‎کشمیر، دوسرا رخ ۔۔۔۔۔ عامر کاکازئی

‎ہماری پاکستانی عوام، حکومت اور اس سے منسلک ادارے، اِس وقت ایک ایسے معصوم کشمیری نوجوان کی موت کو کیش کر رہے ہیں، جو شاید ایک اچھا ڈاکٹر بن جاتا یا پھر ایک سائنٹسٹ، مگر ہماری غلط پالیسیوں کی وجہ سے وہ ایک دھشتگرد بنا دیا گیا۔

‎ہم کو یہ نہیں پتہ کہ ہمارا ملک اس وقت عُزلت کی حالت میں ہے۔ ساری دنیا ہمیں دہشتگردوں کا یاور سمجھتی ہے۔ ایک اخباری رپورٹ کے مطابق حال ہی میں امریکن کانگریس مین اکھٹے ہوۓ، صرف ایک مقصد کے لیے اور وہ تھا، پاکستان کو ایک ایسے ممالک فہرست میں ڈالنا جو دھشتگردی کو فروغ دیتا ہے اور پوری دنیا کے دھشتگردوں کا مددگار ہے۔  ‎اس میٹنگ میں امریکہ کے کانگریس کے اراکین نے کہا کہ اب ہم پاکستان کو مزید برداشت نہیں کر سکتے ، جو اس خطہ میں امریکہ سے پیسے لے کر دھشگردوں ‎کی مدد کرتا رہا ہے۔ ‎کانگریس مین ولیم نے کہا کہ اس بات کا کوئی چانس نہیں کہ پاکستان اپنی تزوایتی گہرائ والی پولیسی کو تبدیل کرے اور دھشتگردوں کی مدد بند کر دے۔

‎امریکی ماہرین اور ایوانِ نمایندگان نے کہا کہ پاکستان امریکہ کو بیوقوف بنا رہا۔ پاکستان کو امداد دینے کا مطلب ہیے کہ ہم ایک مافیا کو پیسے دے رہے ہیں، جو ہمیں دھشتگردی کے نام پر ڈرا ڈرا کر ڈالر لیتا رہا ہے۔ ان لوگوں نے اس سے بھی سخت لفظ استعمال کرتے ہوۓ کہا کہ پاکستان نے ہمیں قربانی کا بکرا بنایا ہوا ہے، جب جی چاہا. ‎ہم سے پیسہ لیا اور جب جی چاہا اس پیسے سے دھشتگرد بنا کر ہمارے ہی خلاف ان کو استعمال کیا ۔ ‎ایک خطرناک بات جو امریکی کانگریس مین دینا رویربیکر نے کہی کہ امریکی حکومت بلوچستان کے لوگوں کے ساتھ ہیے، جنہیں ایک ظالم اور کرپٹ ملک مار رہا ہے۔ امریکی حکومت ان کی ازادی کے لیے پوری کوشش کرے گا۔

‎میرے بھولے بھالے پاکستانیوں ، یہ وہی کام ہو رہا ہے جو عراق اور لیبیا کے ساتھ ہوا۔ اب بھی وقت ہے دھشتگردوں کی ہر قسم کی حمایت سے اجتناب کرو۔ معصوم نوجوانوں کو مذہب کے نام پر گمراہ کرنا بند کرو۔ ان کو کسی تعمیری کام میں مصروف کرو۔ ان کو زہریلے سانپ مت بناؤ ورنہ یہ سانپ واپس آ کر ہمارے ہی بچوں کو ڈسیں گے، جیسے کہ ڈسا افغان فساد کے بعد۔

‎ہمیں یہ بات سمجھنی چاہیے کہ دھشتگردی سے کبھی کوئ قوم یا ملک ازاد نہیں ہوا۔ بہترین مثال فلسطین، چیچنیا، افغانستان،آئرلینڈ،تامل ناڈو(سری لنکا)، اور کشمیر کی ہے۔ جہاں برسوں بیت گۓ، لاکھوں معصوم جانیں دھشتگردی کی بھینٹ چڑھی، مگر کوئی حاصل نہ وصول۔ اور نہ مستقبل میں کوئی چانس ہیے ان کی ازادی کا یا امن کا۔اس پولیسی سے اپ اپنی اگلی نسل کو اوسر بنا ریے ہیں۔ اس وقت پوری دنیا میں صرف چین ہمارا دوست ہے مگر اخر کب تک وہ پوری دنیا کا دباؤ برداشات کرتا رہے گا؟ باقی کی دنیا اور خاص کر ہمارے پاس پڑوس کے ملک ہماری دھشگردوں کو سپورٹ کرنے کی پولیسی سے پہلے ہی تنگ ہیں۔ اگر امریکہ نے پاکستان کو ایک دھشتگرد ریاست کا، اقوامِ متحدہ کے زریعے اعلان کروا کے پابندیاں لگوا دیں تو پھر شاید چین بھی کچھ نہ کرسکے۔ اس وقت چین، سفارتی زبان میں بار بار ہمیں خبردار کر رہا ہے کہ اب بس کردو، میرا ہاتھ پکڑو اور ترقی کرو، ورنہ سی پیک دھری کی دھری رہ جاۓ گی اور شاہد ہمارا حال لیبیا اور عراق سے بھی بُرا ہو۔

‎کشمیر کے مسلئے کا آبرومند حل صرف ایک ہے، اور وہ ہے، ‎کشمیر کے مسئلے کو عارضی طور پر متحجّر کر دو پچاس سال کے لیے، یا اس سے بھی زیادہ اور کھول دو راستہ کہ تجارت شروع ہو، تاکہ غریب کشمیری کو فائدہ ہو۔ ‎مگر ہم اس خبط میں مبتلا ہیں کہ ہم ایک عظیم مسلم ریاست ہیں جس کو خدا نے خاص طور پر اس دنیا میں مسلمانوں کے غلبے کے لیے بنایا ہے۔ اور شاہد اوپر سے غیبی فرشتے آہیں گے، ہماری مدد کو۔ ہم نے دھشتگردی کو وہ پگڈنڈی سمجھ لیا ہے جو جنت کو جاتی ہے۔

‎مگر شاہد ہم ایک اَبُوجھ قوم، سمجھنا ہی نہیں چاہتے۔ ہم برباد ہونا چاہتے ہیں، آباد نہیں۔

Advertisements
julia rana solicitors london

“مکالمہ” کا مصنف کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر۔ 

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply