مسٹر ٹیلرسن، ڈومور کی باری اب ہماری۔۔۔ عمران خان

امریکی وزیر خاجہ کے دورہ پاکستان کے دوران امریکہ نے پاکستان کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کا بے داغ منصوبہ بنایا تھا مگر بعض اوقات شکاری جس طرح اپنے ہی پھندے میں خود پھنس جاتا ہے، اسی طرح یہ منصوبہ امریکہ کے اپنے گلے کی ہڈی بن گیا، جسے اب نہ اگلے بن پا رہی ہے اور نہ نگلے۔ اس پہ مرے کو سو درے کہ وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن جو ڈومور کا پلندہ تھامے پاکستان آنے کو پر تول رہے تھے، انہیں اس پلندے کے ساتھ ایک عرضی لکھنے کی ضرورت پیش آن پڑی ہے کہ جس میں ان امریکی ایجنٹس کی خاموش اور محفوظ رہائی کی بات کی گئی ہے جو کہ چند دہشت گردوں کے ہمراہ پاک افغان سرحدی علاقے میں پاکستانی فورسز کے ہتھے چڑھے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن جو کہ اپنے کثیر الملکی بیرونی دورے کا آغاز سعودی عرب سے کرچکے ہیں۔ اپنے آٹھ روزہ دورے میں انہوں نے قطر، سوئٹزرلینڈ کے ساتھ ساتھ پاکستان اور بھارت میں بھی قدم رنجہ ہونا ہے۔ ان کے پاک بھارت دورے میں فرق محض اتنا ہے کہ وہ بھارت میں تعلقات کے فروغ، دہشت گردی کے ضمن میں امریکہ بھارت تعاون بڑھانے کے عزم اور تجارت، دفاع سمیت سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی میں بھی ایک دوسرے کو تعاون کی یقین دہانی کرائیں گے۔ دورہ بھارت کے دوران عین ممکن ہے کہ ان دہشت گرد تنظیموں کا نام لیکر پاکستان کو معتوب ٹھہرائیں کہ جن سے بھارت سرکار ناخوش ہے۔ اس کے برعکس دورہ پاکستان کے دوران امریکی خارجہ بڑے نپے تلے انداز میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے تعاون کی اہمیت کا ذکر کریں گے، زیادہ مہربان ہوئے تو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جو جانی قربانیاں پاکستان نے دی ہیں، ان کی تحسین و ستائش کریں گے، تاہم ساتھ ساتھ دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خلاف کارروائی کی اہمیت بیان فرما ئیں گے۔ یہ قیاس آرائی امریکہ کی جانب سے نئی افغان پالیسی کے اعلان کے بعد پاکستان اور امریکہ کے مابین جاری روکھے بیانات کے تناظر میں کی گئی ہے۔

پاکستانی وزیر خارجہ خواجہ آصف کے دورہ امریکہ کے دوران امریکی ہائی کمان نے انہیں حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کے حوالے سے اتنا پریشرائز کیا کہ انہیں اپنی زبان سے یہ اعلان کرنا ہی پڑا کہ پاکستان اور امریکہ ملکر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کریں گے اور پاک افغان سرحد سے دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ختم کریں گے، چونکہ امریکہ نے یہ یقین دہانی سیاسی قیادت سے لی تھی اور اس قیادت نے بھی یہ یقین دہانی کرانے سے قبل پاک فوج کو اعتماد میں نہیں لیا تھا، چنانچہ خواجہ آصف کی پاکستان آمد سے قبل ہی آئی ایس پی آر نے بیان جاری کیا کہ پاکستان کی حدود میں کسی ملک کے ساتھ ملکر کوئی آپریشن نہیں کیا جائے گا۔ بعدازاں وزیر داخلہ احسن اقبال جب اسحاق ڈار کی جگہ اقتصادی فورم کے اجلاس میں شرکت کیلئے امریکہ میں موجود تھے تو پاک فوج کے ترجمان نے پاک معیشت پہ اظہار تشویش کیا۔ جس کے جواب میں وزیر داخلہ کو امریکہ سے ہی سخت بیان جاری کرنا پڑا۔ اس بیان کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ معیشت کا دارومدار پرامن حالات پہ ہے۔ اگر حالات بہتر نہیں ہوں گے تو معیشت کیسے ترقی کرے گی اور یہ بات تو پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ ملک میں پائیدار قیام امن کی ضمانت تو فوج ہی دے سکتی ہے، نہ ہی سیاسی حکومت اور نہ ہی امریکہ۔ دو وفاقی وزراء کے امریکی دوروں کے دوران آئی ایس پی آر کی جانب سے معمول سے ہٹ کر دونوں بیانات بظاہر اپنی حکومت سے معمولی اختلاف کا اظہار تھے، تاہم درحقیقت دونوں مرتبہ امریکہ کو یہ پیغام دینا مقصود تھا کہ پاک فوج وہ امریکی پالیسی جو بھارتی خواہشات سے ہم آہنگ ہے، کسی بھی طور قبول کرنے پر تیار نہیں۔

امریکی وزیر خارجہ ٹیلرسن کے دورے سے قبل امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف پاک فوج کے کردار کو بٹہ لگانے کیلئے ایبٹ آباد آپریشن طرز کا ایک اور منصوبہ بنایا۔ منصوبہ کچھ یوں تھا کہ 2012ء میں افغانستان میں اغواء ہونے والی امریکی کینیڈین فیملی کو 12 اکتوبر کو پاکستان میں داخل کیا گیا۔ یہ فیملی جس میں امریکی خاتون، اس کا کینیڈین شوہر اور تین بچے جن کی پیدائش قید کے دوران ہی ہوئی تھی، پہ مشتمل تھی۔ امریکی انٹیلی جنس اداروں نے 11 اکتوبر کو ہی اس کی اطلاع پاک فورسز کو دی کہ یہ مغوی فیملی پاکستان میں موجود ہے، لہٰذا اسے بازیاب کرایا جائے، حالانکہ اس وقت تک یہ فیملی افغانستان میں تھی۔ قرین قیاس یہی تھا کہ پاک فوج اس اطلاع کی تردید کرے گی۔ اطلاع کے اگلے ہی دن مذکورہ فیملی کو پاک افغان سرحد کے اس علاقے سے پاکستان میں داخل کیا گیا کہ جو سب سے زیادہ انٹیلی جنس کی کڑی نگرانی میں بھی ہے اور امریکہ اسی علاقے میں حقانی نیٹ ورک کی محفوظ پناہ گاہوں کا راگ الاپ کر پاک فوج سے کارروائیوں کا مطالبہ کرتا ہے، جبکہ پاکستان اس کی تردید کرتا ہے۔ امریکی منصوبے کے تحت اس فیملی کو کرم ایجنسی میں منتقل کرکے امریکی کمانڈوز نے سرجیکل سٹرائیک کے ذریعے اسے بازیاب کرانا تھا اور اپنے غلط موقف کو درست ثابت کرنا تھا کہ دہشت گردوں کی مذکورہ علاقے میں محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں۔ دوسری جانب امریکی منصوبے کی کامیابی کی صورت میں پاک فوج کو  نہ چاہتے ہوئے بھی اقرار کرنا پڑتا کہ مذکورہ آپریشن مشترکہ حکمت عملی کا نتیجہ تھا، جبکہ پارلیمنٹ میں بعض سیاست کار بھی بڑے جوش و جذبے سے یہ سوالات دہراتے نظر آتے تھے کہ ’’ہمارا سوال تو یہ ہے کہ مذکورہ فیملی پانچ سال سے اگر یہاں موجود تھی تو اس کی خبر کیوں نہیں ہوئی۔؟‘‘ جبکہ وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نہ صرف ایسی سٹرائیکس کو پاکستان کی ضرورت ثابت کرتے بلکہ ڈومور کا تیار پلندہ بھی منہ پر مار کے دو لفظ ’’ڈو اٹ‘‘ کہہ کے چلتے بنتے۔

کہتے ہیں نا کہ جب قسمت بری ہو تو اونٹ پہ بھی کتا کاٹ لیتا ہے۔ امریکی منصوبے کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند رکھنے والے کبوتر مغوی جوڑے کی افغانستان میں نقل و حرکت پہ تو آنکھ رکھے ہوئے ہی تھے، ساتھ ہی انہیں منصوبے کی بھنک بھی پڑ گئی۔ 12 اکتوبر کو جیسے ہی یہ مغوی جوڑا پاکستان میں داخل ہوا۔ پہلے سے تشکیل دی گئی خصوصی ٹیم نے کارروائی انجام دے ڈالی اور نہ صرف مغوی جوڑے کو بازیاب کرا لیا بلکہ غیر اہم اغواء کاروں کو ہلاک اور اہم ترین افراد کو گرفتار کر لیا۔ گرفتار اہم افراد میں سے ایک کی کڑیاں تو سی آئی اے سے ملتی ہیں، سو ملتی ہیں۔ اس پہ مرے کو مارے شاہ مدار، اسی روز جنوبی وزیرستان میں بھی اسی طرز پہ تشکیل دیئے گئے خصوصی دستے نے مصدقہ اطلاع پر کارروائی کرکے گیارہ افراد کو گرفتار کیا۔ جن میں سے دو افراد امریکی شہری اور سی آئی اے اہلکار نکلے ہیں۔ ایک ہی دن میں تین امریکیوں کی گرفتاری نے امریکی حکومت اور وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن کو نہ صرف بیک فٹ پر جانے پہ مجبور کر دیا ہے بلکہ پاکستان ڈومور سننے کے بجائے ڈومور کہنے کی پوزیشن میں آگیا ہے۔

جب ہی ایک قومی روزنامہ میں ایک لمبی چوڑی رپورٹ شائع ہوئی ہے کہ پاکستان نے ریکس ٹیلرسن کو نو ڈومور کہنے کا فیصلہ کیا ہے، حالانکہ یہ رپورٹ اس لحاظ سے غلط ہے کیونکہ پاکستان نے امریکہ کو ڈومور کہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ انہی گرفتاریوں کا ہی ثمر ہے کہ کبوتروں کی غٹرغوں پہ امریکہ نے افغانستان میں اپنے اور بھارت کے ہردلعزیز دہشت گرد عمر خالد خراسانی اور اس کے دیگر ساتھیوں پر ڈرون حملہ کرکے انہیں موت کے گھاٹ اتار دیا ہے، جس کی تصدیق طالبان، امریکہ، پاکستان اور عالمی ذرائع ابلاغ نے کی ہے۔ تاہم پاکستان نے امریکہ کو اگلا ہدف کنڑ میں موجود ٹی ٹی پی ہیڈ ملا فضل اللہ کا دیا ہے۔ آئندہ چند روز میں دوچار مزید امریکی ڈرون حملے متوقع ہیں۔ سی آئی اے ایجنٹس کی فاٹا سے گرفتاریوں کو ظاہر نہ کرکے اداروں نے وفاقی حکومت کو امتحان میں نہ ڈالنے کا مستحسن فیصلہ کیا ہے۔ دورہ پاکستان کے دوران امید یہی ہے کہ کوئی نہ کوئی پاک عوام کا حقیقی نمائندہ ضرور کہے گا۔ مسٹر ٹیلرسن: ڈومور کہنے کی باری اب ہماری۔

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *