیں تم بڑی شرارتی ہو!!
میری ایک دوست اسٹیٹس میں ایم ایس سی ہے،انتہائی ذہین (اللہ نظرِ بد سے بچائیں)۔تین بار این ٹی ایس کا امتحان دے چکی ہے اس امید پر کہ اچھی نوکری مل جائے گی لیکن بھلا ہو ہمارے ایماندار افسران کا کہ جنہوں نے دو بار اسے انٹرویو کے روز یہ کہہ کر ریجیکٹ کر دیا کہ آپ کی ڈریسنگ ٹھیک نہیں ہے(برقع پہنتی ہے)اور اس کے نمبر کاٹ لیئے۔۔۔اب ذرا یہ سوچیئے کہ جو طالبعلم تین بار فیس جمع کرواتا ہے وہ بھی دو گریڈ کے امتحان کے لیئے یعنی نویں اور چودھویں سکیل کے لیئے تو اس کے کتنے پیسے لگ گئے ہوں گے؟ پھر امتحان گاہ اور انٹرویو گاہ جانے کا خرچہ الگ(یعنی یہ ایسا ہی ہے جیسے بکرا خود مذبح خانہ جا رہا ہو خوشی خوشی)اور پھر کتاب بھی مفت نہیں ملتی۔۔۔ہر سال پنجاب حکومت کی جانب سے سرکاری نوکریوں کا جھانسہ دیکر لاکھوں طالبعلموں سے کروڑوں روپے اکٹھے کیئے گئے۔کہاں گیا وہ پیسہ؟۔۔۔۔ابھی تو بتایا تھا،بھول بھی گئے؟۔۔۔بھئی یہ جو آڈٹ والی سرکار نے اینٹی لائس سے دھو کر ساری جوئیں باہرنکالی ہیں یہ ہی تو ہیں جو خون چوس رہی تھیں یعنی پیسہ اپنی جیبوں میں منتقل کر رہی تھیں۔اب یہاں کسی کا راز ایسے ہی تو کھلتا نہیں،بڑا بلیک میل ہونا پڑتا ہے۔۔جب آپ اکیلے اکیلے ہی ساری حرامخوری کیے جاؤ اور دوسروں کو حصہ نہ دو تو پھر راز تو کھلتے ہیں نا۔۔۔۔وہ بھی 14سال بعد!
یہاں ہر کیس کا فیصلہ ملا نصیر الدین کرتے ہیں جنہیں سب کچھ ٹھیک لگتا ہے یا بھرسب کچھ۔۔۔۔۔۔۔نہیں خیر غلط لگنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔۔۔ایک بار انہیں عدالت کا وزیر بنا دیا گیا،
چوری کا کیس آیا۔چور نے کہا جناب میں نے چوری نہیں کی۔
ملا نے کہ بات تو تمھاری ٹھیک لگتی ہی،
مدعی بولا جناب،یہ جھوٹ بولتا ہے۔
ملا بولے،تمھاری بات میں بھی وزن ہے۔
وکیل بولا،جناب کسی ایک کی بات درست ہے۔
آپ بولے، بات تمھاری بھی ٹھیک ہے۔
اسی طرح ایک بار ملاّ بازار سے گزر رہے تھے دیکھا کہ طوطے کا مول تول ہو رہا ہے،دیکھتے ہی دیکھتے طوطا مہنگے داموں فروخت ہو گیا، ملا نے جانوروں اور پرندوں کی یہ آؤ بھگت دیکھی تو دوسرے ہی دن اپنی مرغی لے کر باراز میں کھڑے ہو گئے،لیکن قیمت سو سوا سو سے زیادہ نہ لگی،تو غصے سے بولے کل ایک ہلکے وزن کا طوطا میری مرغی سے کئی گنا زیادہ قیمت میں خریدا گیا اور میری مرغی کی یہ بے توقیری۔۔۔؟
کسی نے کہا ملا جی وہ طوطا بولتا تھا۔۔۔ملا نے جھٹ جواب دیا،تو کیا ہوا۔۔میری مرغی کی خوبی یہ ہے کہ یہ سوچتی ہے۔۔ہم عوام بھی ایسی ہی مرغیاں ہیں جو سوچتی ہیں اور بولنے والے طوطے چاہے گالیاں ہی کیوں نہ دیں۔۔انہیں مہنگے داموں خریدلیا جاتا ہے۔

اسما مغل
اسما مغل
خیالوں کے سمندر سے چُن کر نکالے گئے یہ کچھ الفاظ ہی میرا تعارف ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *