• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • برف میں جمتا یورپ اور ایرانی گیس/ڈاکٹر ندیم عباس

برف میں جمتا یورپ اور ایرانی گیس/ڈاکٹر ندیم عباس

یوکرین روس جنگ زوروں پر ہے، ممکنہ طور پر یہ ختم ہوسکتی تھی، مگر امریکہ کی ترجیحات میں اس جنگ کا روکنا شامل نہیں ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادی چاہتے ہیں کہ اس جنگ کو طول دیا جائے۔ اسی لیے وہ یوکرین کو کچھ مدت بعد ایسے ہتھیار فراہم کر دیتے ہیں، جس سے روسی افواج کو کافی نقصان پہنچتا ہے اور ان کی پیش قدمی رک جاتی ہے۔ روس دوبارہ سے بھرپور حملے کرتا ہے اور یوکرینی افواج کو پسپائی اختیار کرنا پڑتی ہے۔ ابھی کریمیا اور روس کو ملانے والے پل پر ہونے والے ٹرک حملے کو دیکھ لیں، یہ ایک بڑا حملہ تھا، جس نے روس کو بڑا چیلنج دیا، مگر اگلے ہی روز روس کے جوابی حملوں نے یوکرین کے بڑے شہروں کو ہلا کر رکھ دیا۔

امریکہ کا خیال یہ ہے کہ اس کے ساتھ افغانستان میں جو کچھ ہوا، وہ اس کا بدلہ فوری روس سے چکتا کرے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ روس یوکرین تنازع کو پھیلانا چاہتا ہے۔ اگر امریکہ اور یورپ یوکرین کی پشت پناہی نہ کرنے تو یہ جنگ کب کی ختم ہوچکی ہوتی اور دنیا اس وقت اس بحرانی کیفیت سے نہ گزر رہی ہوتی۔ یوکرینی باشندے بھی پوری دنیا میں یوں دربدر نہ ہوتے۔ یوکرین کی جنگ نے پوری دنیا کو انرجی اور خوراک کے بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ یوکرین دنیا کا بڑا گندم پیدا کرنے والا ملک ہے، اسی طرح آئل اور دیگر کئی اجناس بھی بڑی مقدار میں برآمد کرتا ہے۔ جنگ کی وجہ سے جب سپلائی لائن ٹوٹی تو گندم اور آئل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں، جس سے دنیا کی غریب ترین آبادی متاثر ہوئی۔

یورپ روس سے ہی اپنی انرجی بالخصوص گیس کی ضروریات پوری کرتا ہے، اس لیے اب یہ مخزن بھی یورپ کے لیے مکمل بند نہ بھی کہیں، کافی حد تک بند ہوچکا ہے۔ کہنے کو یہ بات آسان ہے، مگر عملی طور پر یہ سردیاں یورپ کے لیے تباہ کن ثابت ہونے والی ہیں۔ یورپ میں شدید سردی پڑتی ہے اور لوگ گھروں کو روسی گیس سے ہی گرم رکھتے تھے، اب یہ سہولت نہیں رہی۔ ویسے یورپ کو گیس فراہم کرنے والی پائپ لائنز سمندر میں مشکوک انداز میں لیکج کا شکار ہوگئیں۔ یورپ نے کہا کہ یہ حادثہ نہیں بلکہ انہیں لیک کیا گیا ہے۔ یعنی کوئی قوت ہے، جو یہ چاہتی ہے کہ یورپ کو یہ سردیاں بہرحال بھاری پڑیں۔

جرمنی اور دیگر یورپی ممالک اب گیس کے لیے بین الاقوامی مارکیٹ میں یورو لیے پھر رہے ہیں کہ کچھ انتظام ہوسکے۔ ان کا انتظام ہو نہ ہو، ان امیر ممالک نے پاکستان جیسے غریب ممالک کی عوام کا کباڑہ کر دیا ہے، کیونکہ ان ممالک کے منہ مانگی قیمت پر گیس کی فراہمی کی آٖفرز سے ہمارے ہاں گیس مہنگی ہوگئی ہے۔ جرمن قیادت کے مشرق وسطیٰ کے طوفانی دورے گیس کے حصول کے لیے ہی تھے۔ تیل کی قیمتیں کچھ عرصے سے کم ہو رہی تھیں، مگر اب یہ صورتحال بھی تبدیل ہو رہی ہے، بیس لاکھ بیرل کی پروڈکشن میں کمی کی گئی ہے، اس کا نتیجہ یہ ہے کہ امریکہ سمیت یورپ میں تیل کی قیمتیں دوبارہ سے اوپر جانے لگی ہیں۔

سعودی عرب اور عرب امارات سمیت کئی گرمی سردی کے امریکی دوستوں نے امریکہ کا ساتھ نہیں دیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان ممالک کے ڈالر کے ذخائر بڑی تیزی سے کم ہو رہے تھے، اب انہیں ڈالر کمانے کا موقع ملا ہے تو وہ اخلاقی اپیلوں کا ایک حد تک ہی پاس رکھیں گے۔ مشہور تجزیہ نگار وصی بابا نے لکھا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے امریکہ سعودی تعلقات پر نظرثانی کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کے قریبی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ تعلقات اہم ہیں، ہم ان کو برقرار رکھنا اور آگے چلانا چاہتے ہیں، لیکن اب نظرثانی ضروری ہے۔ امریکہ میں مڈٹرم الیکشن سے پہلے سعودیہ نے تیل کی پروڈکشن میں کٹ لگا کر بائیڈن اور ڈیموکریٹس کو ایک دھکا لگایا ہے۔ امریکہ میں تیل کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے۔ سعودیہ سے تعلقات پر نظرثانی کی سب سے تگڑی آواز اہم ڈیمو کریٹ سینیٹر باب مینڈیز نے اٹھائی ہے۔ یہ یو ایس سینیٹ کی فارن ریلیشن کمیٹی کے چیئرمین ہیں۔

اس ساری صورتحال میں ایک بات تو طے ہے کہ یہ سردیاں یورپ پر کافی بھاری پڑنے والی ہیں۔ ایک تجزیہ نگار نے یورپ کو خوب یاد دلایا تھا کہ تمہاری پابندیوں کی وجہ سے ایران میں خواتین اور بچے بڑے تعداد میں متاثر ہوئے اور اب یہی صورتحال تمہیں خود درپیش ہے۔ انسانوں کی تکلیف پر تکلیف ہی ہونی چاہیئے، مگر دنیا کی سیاست کو تشکیل دینے والے اب خود اسی کے اثرات کی زد میں ہیں۔ یورپ اگر چاہتا ہے کہ سردیوں میں خود کو گرم رکھ سکے تو فوری حل صرف اور صرف ایران ہے۔ آپ پسند کریں یا پسند نہ کریں، یہ آپ کی مرضی ہے، مگر آپ کے مسائل مستقل بنیادوں پر صرف ایرانی گیس سے حل ہوسکتے ہیں۔ ایران سے براستہ ترکی مختصر ترین روٹ کو اختیار کرتے ہوئے گیس یورپ کے گلی کوچوں میں پہنچ جائے گی۔

Advertisements
julia rana solicitors london

اسرائیلی اور امریکی لابی بار بار یہ کوشش کرتی ہے کہ ایران میں مرضی کی کٹھ پتلی حکومت لا کر ایسا کیا جائے، انہیں یہ بات ذہن سے نکال دینی چاہیئے۔ ایران میں نظام کو عوامی حمایت حاصل ہے اور عوام کے خلاف آنے والوں کی وہی حالت بنتی ہے، جو ہر دس سال بعد ایران دشمن قوتیں دیکھتی ہیں۔ اب یہ امریکہ اور یورپ کی مرضی ہے، چاہیں تو خود بھی خون جما دینے والی سردی میں عوام کو خوار کرائیں یا امن کا راستہ اختیار کیا جائے اور ایران کے وسائل سے فائدہ اٹھایا جائے، کیونکہ ایران کو نظر انداز کرنا عملی طور پر ناممکن ہوچکا ہے۔ ایران کے پاس شنگھائی تعاون تنظیم کے ممالک اور دنیا کی آدھی آبادی کی مارکیٹ آچکی ہے، اسے آپ کی ضرورت نہیں رہی۔

Facebook Comments

ڈاکٹر ندیم عباس
ریسرچ سکالر,اور اسلام آباد میں مقیم ہیں,بین المذاہب ہم آہنگی کیلئے ان کے کام کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply