اپریل فول۔۔۔ادھورا سچ

ہم لوگوں کو دہرے محاذ کا سامنا ہے ایک طرف تو کمرشل لبرلز کی غلط بیانیاں اور ادھوری تاریخ ، ادھورا سچ، اس کے مقابلے میں اصل حقائق کو آشکار کرنا اور دوسری طرف کٹھ ملائی ذہنیت اور اس کا تعصب پہ مبنی بیمار بیانیہ جس میں تاریخ کو مسخ کرنا تو درکنار جھوٹی تاریخ ہی ایجاد کرلی جاتی ہے اپنے تعصبات کو زندہ رکھنے کے لئے۔ زیرنظر ایک ایسی ہی جھوٹی تاریخ ہے جو مکمل طور پہ غلط ہے لیکن اس پہ واہ واہ بھی ہوئی۔
اپریل فول کی ابتدا کہاں سے ہوئی۔۔ اس پہ بحث ممکن ہے لیکن یہ بیان کی گئی تاریخ جھوٹ کے پلندے کے سوا کچھ نہیں۔ ویسے ملائیت نے ہم کو بچپن میں یہ بتایا کہ اپریل فول انگریزوں نے دھوکے سے ٹیپو سلطان کو مارنے کے بعد اس دن کی خوشی میں ایجاد کیا۔ وہ بھی جھوٹ تھا یہ بھی جھوٹ ہے لیکن بنیاد اس جھوٹ کی صرف مغرب اور جدیدیت سے نفرت میں پوشیدہ ہے۔ وہ ردعمل انتہائی ناکارہ ہے جو جھوٹی تاریخ ایجاد کرنے پہ آمادہ کرے۔
جب عیسائی افواج نے اسپین کو فتح کیا تو اس وقت اسپین کی زمین پر مسلمانوں کا اتنا خون بہایا گیا کہ فاتح فوج کے گھوڑے جب گلیوں سے گزرتے تھے تو ان کی ٹانگیں گھٹنوں تک مسلمانوں کے خون میں ڈوبی ہوتی تھیں جب قابض افواج کو یقین ہوگیا کہ اب اسپین میں کوئی بھی مسلمان زندہ نہیں بچا ہے تو انہوں نے گرفتار مسلمان فرما روا کو یہ موقع دیا کہ وہ اپنے خاندان کےساتھ واپس مراکش چلا جائے جہاں سے اسکے آباؤ اجداد آئے تھے ،قابض افواج غرناطہ سے کوئی بیس کلو میٹر دور ایک پہاڑی پر اسے چھوڑ کر واپس چلی گئیں، جب عیسائی افواج مسلمان حکمرانوں کو اپنے ملک سے نکال چکیں تو حکومتی جاسوس گلی گلی گھومتے رہے کہ کوئی مسلمان نظر آئے تو اسے شہید کردیا جائے ، جو مسلمان زندہ بچ گئے وہ اپنے علاقے چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں جا بسے اور وہاں جا کر اپنے گلوں میں صلیبیں ڈال لیں اور عیسائی نام رکھ لئے، اب بظاہر اسپین میں کوئی مسلمان نظر نہیں آرہا تھا مگر اب بھی عیسائیوں کو یقین تھا کہ سارے مسلمان قتل نہیں ہوئے کچھ چھپ کر اور اپنی شناخت چھپا کر زندہ ہیں اب مسلمانوں کو باہر نکالنے کی ترکیبیں سوچی جانے لگیں اور پھر ایک منصوبہ بنایا گیا ۔ پورے ملک میں اعلان ہوا کہ یکم اپریل کو تمام مسلمان غرناطہ میں اکٹھے ہوجائیں تاکہ انہیں انکے ممالک بھیج دیا جائے جہاں وہ جانا چاہیں۔اب چونکہ ملک میں امن قائم ہوچکا تھا اور مسلمانوں کو خود ظاہر ہونے میں کوئی خوف محسوس نہ ہوا ، مارچ کے پورے مہینے اعلانات ہوتے رہے ، الحمراء کے نزدیک بڑے بڑے میدانوں میں خیمے نصب کردیئے گئے جہاز آکر بندرگاہ پر لنگر انداز ہوتے رہے ، مسلمانوں کو ہر طریقے سے یقین دلایا گیا کہ انہیں کچھ نہیں کہا جائے گا جب مسلمانوں کو یقین ہوگیا کہ اب ہمارے ساتھ کچھ نہیں ہوگا تو وہ سب غرناطہ میں اکٹھے ہونا شروع ہوگئے اسی طرح حکومت نے تمام مسلمانوں کو ایک جگہ اکٹھا کرلیا اور انکی بڑی خاطر مدارت کی۔ یہ کوئی پانچ سو برس پہلے یکم اپریل کا دن تھا جب تمام مسلمانوں کو بحری جہاز میں بٹھایا گیا۔ مسلمانوں کو اپنا وطن چھوڑتے ہوئے تکلیف ہو رہی تھی مگر اطمینان تھا کہ چلو جان تو بچ جائے گی جان بچی تو لاکھوں پائے، دوسری طرف عیسائی حکمران اپنے محلات میں جشن منانے لگے ،جرنیلوں نے مسلمانوں کو الوداع کیا اور جہاز وہاں سے چلا دیئے ، ان مسلمانوں میں بوڑھے، جوان ، خواتین ، بچے اور کئی ایک مریض بھی تھے جب جہاز سمندر کے عین وسط میں پہنچے تو منصوبہ بندی کے تحت انہیں گہرے پانی میں ڈبو دیا گیا اور یوں وہ تمام مسلمان سمندرمیں ابدی نیند سوگئے۔ اس کے بعد اسپین میں خوب جشن منایا گیا کہ ہم نے کس طرح اپنے دشمنوں کو بیوقوف بنایا۔ پھر یہ دن اسپین کی سرحدوں سے نکل کر پورے یورپ میں فتح کا عظیم دن بن گیا اور اسے انگریزی میں First April Fool کا نام دیدیا گیا یعنی یکم اپریل کے بیوقوف ۔آج بھی دنیا میں اس دن کی یاد بڑے اہتمام سے منائی جاتی ہے اور لوگوں کو جھوٹ بول کر بیوقوف بنایا جاتا ہے۔ اس رسم کے نقصانات ہیں دشمنوں کی خوشی میں شرکت کرنا۔۔۔ جھوٹ بولنا اور ہلاکت پانا، اللہ کی ناراضگی پانا، مسلمان بہن بھائیوں کی تباہی و بربادی کی خوشی منانا۔۔ دنیا و آخرت میں تباہی ہی تباہی ہے۔

عمیر فاروق
عمیر فاروق
اپنی تلاش میں بھٹکتا ہوا ایک راہی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *